یہ آزادیٔ رائے نہیں ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۲ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۲۵ ستمبر ۲۰۱۲ء کی ایک خبر کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں امریکی مندوب ایلسن چمبرلین نے کہا ہے کہ ان کا ملک مذہب کی آزادی کو اظہار رائے کی آزادی سے الگ تھلگ نہیں سمجھتا بلکہ دونوں آزادیوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ امریکی مندوب نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی جانب سے توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزاد یوں کو محدود کیا گیا تو تشدد غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے۔

جنیوا میں امریکی مندوب اصل میں یہ بات کہنا چاہ رہی ہیں کہ توہین رسالت ؐاور توہین مذہب کو جرم قرار دینے کا مطالبہ مذہبی آزادی کو محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے جس سے اظہار رائے کی آزادی بھی متاثر ہوتی ہے اس لیے امریکی حکومت مسلمانوں کے اس عالمی مطالبہ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو بین الاقوامی قانون میں جرم تسلیم کیا جائے۔

لیکن یہ بات سراسر مغالطہ نوازی اور فریب کاری پر مبنی ہے، اس لیے کہ دنیا میں کسی مسلمان نے یہ مطالبہ سرے سے کیا ہی نہیں کہ مذہبی آزادی کو جرم قرار دیا جائے۔ مسلمان مذہبی آزادی کی حدود کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور کم و بیش ڈیڑھ ہزار سال سے اس کا احترام کرتے آرہے ہیں، اگر وہ مذہبی آزادی کا احترام نہ کرتے تو اسپین اور ہندوستان میں آٹھ آٹھ سو سال حکمرانی کرنے کے بعد جب وہ اقتدار سے محروم ہوئے تو ان ملکوں کی اکثریت غیر مسلم آبادیوں پر مشتمل نہ ہوتی۔ کیونکہ اگر اسپین پر دوبارہ قبضہ کے بعد ملکہ ازابیلا بہت سے مسلمانوں کو جبراً مسیحی بنا سکتی تھیں تو مسلمان حکمرانوں کے لیے بھی مسیحیوں کو زبردستی مسلمان بنانے کا راستہ اسی طرح کھلا تھا، لیکن وہ چونکہ مذہب کے لیے جبر کے قائل نہیں تھے اور مذہبی آزادی کی حدود کو اچھی طرح سمجھتے تھے اس لیے نہ انہوں نے اور نہ ہی مغل حکمرانوں نے اپنے ملکوں میں غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کے لیے کسی قسم کا جبر کیا۔

اس لیے بات مذہبی جبر یا آزادی کی نہیں بلکہ مذہب کی توہین اور مذہبی مقتداؤں کی تحقیر کی ہے جسے مذہبی آزادی کے نعرہ کی آڑ میں برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ کس قدر افسوسناک بات ہے کہ امریکی دانش اس واضح حقیقت کو سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ آزادی اور توہین میں بہت بڑا فاصلہ ہے اور آزادیٔ رائے کے نام پر تحقیر اور توہین کا حق طلب کرنا یا کم از کم اسے جرم تسلیم نہ کرنا ضد اور ہٹ دھرمی کے سوا کچھ نہیں ہے جس سے مغربی حکمرانوں کے اخلاقی دیوالیہ پن کا بھی بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔

درجہ بندی: