نفاذِ شریعت کے نام پر تشدد روا نہیں ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۱۵ء

۱۶ دسمبر کو پشاور کے ایک سکول میں دہشت گردوں کی اندھا دھند فائرنگ سے ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد کی المناک شہادت پر، جن میں غالب اکثریت بچوں کی ہے، ملک کا ہر شخص سوگوار ہے اور اس دہشت ناک سانحہ نے نہ صرف بہت سے پریشان کن سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ سیکولرازم کی پشت پناہی کرنے والے میڈیا کو ایک بار پھر عالمی سطح پر یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ پاکستان کے دینی مدارس کے بارے میں کردارکشی کی مہم کو نئے سرے سے منظم کرے اور دینی حلقوں کو بدنام کرنے کے لیے اور زیادہ سرگرم عمل ہو جائے۔

پاکستان میں نفاذِ شریعت یا کسی اور مطالبہ کے لیے ہتھیار اٹھانے کی ملک کے جمہور علماء کرام نے کبھی حمایت نہیں کی اور تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اس بات پر متفق چلے آرہے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ ضروری ہے بلکہ قیامِ پاکستان کا مقصد اور تکمیل پاکستان کی حقیقی منزل ہے اور اس کے لیے جدوجہد کرنا دینی جماعتوں اور حلقوں کے فرائض میں شامل ہے لیکن اس کے لیے مسلح جدوجہد اور خروج جائز نہیں ہے بلکہ پُر امن عوامی جدوجہد ہی ملک میں نفاذ اسلام کا جائز اور قابل عمل راستہ ہے۔

ہم کئی بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ نفاذِ شریعت کے لیے صرف پارلیمانی سیاست پر اکتفا کرنا بھی درست نہیں ہے اور اس مقدس مقصد کے لیے ہتھیار اٹھانے کا بھی کوئی جواز نہیں، بلکہ جس طرح ہمارے اکابر نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی مالٹا سے واپسی پر پُر امن اور عدم تشدد پر مبنی عوامی احتجاجی تحریک کا راستہ اختیار کیا تھا، اسی پالیسی اور حکمت عملی کو اپنانے کی ضرورت ہے اور پاکستان میں اسلامی نظام کا نفاذ اسی تحریکی سیاست کے ذریعہ ہی عمل میں آسکتا ہے۔ وطن عزیز کی تاریخ شاہد ہے کہ نظامِ مصطفٰیؐ کے نفاذ، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموسِ رسالتؐ کی حفاظت کے لیے جب بھی تمام مکاتبِ فکر نے ایک فورم پر متحد ہو کر جدوجہد کی ہے انہیں اپنے اہداف میں ناکامی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور ہر بار پیشرفت ان کا مقدر بنی ہے۔ اور اب بھی صورتحال یہ ہے کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام اگر تحریک ختم نبوت کی طرح متحد ہو کر لادینی نظام کے خاتمہ اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے سنجیدہ ہو جائیں اور پُر امن تحریکی قوت کو منظم کر کے میدان عمل میں آئیں تو انہیں ملک کے عوام کی طرف سے مایوسی نہیں ہو گی کیونکہ ملک کے عوام کی اکثریت آج بھی اسلام کا نفاذ چاہتی ہے۔

اب سے چھ سات سال قبل ایک بین الاقوامی ادارے نے عوامی سروے کر کے رپورٹ دی تھی کہ پاکستان کے شہریوں کی پچاسی فیصد اکثریت نفاذِ اسلام کی خواہاں ہے جبکہ ابھی دو ماہ قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک عالمی ادارے کی مدد سے ازسرنو سروے کیا ہے اور اس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے عوام کی پچانوے فیصد اکثریت ملک سے سودی نظام کے خاتمہ کی خواہاں ہے۔ ان رپورٹوں سے عوام کے اکثریتی رجحانات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے، اس لیے اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ رائے عامہ کو منظم کیا جائے، عوام کی صحیح راہ نمائی کی جائے، اسٹریٹ پاور کو اس کے لیے حرکت میں لایا جائے اور پر اَمن سیاسی جدوجہد کے ذریعے حکمرانوں کو نفاذِ اسلام کے لیے اسی طرح مجبور کر دیا جائے جس طرح قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہینِ رسالتؐ پر موت کی سزا کے قانون کا ہر حال میں تحفظ کرنے پر انہیں مجبور کر دیا گیا تھا۔

ہماری رائے میں اسلحہ برداری اور تشدد کے طرزِ عمل نے نفاذِ اسلام کی جدوجہد کو فائدہ کی بجائے نقصان پہنچایا ہے اور اس سے شرعی احکام و قوانین کے نفاذ کی منزل قریب آنے کی بجائے مزید دور ہوئی ہے۔ چند سال قبل جامعہ اشرفیہ لاہور میں علماء دیوبند کثر اللّٰہ جماعتہم کے کم و بیش سبھی حلقوں، مراکز اور جماعتوں کی قیادت نے مل بیٹھ کر ایک متفقہ موقف کا اعلان کیا تھا جس کو ایک متوازن اور جامع موقف کے طور پر ملک بھر میں سراہا گیا تھا لیکن یہ ہماری کمزوری ہے کہ اس موقف کو ملک کے ہر طبقہ کے حضرات تک پہنچانے کی ضرورت کو پورا نہیں کیا جا سکا جس کے نتیجے میں آج بھی قومی فضا میں اس حوالہ سے شکوک و شبہات کو فروغ دینے میں بعض خود غرض حلقے پیش پیش دکھائی دے رہے ہیں۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء دیوبند کا ’’مجلس علماء اسلام‘‘ کے نام سے وجود میں آنے والا نیا اتحاد اس خلا کو پُر کرنے کے لیے جلد از جلد پیشرفت کرے اور تشدد کی پالیسی کی مذمت اور اس سے براءت کے ساتھ ساتھ نفاذِ شریعت کے لیے عملی جدوجہد کا اہتمام کرے تاکہ نفاذِ شریعت کی جدوجہد کرنے والے علماء کرام اور دینی کارکنوں کو اپنے مقدس مشن کے لیے کام کا صحیح راستہ ملے اور کسی غلط طریقِ کار کے لیے ان کے خلوص اور قربانیوں کے مسلسل استحصال کا راستہ روکا جا سکے۔

اس کے ساتھ ہی ہم نفاذِ اسلام کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنے والے دوستوں کو ان کی خیر خواہی کے پر خلوص جذبہ کے ساتھ یہ مشورہ دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ماضی بعید کی پُر تشدد تحریکوں کے نتائج پر اگر نظر نہیں رکھتے تو کم از کم گزشتہ تین عشروں کے دوران الجزائر میں رونما ہونے والے حالات کا ہی مطالعہ کر لیں، جہاں عام انتخابات میں اسلامی جماعتوں کے متحدہ محاذ ’’اسلامک سالویشن فرنٹ‘‘ کی واضح کامیابی کو فوجی مداخلت کے ذریعے سے ناکام بنائے جانے کے ردِعمل میں بہت سے گروہوں نے تشدد اور عسکریت کا راستہ اختیار کیا تو اس کا نتیجہ کیا سامنے آیا؟ عسکریت اور تشدد کے اس طرزِ عمل نے نہ صرف الجزائر میں فوج اور عوام کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کر دیا بلکہ درجنوں گروہوں نے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر اور قتال کا ہتھیار استعمال کر کے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر دی جس کے بارے میں عالمی رپورٹوں میں بتایا جاتا ہے کہ دس سال کے عرصہ میں ایک لاکھ کے لگ بھگ الجزائری شہری اس باہمی خانہ جنگی کی نذر ہو گئے، جبکہ اس سارے عمل اور قربانیوں کا سیکولر حلقوں اور عالمی استعمار کو کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ اسلام اور جہاد کے نام پر کام کرنے والے متعدد گروہوں نے اپنی قوت کو آپس میں لڑ لڑ کر ہی ختم کر دیا ہے۔

نفاذِ شریعت کی جدوجہد ہمارے فرائض میں سے ہے لیکن اس کے لیے صحیح حکمتِ عملی اختیار کرنا اور کارکنوں کی درست سمت راہنمائی کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے جس کے لیے ملک بھر کے دینی و علمی حلقوں اور جماعتوں کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم پشاور کے سانحہ پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کے اس وحشیانہ قتل عام کی مذمت کرتے ہیں اور شہداء کی مغفرت کی دعا کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت وطن عزیز کو امن و امان کا ماحول عطا کریں، پاکستان کو اسلام کے عادلانہ نظام کی منزل سے ہمکنار کریں اور ہم سب کو خلوص، ایثار اور حکمت و تدبر کے ساتھ اس کے لیے محنت کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔