سودی نظام کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۳ء

بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قیام پاکستان کے فورًا بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں اپنے خطاب کے دوران واضح کر دیا تھا کہ وہ پاکستان میں مغربی معاشی نظام کی بجائے اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی نظام کی خواہش رکھتے ہیں، اور انہوں نے اس موقع پر اس بات کا دو ٹوک اظہار کیا تھا کہ مغربی نظام معیشت نسل انسانی کے لیے تباہی کا باعث بنا ہے اور اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

جبکہ اس سے ہٹ کر بھی ہم مسلمان اپنے عقیدہ و ایمان کے حوالہ سے اس بات کے پابند ہیں کہ سود کی لعنت پر استوار نظام معیشت سے چھٹکارا حاصل کریں اور قرآن و سنت کے فطری اصولوں کے مطابق ملک کا معاشی و اقتصادی نظام استوار کریں۔ لیکن چھ عشروں سے زیادہ وقت گزر جانے کے باوجود ہم مغرب کے سودی معاشی نظام کے شکنجے میں نہ صرف جکڑے ہوئے ہیں بلکہ قومی معیشت پر سودی نظام کی جکڑ بندی دن بدن سخت ہوتی جا رہی ہے اور بد قسمتی سے ہمارے حکمران طبقے اس کے ساتھ مسلسل چمٹے ہوئے ہیں۔ آج سے دس سال قبل وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ نے بینک انٹرسٹ کو ربوٰا قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام سودی قوانین کو غیر شرعی اور دستور کے منافی قوانین کا درجہ دے کر حکومت کو ان کے متبادل اسلامی قوانین نافذ کرنے کی ہدایت کی تھی، مگر اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کے باعث اس پر عملدرآمد ابھی تک معطل ہے، جبکہ نظر ثانی کی اپیل کی سماعت دس سال کے طویل انتظار کے بعد اب دوبارہ وفاقی شرعی عدالت میں شروع ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی پنجاب اسمبلی نے اب سے چند سال قبل محترمہ حمیرا اویس شاہد صاحبہ کی تحریک پر پرائیویٹ سطح پر سود کے لین دین کو قابل تعزیر جرم قرار دینے کا قانون منظور کیا تھا جس کے مطابق پنجاب میں اب سرکاری اداروں سے ہٹ کر پرائیویٹ سطح پر سود کا لین دین قانونی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس پر عملدرآمد کا کوئی رجحان سامنے نہیں آرہا بلکہ عوام حتی کہ علماء کرام کی اکثریت کو سرے سے اس کی خبر نہیں ہے۔

اس صورتحال میں سودی نظام کے خلاف عوامی بیداری کی فضا پیدا کرنے اور اسلامی نظام معیشت کے قیام کے لیے مختلف مکاتبِ فکر اور طبقات کے درد دل رکھنے والے راہنماؤں کی باہمی مشاورت مختلف نشستوں میں ہوئی ہے جس میں ’’تحریک انسداد سود پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک مہم منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مہم میں تمام مکاتبِ فکر کے مذہبی راہنماؤں، مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے ممتاز معاشی ماہرین اور ملک میں اسلامی نظام و قوانین کے نفاذ کی دلی خواہش رکھنے والے دوستوں نے تعاون کا یقین دلایا ہے اور اس مہم کو منظم کرنے کے لیے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ راہنماؤں پر مشتمل رابطہ کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کا کنوینر راقم الحروف کو مقرر کیا گیا ہے۔ ملک بھر کے تمام احباب سے گزارش ہے کہ وہ اس سلسلہ میں ہمہ نوع معاونت کا اہتمام کریں اور ہمارے دست و بازو بنیں تاکہ ملک کو سودی نظام کی لعنت سے نجات دلانے کی مہم کو آگے بڑھایا سکے۔