غیر سودی بینکاری اور آئی ایم ایف

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۱۵ء

دنیا میں سودی نظام کی تباہ کاریوں کا شعور جوں جوں بڑھتا جا رہا ہے اور اس کے خلاف ردعمل جس طرح منظم ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی آسمانی تعلیمات کی اہمیت و برکات کا احساس بھی دھیرے دھیرے اجاگر ہو رہا ہے۔ جبکہ علمی اور فکری دنیا میں یہ بات اب کم و بیش طے سمجھی جاتی ہے کہ سودی نظام نے نسل انسانی کو اخلاقی تباہی اور معاشی انارکی کے سوا کچھ نہیں دیا اور اصلاحِ احوال کے لیے اب قرآن کریم کی طرف نظریں اٹھ رہی ہیں۔ غیر سودی معیشت اب سے ربع صدی قبل تک ناقابل عمل سمجھی جاتی تھی اور اس کی بات کرنے والوں کو دورِ حاضر کے تقاضوں سے نابلد قرار دیا جاتا تھا مگر اب وہ عالمی سطح پر اپنی ضرورت کا احساس دلا رہی ہے اور مختلف سطحوں پر اس کا اعتراف کیا جانے لگا ہے، اس سلسلہ میں دو اہم خبریں ضروری طور پر قابل توجہ ہیں۔

روزنامہ پاکستان لاہور میں ۴ مارچ ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق:

’’انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) نے کہا ہے کہ اسلامک بینکنگ میں رسک برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے، اسلامک بینکنگ کی کچھ خصوصیات کو عام بینکنگ میں شامل کیا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے ترجمان کے مطابق بحران کے دوران اسلامک بینکنگ عام بینکنگ سے زیادہ لچک دار ثابت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسلامک اور کنونشنل بینکنگ دونوں موجود ہیں اور پاکستان کے اعداد و شمار سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افراتفری کے دوران اسلامک بینکوں سے رقم نکلوانے کی بجائے جمع کرانے کا رجحان زیادہ ہے۔آئی ایم ایف نے بینکنگ سے متاثر ہو کر اسلامک بینکنگ کی کچھ خصوصیات عام بینکنگ میں شامل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔‘‘

جبکہ روزنامہ انصاف لاہور نے اسی روز ۴ مارچ ۲۰۱۵ء کو یہ خبر شائع کی ہے کہ:

’’اسلامی بینکاری نظام شروع کر کے ہم نے غیر سودی بینکاری کی طرف پہلا قدم کامیابی سے اٹھا دیا ہے، موجودہ حکومت ملک میں اسلامی بینکاری کو فروغ دینے میں دلچسپی لے رہی ہے۔یہ بات صدر پاکستان جناب ممنون حسین نے کراچی میں دوسری راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انہوں نے اسلامی بینکنگ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علماء اور بینکنگ ماہرین پر مشتمل محققین کا ایک ایسا پینل تشکیل دیا جائے جو اسلامی بینکاری پر کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بیرون ملک اسلامی بینکنگ کے ناقد موجود ہیں، محققین کے اس پینل کے ذریعے اسلامی بینکنگ کے نظام کے دفاع میں مدد مل سکتی ہے۔‘‘

ان خبروں کی روشنی میں اس سلسلہ میں صورتحال کا ایک رُخ تو یہ ہے کہ اسلامک بینکنگ کی اہمیت و ضرورت کا احساس بڑھتا جا رہا ہے اور مسلم ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی مالیاتی ادارے بھی اس ضرورت کا ادراک کرنے لگے ہیں۔ لیکن اس مسئلہ کا دوسرا رُخ یہ بھی ہے کہ غیر سودی بینکاری کو اگر عقیدہ و ایمان کی بنیاد کے بغیر صرف معاشی مفادات و تحفظات کے دائرہ میں آگے بڑھایا جائے گا تو مفادات کی اس دنیا میں فائدہ کی بجائے نقصان کا احتمال زیادہ دکھائی دے رہا ہے اور یہ غیر سودی بینکاری بھی انسانی معاشرہ کو کوئی سہولت فراہم کرنے کی بجائے محض مالیاتی مفادات کے حصول اور معاشی استحصال کا ایک نیا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہماری طالب علمانہ رائے میں مطلق غیر سودی بینکاری اور اسلامی بینکاری کے درمیان فرق کا ادراک کرنا ضروری ہے اور اس فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کے جو نتائج سامنے آسکتے ہیں ان کو نظر انداز کر دینا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح اسلامی بینکنگ کے ناقدین کو اصلاح احوال کے لیے مثبت نقد و جرح کے ذریعے اسے بہتر بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اسی طرح اسلامی بینکنگ کے منتظمین و معاونین کو بھی مثبت تنقید کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطرات و خدشات اور تحفظات کے ازالے کی راہ نکالنی چاہیے۔ ہمیں صدر پاکستان کی اس تجویز سے اتفاق ہے کہ علماء اور بینکنگ ماہرین کا تحقیقی پینل قائم ہونا چاہیے جو اس سلسلہ میں کام کرے مگر اس کا کام صرف اسلامک بینکنگ کی موجودہ صورتحال کا دفاع نہ ہو بلکہ اسے صحیح معنوں میں اسلامی بینکنگ بنانے کے لیے علمی، فکری اور تحقیقی محنت بھی اس کے دائرہ کار میں شامل ہو۔ جبکہ ہمارے خیال میں اسے سب سے زیادہ توجہ اس نکتہ پر دینی چاہیے کہ عقیدہ اور دینی اخلاقیات کی اساس کے بغیر قائم ہونے والی غیر سودی بینکاری کہیں عالمی سطح پر معاشی استحصال اور مادہ پرستی کے ایک اور ذریعہ کی صورت اختیار نہ کر لے۔