لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۳ء

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے غازی عبد الرشید شہید ؒ،ان کی والدہ محترمہ ؒ اور دیگر شہداء کے قتل کا کیس جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

اگرچہ تادم تحریر یہ کیس درج نہیں ہو سکا اور اخباری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد پولیس اس سلسلہ میں ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے سے یہ بات ایک بار پھر قوم کے سامنے واضح ہوگئی ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے خلاف وہ خونی آپریشن جنرل پرویز مشرف کی ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا جس کے نتیجے میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ شہید ؒ کی اہلیہ محترمہ ؒ اور ان کے فرزند غازی عبد الرشید شہیدؒ سمیت بہت سے افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا، پوری قوم غم و اندوہ میں ڈوب گئی تھی اور اس حوالے سے غم و غصہ اور اضطراب و بے چینی کی کیفیت ابھی تک قوم پر طاری ہے۔

راقم الحروف وفاق المدارس العربیہ کے اس اعلیٰ سطحی وفد میں شامل تھا جو جامعہ حفصہؓ کے محاصرہ کے دوران متوقع فوجی آپریشن کے امکانات کو محسوس کرتے ہوئے اس مقصد کے لیے اسلام آباد گیا تھا کہ کسی طرح مفاہمت کی کوئی صورت نکال کر اس متوقع آپریشن کو روکا جائے۔ اس وفد کی قیادت حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم فرما رہے تھے اور اس میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور دیگر بہت سے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ راقم الحروف بھی شریک تھا۔ ہم مذاکرات کے آخری مراحل تک بلکہ آپریشن کے آغاز سے گھنٹہ دو گھنٹے قبل تک مذاکرات کے عمل میں شریک رہے ہیں، وزیر اعظم شوکت عزیز، مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، وزیر قانون جناب وصی ظفر اور وفاقی وزیر جناب اعجاز الحق کے ساتھ تمام معاملات طے پا کر ایک معاہدہ پر اتفاق ہوگیا تھا جسے فون پر سن کر غازی عبد الرشید شہیدؒ نے بھی اس سے اتفاق کر لیا تھا مگر جنرل پرویز مشرف نے اس معاہدے کو مسترد کر کے اس کے فورًا بعد آپریشن کا حکم دے دیا جس کے نتیجے میں وہ عظیم المیہ اور سانحہ رونما ہوا۔

اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ عدل و انصاف کا عین تقاضہ ہے، اس پر عملدرآمد سے نہ صرف مظلوموں اور متاثرین کی کسی حد تک اشک شوئی ہوگی بلکہ جنرل (ر) پرویز مشرف جیسے مطلق العنان ڈکٹیٹروں کی من مانیوں کا راستہ بھی روکا جا سکے گا۔