اراکانی مسلمانوں کی حالت زار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۵ء

میانمار (برما) میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ، اس کے بارے میں دو تازہ رپورٹیں ملاحظہ فرمائیں۔ایک رپورٹ روزنامہ پاکستان لاہور نے ۱۵ جون ۲۰۱۵ء کو اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین آفس کے حوالہ سے شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:

’’میانمار کی مغربی ریاست راکھینی (اراکان) میں تین برسوں سے جاری خانہ جنگی سے تباہ حال پانچ لاکھ افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کی ضرورت ہے، ان افراد میں زیادہ تر مسلمان ہیں، ان لوگوں میں سے ۴ لاکھ ۱۶ ہزار سے زیادہ کی تعداد کو مدد کی شدید ضرورت ہے جن میں تقریبا ایک لاکھ چالیس ہزار بے گھر افراد ایسے بھی ہیں جو کیمپوں کی بدترین صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان میں سے بہت سے دیگر شہریت سے محروم دیہاتوں میں محصور ہیں۔ اس حوالے سے انسانی ہمدردی سے متعلق رابطہ آفس (او سی ایچ اے) نے تصدیق کی ہے کہ ان لوگوں کی چالیس ہزار سے زیادہ کی تعداد راکھینی ریاست میں ۵۰۰ کلو میٹر کی ساحلی پٹی پر کیمپوں میں مقیم ہے اور مون سون کی آمد کے ساتھ ہی ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں‘‘۔

دوسری رپورٹ روزنامہ اسلام لاہور نے ۱۷ جون ۲۰۱۵ء کو شائع کی ہے کہ:

’’میانمار کے مسلمان اکثریتی صوبہ اراکان میں جون ۲۰۱۲ء کے خونی فسادات سے تاحال گزشتہ تین برسوں میں ۱۱۲۰۷ روہنگیا مسلمانوں کو شہید کیا گیا، ۶۳۱۷ سمندر میں مچھلیوں کی خوراک بنے، ۱۵۱۴ وبائی امراض سے جاں بحق ہوئے، ایک لاکھ نوے ہزار اپنے وطن میں آئی ڈی پیز (جلاوطن) بننے پر مجبور ہوئے۔روہنگیا کے مظلوم مسلمانوں کی ۱۹۳ اجتماعی قبریں تھائی لینڈ اور ملائیشیا کے ساحلوں پر دریافت ہوئیں جبکہ ۸ ہزار سے زیادہ اب بھی کھلے سمندر میں پناہ کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔

ان دل دہلا دینے والے اعداد و شمار کا انکشاف سعودی عرب میں قائم روہنگیا مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم ’’گلوبل روہنگیا سیکٹر ‘‘ (جی آر سی) کے وفد نے پاکستان کے چار روزہ دورے کے اختتام پر صحافیوں کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کیا۔ وفد کی قیادت مکہ مکرمہ میں مقیم روہنگیا مسلمان رہنما الشیخ عبداللہ معروف نے اپنے ترجمان نعیم اللہ کے ساتھ کی، شیخ عبداللہ برما کی ۱۹۳۸ء میں انگریزوں سے آزادی کے بعد کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ ۱۹۳۸ء میں انگریزوں نے برصغیر سے برما کو جدا کرکے مسلمانوں کے لیے ناسازگار حالات کی بنیاد رکھی، جون ۲۰۱۲ء کے خونی آپریشن کے بعد مسلمانوں کے ۷۳ گاؤں نذر آتش کیے گئے، ۱۰ ہزار ۴۵۱ گھر تباہ کیے گئے، ۷۴ مساجد شہید کی گئیں، ۷۳ سکول جلائے گئے، ۱۰۳۰ مساجد پر قبضہ کیا گیا۔

روہنگیا مسلمانوں نے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد ۶۴ :۲۳۸ کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے متحرک کردار ادا کرے اور برمی حکومت پر سفارتی دباؤ ڈالا جائے تاکہ اراکانی مسلمانوں کی نسل کشی بند کی جائے اور متاثرہ صوبے اراکان میں اقوام متحدہ کے امن دستے متعین کیے جائیں ‘‘۔

اراکان کے روہنگیا مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ چٹاگانگ کے ساتھ متصل یہ وادی مسلم اکثریت کی آبادی رکھتی ہے اور کم و بیش ساڑھے تین سو برس یہاں آزاد مسلمان ریاست قائم رہی ہے۔ برطانوی استعمار نے جس دور میں اس علاقے پر قبضہ کیا تب برما متحدہ ہندوستان کا حصہ تھا، لیکن انگریزوں نے برما کو ۱۹۳۸ء میں ایک الگ ملک کی حیثیت سے آزادی دے کر اس سے ملحقہ ریاست اراکان کو تقسیم کر دیا:

  • صدیوں اراکان کا حصہ رہنے والے چٹاگانگ کو بنگال میں شامل کر دیا گیا،
  • اور باقی اراکانی ریاست کو برما کا حصہ بنا دیا گیا۔

برما کی حکومت نے علاقے پر تو قبضہ کر لیا مگر صدیوں سے رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کو برما کا شہری تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ انہیں برما کے دیگر شہریوں کی طرح حقوق نہیں دیے جا رہے اور انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے درجنوں بار نسلی فسادات کرائے گئے، جن میں سب سے خوفناک فساد ۲۰۱۲ء کا مذکورہ بالا فساد تھا اور اس میں ریاستی اداروں نے بھی مسلمانوں کے خلاف بھرپور کردار ادا کیا تھا۔اراکانی مسلمانوں کی بے بسی کا عالم یہ ہے کہ برمی حکومت انہیں ملک سے نکالنے کے لیے شرمناک حربوں پر اتری ہوئی ہے مگر پڑوسی ممالک بالخصوص بنگلہ دیش میں انہیں پناہ گزین اور مہاجر کے طور پر قبول نہیں کیا جا رہا ہے اور ہزاروں اراکانی مسلمان اب بھی کھلے سمندر میں پناہ کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں جنہیں کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ، مسلم حکومتوں اور خاص طور پر حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلہ کو سنجیدگی کے ساتھ عالمی فورم پر اٹھائیں اور برمی حکمرانوں کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ:

  • وہ یا تو اراکانی مسلمانوں کو برما کا باعزت شہری تسلیم کرتے ہوئے ان کے خلاف معاندانہ کاروائیاں بند کر کے ان کے شہری اور انسانی حقوق بحال کریں،
  • اور اگر وہ اس کے لیے تیار نہیں ہیں تو اراکان کے علاقہ کو آزاد ریاست کا درجہ دلوایا جائے تاکہ وہ ماضی کی طرح ایک آزاد اور باوقار قوم کے طور پر زندگی بسر کر سکیں۔

اسی طرح دنیا بھر کے مخیر اداروں، تنظیموں اور افراد کو بھی اس طرف متوجہ ہونا چاہیے اور دربدر ہونے والے بھائیوں کو مناسب ٹھکانہ مہیا کرنے اور ان کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، جبکہ رمضان المبارک کی مبارک ساعات اور اجتماعات میں ان مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ہم آہنگی کے اظہار کے ساتھ ساتھ ان کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے۔

درجہ بندی: