پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز کی سرگرمیاں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۵ء

پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد خان نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں کام کرنے والی متعدد این جی اوز کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ کہ ملکی مفاد کے خلاف کسی کو کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور غیر قانونی کام کرنے والی این جی اوز کو بند کر دیا جائے گا۔

پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) مختلف سطحوں پر کام کر رہی ہیں اور تعلیم، سماجی بہبود، صحت اور رفاہ عامہ کے دیگر کاموں کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں ملک کے ہر حصہ اور قومی زندگی کے ہر شعبہ میں پھیلی ہوئی ہیں، ان میں ملکی تنظیموں کے ساتھ ساتھ غیرملکی تنظیموں کا بھی ہر طرف جال بچھا ہوا ہے، جن کے لیے نہ صرف فنڈز باہر سے آتے ہیں بلکہ ان کی پالیسیاں اور ایجنڈا بھی بیرون ملک طے ہوتا ہے۔اصولی طور پر کسی بھی ملک کے عوام کو صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر ضروریات میں سہولت فراہم کرنا اور ان کی مدد کرنا ایک اچھی بات ہے اور یقیناً ایسی تنظیمیں بھی موجود ہیں جو اسی دائرہ میں اور انہیں مقاصد کے لیے سرگرم عمل ہیں، لیکن بد قسمتی سے ایسی بہت سی تنظیموں اور اداروں کو جاسوسی، تہذیبی خلفشار، سیاسی افراتفری اور سماجی عدم استحکام کے لیے جس بے دردی سے استعمال کیا جا رہا ہے اس سے ان اداروں کی ساکھ ختم ہو کر رہ گئی ہے اور ان جی اوز کا نام زبان پر آتے ہیں مذکورہ منفی مقاصد کی ذہن میں لائن لگ جاتی ہے۔

خاص طور پر پاکستان میں غیر ملکی این جی اوز نے ثقافتی محاذ پر عریانی اور فحاشی کے فروغ، اسلامی اقدار و روایات کو مجروح کرنے اور خاندانی نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے جن مکروہ حرکتوں کا ہر طرف جال پھیلا رکھا ہے اور پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص کو کمزور کر کے وطن عزیز کو سیکولر ریاست کی حیثیت دینے کے لیے بہت سی این جی اوز جو کچھ کر رہی ہیں وہ کسی بھی محب وطن پاکستان کو مضطرب کرنے کے لیے کا فی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے اس اضطراب اور بے چینی کا وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا ہے۔ لیکن یہ این جی اوز بے خوف و خطر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں بیرونی مالی معاونت کے ساتھ ساتھ اس درجہ کی پشت پناہی میسر ہے کہ پاکستانی عوام کا احتجاج اور اضطراب بلکہ حکومتی انتباہات بھی ان کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔

اس کی ایک چھوٹی سی تازہ مثال یہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی مذکورہ پریس کانفرنس کے بعد مبینہ طور پر ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والی ایک سو سے زائد این جی اوز کی قومی پریس میں نشاندہی کی گئی اور ان میں سے ایک تنظیم (سیو دی چلڈرن )کے دفاتر کو سیل کیا گیا جو امریکی این جی او کے طور پر متعارف ہے لیکن دفاتر کو سیل کرنے کے بعد چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ ان دفاتر کو دوبارہ کھول دیا گیا اور پابندی کا حکم واپس لے لیا گیا ۔ اس سے پاکستان کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کی سطح کے ساتھ ساتھ اس این جی اوز کے اثر و رسوخ کا بھی بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

اس لیے ہم وفاقی وزیر داخلہ کے عزم کو سراہتے ہوئے اسے حب الوطنی کا اظہار قرار دیتے ہیں اور انہیں اس سلسلہ میں ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے گزارش کرتے ہیں کہ جس طرح دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن کے لیے تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کارروائی کی جا رہی ہے اسی طرح ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والی غیر ملکی این جی اوز کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی قومی سطح پر وسیع تر مشاورت اور پالیسی سازی کا اہتمام ضروری ہے۔ اس لیے کہ جس طرح دہشت گردی سے حکومتی رٹ اور قومی خودمختاری کو خطرہ ہے اسی طرح غیر ملکی این جی اوز کا ملکی مفاد و قانون اور حکومتی ہدایات و انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے دندناتے پھرنا بھی قومی خودمختاری اور ملکی سالمیت کے لیے سنگین خطرہ کی حیثیت رکھتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہم اس حوالے سے محب وطن دینی و سیاسی حلقوں سے گزارش کریں گے کہ وہ صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور وطن عزیز کی نظریاتی شناخت، قومی وحدت و خودمختاری، ملکی سالمیت اور سماجی استحکام کے تحفظ و بقا کے لیے کردار ادا کریں۔