جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۳ء

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف گزشتہ روز کراچی واپس پہنچ گئے ہیں اور عام انتخابات میں حصہ لینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ملک میں ان کی آمد پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قوتوں اور حکومت پاکستان سے اپنے تحفظ کی گارنٹی لے کر وطن واپس آئے ہیں اور عام انتخابات میں اہم کردار ادا کریں گے۔

عام انتخابات میں حصہ لینا ملک کے ہر شہری کا حق ہے اور یہ فیصلہ کرنا ووٹروں کا کام ہے کہ وہ کسے اپنی نمائندگی کے لیے چنتے ہیں، لیکن قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی بھی اس ملک کے عوام کا بنیادی حق ہے جس کے تقاضوں سے انحراف نہیں کیا جا سکتا ۔اس لیے بلوچ راہنماؤں اور تحریک طالبان نے ان کی آمد پر جس ردعمل کا اظہار کیا ہے اسے نظر انداز کرنے کی بجائے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور فیصلہ ان پر چھوڑ دینے کی بجائے یہ ضروری ہے کہ قانون خود اس سلسلہ میں کردار ادا کرے۔

  • یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ملک کے موجودہ المناک بحران، معاشی تباہ حالی، بد اَمنی، افراتفری اور لا قانونیت کے مکروہ ماحول کے پس منظر میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار کی پالیسیاں ہر ذی شعور شخص کو صاف طور پر جھلکتی نظر آرہی ہیں۔
  • انہوں نے عوام کو اعتماد میں لیے بغیر نام نہاد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں وطن عزیز کو جھونک کر جو ’’یو ٹرن‘‘ لیا تھا آج پوری قوم اس کی سزا بھگت رہی ہے۔
  • انہوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں جو شرمناک کردار ادا کیا تھا اس پر پوری قوم آج بھی غم و اندوہ کی حالت میں ہے۔
  • جبکہ اپنے عالمی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ملک کے داخلی تہذیبی منظر اور ثقافتی روایات کا رخ بدلنے کے لیے تعلیم اور میڈیا میں ان کی پالیسیاں اربابِ فکر و دانش کے لیے مسلسل سوہان روح بنی ہوئی ہیں۔

اس لیے جنرل پرویز مشرف کا ان معاملات میں خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے کی بجائے انتخابات میں غیر مشروط حصہ لینے کا اعلان اور ان کے بقول حکومت پاکستان کی طرف سے ان کو دی گئی گارنٹی، ایک لمحۂ فکریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ الیکشن میں ضرور حصہ لیں لیکن اس سے قبل ان کے سابقہ حکومتی کردار اور پالیسیوں کا ایک اعلیٰ سطحی عدالتی عمل کے ذریعے کھلا احتساب ضروری ہے جو بہرحال عدالت عظمیٰ کی ذمہ داری بنتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان سے ہماری درخواست ہے کہ وہ ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کر کے جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے احتساب کا اہتمام کریں اور اس کے بعد انہیں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے۔ اگر ایک منتخب وزیر اعظم عدالت عظمیٰ میں پیش ہو کر سزا پا سکتا ہے اور نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے تو جنرل پرویز مشرف کو انصاف کے عمل سے گزرے بغیر ’’اہلیت‘‘ کا سرٹیفیکیٹ آخر کیسے دیا جا رہا ہے؟