اسلامی نظریاتی کونسل کے خلاف افسوسناک مہم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
فروری ۲۰۱۴ء

گزشتہ دنوں سینٹ آف پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں نے اسلامی نظریاتی کونسل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روزنامہ پاکستان لاہور میں ۲۱ جنوری کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان دونوں سیاسی جماعتوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور کی باقیات میں سے ہے اور اپنا کام مکمل کر چکی ہے اس لیے اس کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ۱۹۷۳ء کے دستور کے مطابق اس لیے وجود میں آئی تھی کہ اسلامی علوم اور جدید قانونی تعلیم کے ماہرین پر مشتمل ایک ایسا آئینی فورم موجود ہو نا چاہیے جو حکومت اور عوام کو درپیش مختلف مسائل میں تحقیق اور مطالعہ کے بعد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں راہنمائی فراہم کرے اور ملک میں مروجہ قوانین کا جائزہ لے کر انہیں اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے سفارشات مرتب کرے۔اسلامی نظریاتی کونسل میں ہر دور میں ملک کے ممتاز علماء کرام، مختلف مکاتبِ فکر کے فقہی ماہرین اور جدید قانون کے نامور اسکالرز شامل رہے ہیں اور انہوں نے مختلف ادوار میں قومی و معاشرتی مسائل میں حکومت اور عوام کی راہنمائی کا فریضہ مسلسل سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ ملک میں مروجہ قوانین کا جائزہ لے کر انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق بنانے کے لیے سفارشات کی ایک جامع رپورٹ حکومت کو پیش کی ہے۔ اس لیے کسی مسئلہ پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے آئینی کردار اور محنت و کاوش سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ ملک کے دینی حلقوں کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ دستور کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کی جائے جس کے لیے دستور خود حکومت کو پابند بناتا ہے۔ مگر اس دستوری تقاضے کو پورا کرنے کی بجائے سرے سے اسلامی نظریاتی کونسل کے وجود اور اس کی ضرورت و افادیت کو ہی متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جو انتہائی افسوسناک بات ہے۔

یہ کہنا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی ضرورت نہیں رہی، زمینی حقائق سے انحراف کے مترادف ہے، اس لیے کہ جب تک کونسل کی سفارشات کو متعلقہ منتخب ایوانوں میں پیش کر کے ان کے مطابق قانون سازی کا کام مکمل نہیں کر لیا جاتا اس وقت تک کونسل کا وجود اس دستوری ضروریات کے ناگزیر تقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ ملک کے قوانین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے علاوہ پیش آمدہ مسائل میں حکومت اور عوام کی راہنمائی کا کام ایک مستقل قومی ضرورت ہے، اس لیے جب تک دستور موجود ہے یہ ضرورت بھی باقی رہے گی اور اسلامی نظریاتی کونسل کی ضرورت اور کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کو جنرل ضیاء الحق مرحوم کی باقیات قرار دینا حقائق کے یکسر منافی ہے، اس لیے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے برسرِ اقتدار آ نے سے پہلے بھی یہ دستوری ادارہ موجود تھا کیونکہ اس کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی حکومت کے دور میں ۱۹۷۳ء کے دستور کے نفاذ کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔

اس بنا پر ہم پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے راہنماؤں سے گزارش کریں گے کہ وہ دستور اور اس کے ناگزیر تقاضوں سے انحراف کی راہ اختیار نہ کریں بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اب تک ملکی قوانین کو اسلامی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے جو سفارشات پیش کی ہیں انہیں اسمبلیوں میں لا کر ان کے مطابق قانون سازی کا اہتمام کریں۔خاص طور پر ہم عرض کریں گے کہ پیپلز پارٹی اگر اپنے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دورِ حکومت میں بننے والے دستور اور اس کے تحت قائم ہونے والے اداروں کی نفی شروع کر دے گی تو خود اس کا سیاسی تسلسل اور بھٹو مرحوم کے ساتھ اس کی وفاداری سوالیہ نشان بن کر رہ جائے گی، اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کرنے کا مطالبہ پی پی پی کے فورم سے قطعی طور پر نا قابل فہم ہے اور پی پی پی کی قیادت کو اس سلسلہ میں اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔