نجم سیٹھی اور اسلامی نظریہ سے وفادای کا حلف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ اپریل ۲۰۱۳ء

بزرگ احرار راہ نما ابن امیر شریعتؒ مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری ہم سب کے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ نجم سیٹھی کے بارے میں اہل دین کے دل کی بات کو نہ صرف زبان بخشی بلکہ اسے ایک خط کے ذریعہ نجم سیٹھی تک پہنچا بھی دیا۔

نجم سیٹھی کا نام نگران وزیر اعلیٰ کے لیے کچھ اس طرح غیر متوقع طور پر سامنے آیا اور بظاہر ایک پلاننگ کے ساتھ طے بھی پا گیا کہ ہم لوگ سوچتے ہی رہ گئے، ورنہ اس پر اسی لہجے میں بات ہو سکتی تھی جس طرح ملک کے نگران وزیر اعظم اور پھر پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے محترمہ عاصمہ جہانگیر کا نام سامنے آنے پر دینی حلقوں کی طرف سے بروقت سامنے آگئی تھی اور موثر ثابت ہوئی تھی۔ اس لیے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر اور نجم سیٹھی اپنے افکار و نظریات اور سیاسی کردار کے حوالہ سے ایک ہی کیمپ اور گروپ سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ نجم سیٹھی کا نام سامنے آنے پر ہمارا اولین تاثر یہی تھا کہ انہیں محترمہ عاصمہ جہانگیر کے متبادل بلکہ نعم البدل کے طور پر سیکولر حلقوں کی طرف سے سامنے لایا گیا ہے اور وہ اپنی اس چال میں بہرحال کامیاب رہے ہیں۔ مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری نے نگران وزیر اعلیٰ کو خط لکھا کہ ان کے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ وہ قادیانی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جس کے جواب میں نجم سیٹھی نے وضاحت کی کہ وہ عقیدہ ختم نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور قادیانی گروہ سے ان کا تعلق نہیں ہے اور اس کے ثبوت میں انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالتے وقت پڑھے گئے اس حلف نامہ کی عبارت کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے اسلامی نظریہ کو پاکستان کی تخلیق کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کی پاسداری کا عہد کیا ہے۔

بظاہر بات یہاں پر ختم ہوجانی چاہیے لیکن زمینی حقائق اور قرائن و شواہد اس کی اجازت نہیں دے رہے اور ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اس ’’لیپاپوتی‘‘ سے ہٹ کر صورت حال کا جائزہ لیا جائے کیونکہ جس طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ملی بھگت سے محترمہ عاصمہ جہانگیر کو نگران وزیر اعظم بنانے کی کوشش کی گئی اور پھر اسی ٹریک پر چلتے ہوئے جناب نجم سیٹھی کو پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ بنوایا گیا ہے اس کے اثرات صرف نگران حکومت کے دائرہ کار تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس سے ملک کے مستقبل کے بارے میں عالمی سیکولر حلقوں کے اس اثر و رسوخ اور قوت کار کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے جو انہوں نے ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں پر اثر انداز ہو کر ظاہر کی ہے اور یہ بات پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پر باقی رکھنے کے خواہشمند حلقوں کے لیے خطرے کے الارم کی حیثیت رکھتی ہے۔

جہاں تک نجم سیٹھی کے سیاسی و فکری تعارف کا تعلق ہے اس کے بارے میں ہم ملک کے معروف کالم نگار جناب جاوید چودھری کے ایک کالم کا حوالہ دینا چاہیں گے جو روزنامہ ایکسپریس لاہور میں 21اکتوبر 2008ء کو شائع ہوا تھا اور اس میں انہوں نے بتایا تھا کہ نجم سیٹھی نے

  • 1997ء کے دوران بھارت کے دورہ کے موقع پر نظریہ پاکستان اور اسلامی احکام کے بارے میں توہین آمیز رویہ اختیار کر کے شہرت حاصل کی تھی۔
  • وہ اسلامی شعائر نماز، داڑھی اور روزے وغیرہ کا کھلم کھلا مذاق اڑانے میں معروف ہیں۔
  • وہ شراب و رقص کے رسیا ہیں۔
  • جنرل پرویز مشرف کے اس بیان کا بھی جاوید چودھری نے حوالہ دیا ہے کہ ’’نجم سیٹھی جیسے لوگوں نے انہیں لال مسجد پر حملے کے لیے اکسایا تھا۔‘‘

اس قسم کے دیگر بہت سے قرائن قومی پریس کے ریکارڈ میں موجود ہیں جن کی تصدیق نگران وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد خود نجم سیٹھی نے بھی اپنے اس آرڈر کے ذریعہ کر دی ہے جس میں انہوں نے بسنت منانے کی نہ صرف اجازت دے دی ہے بلکہ اس کے لیے تاریخ مقرر کر کے لاہور کی ضلعی حکومت کو اس کے انتظامات کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ حالانکہ بہت سے شہریوں کے ناحق قتل کا سبب بننے والے اس خونیں تہوار پر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی طرف سے پابندی کے احکامات موجود ہیں لیکن نگران وزیر اعلیٰ نے نہ صرف یہ کہ اس پابندی کو نظر انداز کر دیا ہے بلکہ تازہ ترین ارشاد فرمایا ہے کہ بسنت کے ساتھ میوزیکل شو بھی ضرور ہونا چاہیے۔ اس سے ان کی پالیسی ترجیحات کا رُخ سامنے آنے کے ساتھ ساتھ جاوید چودھری کے ان خدشات کی بھی تائید ہو جاتی ہے جن کا سطور بالا میں ہم نے تذکرہ کیا ہے۔

جہاں تک اس حلف کا تعلق ہے جس کا نجم سیٹھی صاحب نے مولانا سید عطاء المومن شاہ بخاری کے نام جوابی خط میں ذکر کیا ہے، ہمارے نزدیک اس کی کوئی حیثیت اس لیے نہیں ہے کہ یہ حلف تو عاصمہ جہانگیر نے بھی اٹھا لینا تھا بلکہ وزارت عظمیٰ کا حلف اس حوالہ سے وزارت اعلیٰ کے حلف سے کہیں زیادہ واضح اور سخت ہے لیکن اگر عاصمہ جہانگیر کا نام نگران وزیر اعظم کے لیے طے ہو جاتا تو وہ کسی تکلف اور حجاب کے بغیر حلف کے اس مرحلہ سے گزر جاتیں۔ حلف کے بارے میں بہت سے لوگوں کا مزاج یہ ہے کہ ہمارے ہاں سینکڑوں افراد ایسے موجود ہیں جنہوں نے دستور پاکستان کے تحت اسلام اور اسلامی نظریہ سے وفاداری کا حلف بھی اٹھا رکھا ہے اور برطانیہ یا کینیڈا کے شہری کے طور پر ملکہ برطانیہ کی وفاداری کا حلف بھی انہوں نے اٹھایا ہوا ہے، جس کی صدائے باز گشت گزشتہ دنوں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے حوالہ سے ملک کی عدالت عظمیٰ میں کئی روز تک سنی جاتی رہی ہے اور اب بھی یہ دہرا حلف الیکشن کمیشن کی فائلوں میں اِدھر سے اُدھر چکر کاٹتا دکھائی دے رہا ہے۔

قرآن کریم کی سورۃ النور (آیت 53، 54) میں اسی قسم کے حلف کا ذکر کیا گیا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ

’’انہوں نے اللہ کے نام کی پکی قسمیں کھائی ہیں کہ اگر آپ (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) انہیں جہاد کے لیے نکلنے کا حکم دیں گے تو وہ ضرور نکلیں گے، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ قسمیں اٹھانے کی ضرورت نہیں تمہارا عمل خود بتا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، پس اگر تم پھر گئے تو تم پر تمہارا بوجھ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی ذمہ داری ہے اور رسول کے ذمہ تو صرف بات کو پہنچا دینا ہے۔‘‘

ہم نجم سیٹھی صاحب سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ بات قسم اور حلف کی نہیں طرز عمل اور کردار کی ہے۔ اگر وہ فی الواقع نظریہ پاکستان اور اسلامی تعلیمات کی پاسداری کے حلف میں سنجیدہ ہیں تو ان کا طرز عمل اور پالیسیاں خود بخود بتا دیں گی کہ ان کے اس حلف کی حیثیت اور حقیقت کیا ہے؟