افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۳ء
اصل عنوان: 
طالبان کے ساتھ مذاکرات اور ہماری ذمہ داریاں

نئی حکومتوں نے وفاق اور صوبوں میں اقتدار سنبھال لیا ہے اور اپنے اپنے ایجنڈے کے مطابق وہ مصروف عمل ہو گئی ہیں۔ انتخابات میں مرکزی حکومت اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ خود اس کی اپنی توقعات سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت نئی حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ڈرون حملوں کے ماحول میں ملکی خود مختاری کی بحالی، خود کش حملوں کے حوالہ سے ملک میں بد امنی اور قتل و غارت کے روز افزوں واقعات، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب سر فہرست ہیں، اور میاں محمد نواز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے ہی ان مسائل کے حل کے لیے پیشرفت کا اعلان کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ مسائل ورثہ میں ملے ہیں اور گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، یہ بات درست ہے لیکن صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہے بلکہ سابقہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پالیسیوں کا رخ تبدیل کرنا اور قومی پالیسیوں کو صحیح رخ پر چلانا نئی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہونی چاہیے۔

افغانستان میں طالبان کے ساتھ امریکی حکومت نے مذاکرات کا قطر میں اہتمام کر لیا ہے اور اس کے سوا کوئی چارہ کار بھی نہیں تھا۔ طالبان بظاہر ایک گروہ کا نام ہے لیکن اس ٹائٹل کے پیچھے دراصل پوری افغان قوم امریکی جارحیت کے خلاف اسی طرح ملکی آزادی اور قومی خودمختاری کی جنگ لڑ رہی ہے جس طرح انہوں نے روسی جارحیت کے خلافت جنگ لڑی تھی اور بالآخر کامیابی حاصل کی تھی۔ ہمیں یقین ہے کہ طالبان اور ان کی قیادت میں افغان قوم امریکہ کے خلاف اس جہاد اور جنگ آزادی میں بھی سرخروئی حاصل کرے گی اور افغانستان بالآخر ایک آزاد اور خودمختار اسلامی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر دوبارہ نمودار ہو گا، البتہ ابھی اس راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں اور بہت سی مشکلات کا افغان قوم کو سامنا کرنا پڑے گا۔ البتہ اس موقع پر یہ ضروری ہے کہ پاکستان کی حکومت اپنی ترجیحات کا ازسرنو جائزہ لے اور نیٹو افواج کو افغانستان سے واپسی کا محفوظ راستہ فراہم کرنے کے اہتمام کے ساتھ ساتھ افغان قوم کی جنگ آزادی اور جہاد کے فطری اور نظریاتی مقاصد کی تکمیل کو بھی اپنی ترجیحات کا حصہ بنائے۔

امریکہ کی خواہش اور کوشش یہ نظر آرہی ہے کہ وہ بھی سوویت یونین کی طرح افغان قوم کو باہمی لڑائیوں میں مصروف چھوڑ جائے بلکہ اس کے لیے راستہ بھی ہموار کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ جہاد افغانستان کے فطری اور نظریاتی مقاصد کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور وطن عزیز کی سالمیت و خودمختاری کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے افغان قوم کے مختلف عناصر کے درمیان مفاہمت اور ہم آہنگی کے فروغ کا اہتمام کرے تاکہ نیٹو افواج کی متوقع واپسی کے بعد وہی صورتحال دوبارہ نہ پیدا ہو جائے جو روسی افواج کی واپسی کے بعد پیدا ہو گئی تھی اور افغانستان کو ایک خوفناک خانہ جنگی کی دلدل میں دھکیل دیا گیا تھا۔ اس حوالہ سے حکومت میں شامل ایسے افراد کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے جو ان معاملات کو سمجھتے ہیں اور ان سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

اسی طرح ملک کی عمومی سیاست اور مذہبی جدوجہد کے ماحول میں بھی اس مسئلہ کے تناظر میں ہم آہنگی اور مفاہمت کے عمل کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حالیہ انتخابات میں دینی جماعتوں نے متحدہ مجلس عمل یا اس نوعیت کے کسی متحدہ فورم پر الیکشن میں حصہ لیا ہوتا تو پارلیمنٹ میں ان کی مضبوط لابی کے ساتھ ساتھ مشترکہ انتخابات کے دوران پیدا ہونے والی عوامی بیداری کی لہر بھی آج افغان طالبان کے لیے مضبوط پشت پناہ ثابت ہوتی، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ اور ہمارا یہ نقطۂ نظر ہے کہ ایسا نہیں ہونے دیا گیا جس کے مقاصد میں اس نازک مرحلہ میں افغان طالبان کو پاکستانی رائے عامہ کی پشت پناہی سے محروم کرنا بھی شامل تھا، بہرحال اب جو ہونا تھا ہو چکا اسے واپس نہیں لایا جا سکتا، البتہ اس کی کسی حد تک تلافی کی جا سکتی ہے۔

ہمارے خیال میں افغان قوم کو اس وقت ہماری طرف سے دو باتوں کی شدید ضرورت ہے:

  1. ایک یہ کہ نیٹو افواج کی واپسی کے بعد افغان قوم کو متحد رکھنے اور متوقع خانہ جنگی کی روک تھام کے لیے پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے مؤثر کردار ادا کریں اور اس کے لیے مضبوط منصوبہ بندی کی جائے۔
  2. اور دوسری یہ کہ پاکستان کی دینی قوتیں اور محب وطن سیاسی عناصر مذاکرات کے اس مرحلہ میں افغان قوم اور طالبان کے لیے مضبوط سیاسی و اخلاقی حمایت کا اہتمام کریں۔

کل کی طرح آج بھی افغانستان کا استحکام پاکستان کی ضرورت ہے اور کل کی طرح آج بھی پاکستان کے فطری حلیف افغانستان کے اسلام دوست اور آزادی پسند عناصر ہیں۔ ان حقائق سے نظریں چرانا پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے اور دینی جماعتوں کو خاص طور پر اس مسئلہ پر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔

پاکستانی طالبان کی صورتحال یہ ہے کہ ان سے تمام تر شکایات اور ان کے بارے میں تمام تر تحفظات کے باوجود وہ بہرحال پاکستانی ہیں اور اس حقیقت کو تسلیم کر لینے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ:

  • ماضی میں ان سے صحیح طور پر ڈیل نہیں کیا گیا، وہ ردعمل کا شکار ہوئے ہیں اور نام نہاد دہشت گردوں کے خلاف مبینہ جنگ میں وہ بہت سی زیادتیوں کا نشانہ بنے ہیں۔
  • ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو بلاوجہ توڑ دیا گیا ہے اور انہیں اپنے علاقوں میں اپنی مرضی اور عوامی رائے کے مطابق معاشرتی نظام قائم رکھنے اور قانونی نظام قائم کرنے کے حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔
  • ان کے مذہب اور مذہبی اقدار کے ساتھ ساتھ ان کی ثقافتی اور تہذیبی اقدار بھی بیرونی یلغار کی زد میں ہیں۔

یہ درست ہے کہ انہوں نے ہتھیار اٹھا کر درست کام نہیں کیا اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرنا اور مسلح افواج سے نبرد آزما ہونا ان کا صحیح طرز عمل نہیں ہے۔ لیکن اس صورتحال کے اسباب کیا ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے ملک کے شہریوں کو اس انتہائی اقدام کا راستہ دکھایا؟ ان کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا اور ان اسباب و عوامل کا سدباب کرنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔

اسی قسم کی صورتحال بلوچستان کے ناراض عناصر کے بارے میں بھی ہے اور اگر نئی حکومت ان معاملات کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے ان امور کا بہرحال اہتمام کرنا ہوگا۔ ہماری خواہش ہے کہ:

  • امریکہ اور افغان طالبان کے مذاکرات کے پس منظر میں افغانستان کے استحکام اور محفوظ مستقبل کی خاطر پاکستان کے قومی کردار کے تعین کے لیے فوری طور پر قومی سطح پر آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا جائے اور تمام سیاسی و دینی جماعتیں مل کر قومی پالیسی کا تعین کریں۔
  • پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے اس قومی جرگے کو اعتماد میں لیا جائے جو اس سلسلہ میں کچھ عرصہ سے سرگرم عمل ہے اور پاکستانی طالبان کو مستقبل کے حوالہ سے تحفظ اور تعاون کا یقین دلانے کے ساتھ ساتھ ماضی میں ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تلافی کا بھی اہتمام کیا جائے۔
  • حکومتی سطح سے ہٹ کر سیاسی اور دینی جماعتوں کو اپنے طور پر بھی کسی متحدہ فورم پر جمع ہو کر اس صورتحال کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی پالیسی اور ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے۔ افغان طالبان ہوں یا پاکستانی طالبان، ان میں سے کسی کو بھی اس نازک مرحلہ میں تنہا چھوڑ دینا اور مناسب راہنمائی سے محروم رکھنا نہ ہمارے دینی مفاد میں ہے اور نہ ہی اس میں پاکستان کا مفاد ہے۔