نفاذ اسلام کی دستوری جدوجہد اور جمعیۃ علماء اسلام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ مارچ ۲۰۱۳ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام ۳۱ مارچ کو مینار پاکستان کے گراؤنڈ میں منعقد ہونے والی ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کی تیاریاں جاری ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں جمعیۃ کے کارکن اور بہی خواہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے محنت میں مصروف ہیں۔ ان تیاریوں کے سلسلہ میں مجھے تین پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔

۲۳ مارچ کو مجلس صیانۃ المسلمین پاکستان کے سالانہ روحانی اجتماع میں حاضری کے لیے سندر جا رہا تھا، راستہ میں حضرت مولانا محب النبی صاحب سے ملاقات کے لیے ان کے ہاں دارالعلوم مدنیہ میں رکا تو معلوم ہوا کہ وہیں ظہر کے بعد ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کی تیاریوں کے سلسلہ میں مقامی جمعیۃ کے زیر اہتمام جلسہ ہو رہا ہے جس سے مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے خطاب کرنا ہے۔ مولانا محب النبی کے حکم پر تھوڑی دیر کے لیے میں بھی ٹھہر گیا اور جلسہ کے شرکاء سے ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کی اہمیت کے حوالہ سے مختصر گفتگو کی۔

اگلے روز ۲۴ مارچ کو لاجپت روڈ شاہدرہ کے پرانے دینی مدرسہ جامعہ قاسمیہ میں اس سلسلہ میں جلسہ تھا جس سے مولانا محمد امجد خان اور دیگر جماعتی راہ نماؤں نے خطاب کیا اور مجھے بھی کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا، ان دونوں جلسوں میں راقم الحروف نے عرض کیا کہ آنے والے عام انتخابات بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اس لیے کہ عالمی سیکولر حلقے اور ان کے ساتھ ملک کے سیکولر حلقے اس بات کا تہیہ کیے بیٹھے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس الیکشن میں دینی قوتوں کو منتشر رکھ کر وہ ایسی پارلیمنٹ وجود میں لے آئیں جس سے وہ اپنی مرضی کے فیصلے کرا سکیں اور خاص طور پر پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم کرنے اور دستور کی اسلامی دفعات کو غیر موثر بنانے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل کر سکیں، اس لیے اس الیکشن میں دینی حلقوں کا سب سے بڑا ہدف یہ ہونا چاہیے کہ مذہبی ووٹ کسی طرح بھی تقسیم نہ ہونے پائے اور دینی جماعتیں باہمی اشتراک کے ساتھ یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ دینی قوت کو یکجا رکھنے کا ہدف حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔

جمعیۃ علماء اسلام کے حوالہ سے میں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ ملک میں نفاذ اسلام کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی سابقہ جدوجہد اور مساعی کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ اس وقت ملک کے ہر شخص کی زبان پر ہے کہ کرپشن سے نجات حاصل کی جائے اور انتخابات کے ذریعہ ایسی قیادت سامنے لائی جائے جو کرپشن سے پاک ہو اور ملک کو کرپشن سے نجات دلا سکے۔ میں نے عرض کیا کہ گزشتہ چند سالوں میں کرپشن کے حوالہ سے تین بڑی بڑی فہرستیں قوم کے سامنے آئی ہیں، ایک فہرست ان لوگوں کی ہے جو اربوں روپے کے قرضے معاف کرکے ڈکار چکے ہیں، دوسری فہرست ان ناہندگان کی ہے جن کے کیس نیب کے پاس ریکارڈ پر ہیں اور تیسری فہرست ان سیاستدانوں کی ہے جن میں آئی۔ایس۔آئی نے بھاری رقوم تقسیم کی تھیں۔

میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ان فہرستوں پر پھر سے غور کر لیا جائے کہ ان میں جمعیۃ کی قیادت کہیں نظر آتی ہے؟ اور اگر کرپشن کی ان بڑی فہرستوں میں جمعیۃ کی قیادت دکھائی نہیں دیتی تو پھر لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ وہ کون سی قیادت ہے جو کرپشن سے پاک ہے اور ملک و قوم کو کرپشن سے نجات دلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جمعیۃ کی قیادت فرشتوں کا ٹولہ ہے، وہ بھی انسان ہیں اور انسانوں کے سارے معاملات ان کے ساتھ بھی ہیں لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ موجودہ حالات اور معروضی تناظر میں کرپشن کے حوالہ سے اور پاکستان کی قومی خود مختاری کے تحفظ کے لیے اور ملک کی اسلامی نظریاتی شناخت کے دفاع کے لیے جمعیۃ علماء اسلام کی قیادت سب سے ممتاز ہے اور اس قابل ہے کہ اس پر ان مقاصد کے حوالہ سے بھروسہ کیا جا سکے۔

۲۶ مارچ کو ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کی تیاریوں کے لیے گوجرانوالہ کے علماء کرام اور دینی کارکنوں کا اجلاس میں نے خود طلب کر رکھا تھا جو ظہر کی نماز کے بعد مرکزی جامع مسجد میں منعقد ہوا اور سینکڑوں علماء کرام نے اس میں شرکت کی۔ جمعیۃ علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا رشید احمد لدھیانوی اس اجلاس کے مہمان خصوصی تھے اور انہوں نے جمعیۃ کی پالیسی اور قومی سیاست کے موجودہ تناظر میں جمعیۃ کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے تمام دینی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اشتراک و تعاون کے ساتھ مذہبی ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچائیں اور ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہوئے پاکستان کی اسلامی شناخت اور نفاذ اسلام کے خلاف سیکولر حلقوں کی سازشوں کو متحد ہو کر ناکام بنا دیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسلام زندہ باد کانفرنس‘‘ کی کامیابی ملک کی دینی قوتوں کی کامیابی ہوگی اس لیے تمام مذہبی جماعتوں اور دینی حلقوں کو اس کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔