پُراَمن بقائے باہمی کے لیے اسلام کی تعلیمات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۹ء

(جامعہ تہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ کے زیر اہتمام ۲۶ جون ۲٠۱۹ء کو منعقدہ الموتمر العالمی للقدرات الاستجراتیجیۃ لتعالیم الاسلامی فی تحقیق التعایش السلمی کے لیے لکھا گیا۔ )

الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ و السلام علی سید المرسلین وعلی آلہ و اصحابہ واتباعہ اجمعین۔

میں سب سے پہلے جامعہ طہران کے کلیۃ الالہیات والمعارف الاسلامیۃ اور اس کے رئیس فضلیۃ الشیخ الدکتور مصطفی ذوالفقار طلب حفظہ اللہ تعالی کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ارباب ِ علم و دانش کی اس موقر محفل میں مجھے شرکت کا اعزاز بخشا اور عالم ِ اسلام کے سر کردہ علماء کرام اور دانش وران کے ارشادات سے مستفید ہونے کا موقع دیا۔ اللہ تعالی ٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ہمارے اس مل بیٹھنے کو انسانی سوسائٹی، عالمِ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

ہم اس وقت اس عنوان پر غور و خوض اور تبادلۂ خیال کے لیے جمع ہیں کہ امت مسلمہ کو پر امن معاشرت اور اجتماعی زندگی کے لیے اسلامی تعلیمات کے کن پہلوؤں پر زیادہ توجہ دینے اور کون سی حکمت عملی اور اقدار و روایات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے علمی و فکری حلقوں بالخصوص جامعات کو کیا طریق ِ کار اختیار کرنا چاہیے۔ جہاں تک پر امن معاشرت اور سلامتی پر مبنی سوسائٹی کا تعلق ہے، یہ نہ صرف امت مسلمہ بلکہ پوری نسل ِ انسانی کی ہمیشہ سے ضرورت چلی آ رہی ہے اور جب تک اس زمین پر انسان آباد ہیں اس کی ضرورت رہے گی، لیکن اس کے لیے مختلف اقوام اور ادوار میں الگ الگ فلسفہ اور طریقِ کار رہا ہے اور آج بھی یہ اختلاف و تنوع انسانی سوسائٹی میں امن و سلامتی کے مجموعی اہتمام میں رکاوٹ ہے۔ ظاہر ہے کہ اسی ماحول میں سے ہم نے اپنے لیے امن و سلامتی کا راستہ نکالنا ہے اور فساد و بدامنی کی موجودہ دلدل سے نکلنے کی صورتیں پیدا کرنی ہیں جو اہل ِ علم و دانش کے فطری و شرعی فرائض میں داخل ہے۔

اسلام تو عبارت ہی سلامتی سے ہے اور اس کا مادہ "سلم" ہے۔ سلم اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی کہ خود بھی سلامتی سے رہنا ہے اور دوسروں کو بھی سلامتی کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کرنا ہے اور یہ بات کسی اصول و ضابطہ اور اجتماعی اخلاقیات و اقدار کی تشکیل و تعین کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسلام نے اس کا فطری راستہ بتایا ہے کہ نسلِ انسانی خود کو اپنے پیدا کرنے اور زندگی کے ہر قسم کے اسباب فراہم کرنے والی ذات کے حوالے کر دے اور اس کی ہدایات کی پابندی قبول کرے جو اس نے اپنے مقدس پیغمبروں صلوات اللہ علیہم اجمعین کے ذریعہ بھجوائی ہیں اور جن کی نشاندہی اللہ تعالی نے زمین پر حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو اتارتے وقت اس طرح کر دی تھی کہ :

فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّـنِّىْ ھُدًى فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ

جب کہ آسمانی تعلیمات کی پابندی قبول نہ کرنے والی اقوام و طبقات اور گروہوں نے باہمی امن و سلامتی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے عقل و خواہش کو بنیاد بنایا اور یہ طے کر لیا کہ انسانی سوسائٹی اپنے نفع و نقصان کو خود ہی بہتر سمجھتی ہے، اس لیے وہ اجتماعی سوچ اور تقاضوں کی بنیاد پر جو طے کر لے، وہی اس کے لیے امن و سلامتی کا راستہ ہے۔ قرآن کریم نے اسے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ :

إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَىٰ

آج بھی فکری اور تہذیبی ماحول میں یہی کشمکش پوری نسل ِ انسانی کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور اس کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے ہماری اولین ذمہ داری یہ ہے کہ ہم نسل ِ انسانی کو اسلامی تعلیمات اور "وَلَقَدْ جَاءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ الْهُدَى" کی طرف متوجہ کریں اور اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ انسانی سوسائٹی اگر سارے معاملات خود طے کرنے لگے گی تو افراد و طبقات اور اقوام و ممالک کے درمیان خواہشات و مفادات کا ہمہ گیر تنوع اسے کبھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچنے دے گا اور باہمی تصادم و کشمکش سے اسے نکلنا کبھی نصیب نہیں ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے معاملات طے کرنے کے لیے کسی بالاتر ذات و قوت کی طرف رجوع کرے اور وہ اللہ تعالی کی ذاتِ گرامی ہے جس کی ہدایات حضرات انبیاء کرام علیہم السلام بالخصوص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی صورت میں اس کے پاس موجود ہیں۔

اس اصولی گزارش کے ساتھ ساتھ گفتگو کو طوالت سے بچانے کے لیے موجودہ معروضی صورتِ حال میں چند معروضات تجاویز کی صورت میں اس موقر مؤتمر کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ اگر انہیں بھی غور و فکر کے دائرہ میں شامل کر لیا جائے تو اس عمل میں شرکت کے حوالہ سے مجھ جیسے طالب علم کا بھی کوئی حصہ پڑ جائے گا۔

  1. اس وقت دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کے جس نیٹ ورک نے اقوام و ممالک کو حصار میں لے رکھا ہے، اس سے آگاہی کا ماحول پیدا کرنا اربابِ فکر و دانش اور جامعات کی ذمہ داری ہے اور میرے خیال میں بڑی جامعات کو بین الاقوامی معاہدات اور نسل ِ انسانی کے ساتھ ساتھ عالم ِ اسلام پر ان کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیق و مطالعہ کے دائرہ کو وسعت دینی چاہیے۔
  2. بین الاقوامی معاہدات میں جو امور ملت اسلامیہ اور مسلم ممالک کے لیے پوری طرح قابلِ قبول نہیں ہیں، ان کے لیے بین الاقوامی اداروں اور عالمی فورموں پر مذاکرہ و مباحثہ اور امت مسلمہ کا موقف صحیح طور پر ان تک پہنچانا بہرحال ہماری ذمہ داری ہے۔
  3. امت مسلمہ اور مسلم ممالک کے باہمی تنازعات و اختلافات کو قابلِ برداشت حد میں رکھنے کے لیے کوئی اجتماعی ضابطۂ اخلاق طے کرنے پر کام ہونا چاہیے اور وحدت و اجتماعیت کے زیادہ سے زیادہ اہتمام کے لیے سنجیدہ اور اجتماعی ورک کی ضرورت ہے۔
  4. عالمی استعمار اور استبدادی قوتوں کے دباؤ اور جبر کا شکار ہونے والے مسلمانوں بلکہ دیگر ایسے گروہوں کے حق میں آواز اٹھانا اور جبر و دباؤ کو کم کرنے کی تدابیر کرنا بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
  5. کشمیر، فلسطین، اردن اور دیگر مظلوم خطوں کے مسلمانوں کو ظلم و تشدد سے نجات دلانا اور ان کے قومی و ملی حقوق کی پاسداری کے لیے عالم ِ اسلام کو مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔
  6. مسلم امہ کے بین الاقوامی اداروں بالخصوص او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم) سے درخواست کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ عالم ِ اسلام کے معروضی حالات اور مشکلات و مسائل کے تناظر میں باہمی بحث و مباحثہ اور بالادست اقوام و ممالک کے ساتھ مذاکرہ و مکالمہ کے راستے نکالیں۔
  7. جامعات اور دینی اداروں کو چاہیے کہ وہ اسلام کی اجتماعی و معاشرتی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کا اہتمام کریں۔

امید ہے کہ میری ان معروضات پر مؤتمر کے معزز شرکاء غور و خوض کی زحمت فرمائیں گے۔ اللہ تعالی مؤتمر کو کامیابی سے نوازیں، منتظمین کو جزائے خیر سے نوازیں اور پورے عالم ِ اسلام کے لیے ہمارے اس اجتماع کو بہتر رہنمائی اور خیر و برکت کا ذریعہ بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: