دار العلوم تعلیم قرآن راولپنڈی کا سانحہ اور مستقبل کے خدشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۴ء

گزشتہ ماہ کے آخری روز میں میرپور آزاد کشمیر میں تھا جہاں جامعہ اسلامیہ کا سالانہ جلسہ دستار بندی تھا، مولانا عبدالخالق پیرزادہ، مولانا سید عبد الخبیر آزاد، مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی، مولانا حق نواز اور حاجی بوستان صاحب کے ہمراہ میں نے بھی اس سعادت میں حصہ لیا۔ گزشتہ سال دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والے فضلاء اور قرآن کریم مکمل کرنے والے حفاظ کی دستار بندی کی گئی۔ پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد جامعہ اسلامیہ کے مہتمم حاجی بوستان صاحب اور شیخ الحدیث مولانا فضل الرحمن صاحب کے ساتھ مشورہ میں طے پایا کہ اگلے روز راولپنڈی حاضری دی جائے اور دار العلوم تعلیم القرآن راجہ بازار کے مہتمم مولانا اشرف علی سے ان کے فرزند مولانا مفتی امان اللہ ؒ کی شہادت پر تعزیت کی جائے۔ میرپور سے مسلم کانفرنس کے راہنما سر دار قمر صاحب اور ہمارے ایک عزیز ساتھی حافظ عبد الباسط شیخوپوری بھی شریک سفر تھے، جبکہ پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری حافظ سید علی محی الدین پہلے سے اطلاع ملنے پر راجہ بازار پہنچ گئے تھے۔

مولانا اشرف علی اور ان کے رفقاء کے ساتھ تعزیت اور مرحومین کے لیے دعا کے موقع پر وہاں کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیالات ہوا اور یہ دیکھ کر دکھ میں اضافہ ہوا کہ مولانا مفتی امان اللہؒ کی شہادت کے بعد راولپنڈی اور اسلام آباد کی سطح پر جس اجتماعی مشاورت اور عملی جدوجہد کا اہتمام ہونا چاہیے تھا اس کے آثار دکھائی نہیں دے رہے بلکہ بے حسی بڑھتی جا رہی ہے، البتہ یہ بات کسی حد تک اطمینان کا باعث بنی کہ مسجد و مدرسہ اور مارکیٹ کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا ہے۔ میں نے مولانا اشرف علی سے عرض کیا کہ دو روز قبل جمعیت علماء اسلام (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی اور مجلس احرار اسلام کے سیکرٹری جنرل حاجی عبد اللطیف چیمہ کے ساتھ لاہور میں میری اس سلسلے میں طویل مشاورت ہوئی ہے اور ہمارے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ ۱۹۸۸ء میں ایرانی انقلاب کے اثرات اردگرد کے ممالک بالخصوص پاکستان میں وسیع پیمانے پر پھیلنے کے امکانات دیکھتے ہوئے دیوبندی مسلک کے کم و بیش سبھی جماعتوں نے حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن کی سربراہی میں جو ’’متحدہ سنی محاذ‘‘ قائم کیا تھا، اسے دوبارہ متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری گزارش پر مولانا عبد الرؤف فاروقی نے کنوینر کے طور پر یہ ذمہ داری قبول کر لی ہے کہ وہ عید الاضحی کے بعد اس مقصد کے لیے متعلقہ راہنماؤں سے مشاورت کی ایک نشست کا اہتمام کریں گے اور جلد ہی اس سلسلے میں رابطوں کا آغاز کریں گے، مولانا اشرف علی نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا اور فرمایا کہ وہ اس کے لیے بھرپور تعاون کریں گے۔