سودی نظام کے حوالہ سے شریعہ اکیڈمی اسلام آباد کا ایک اہم سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ اگست ۲۰۱۹ء

گزشتہ ہفتہ کے دوران ۶ اگست کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے منعقدہ ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے ریکٹر محترم ڈاکٹر محمد یاسین معصوم زئی میرِ محفل تھے جبکہ شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد اور ان کے رفقاء کی دلچسپی اور محنت سیمینار کی بھرپور کامیابی میں نمایاں طور پر جھلک رہی تھی۔ قومی اسمبلی میں انسدادِ سود کا بل پیش کرنے والے مولانا عبد الاکبر چترالی ایم این اے مہمان خصوصی تھے اور خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر زاہد صدیق مغل، مولانا مفتی محمد زاہد، ڈاکٹر حافظ عاطف وحید اور ریٹائرڈ جسٹس محمد رضا کے علاوہ وفاقی شرعی عدالت میں نظرثانی کی اپیل پر جماعت اسلامی اور تنظیم اسلامی کی طرف سے کیس کی پیروی کرنے والی وکلاء ٹیم کے سربراہ قیصر امام ایڈووکیٹ بھی شامل تھے۔

اس وقت سودی نظام کے خاتمہ کی جدوجہد قومی اسمبلی اور وفاقی شرعی عدالت میں جاری ہے، قومی اسمبلی کے رکن مولانا عبد الاکبر چترالی کا پیش کردہ بل قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے جس کی رپورٹ کے بعد ایوان میں یہ بل زیربحث لانے کا مرحلہ ہوگا، جبکہ وفاقی شرعی عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظرثانی یا اس کی ازسرنو سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔ سیمینار میں ان دونوں محاذوں کی صورتحال سے شرکاء کو آگاہ کیا گیا، سودی نظام کے مختلف پہلوؤں بالخصوص قومی اور عالمی سطح پر سودی نظام سے نجات کے لیے ہونے والے کام کا جائزہ لیا گیا اور اسے مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔

سیمینار میں مختلف اصحاب فکر و دانش کی گفتگو خاصی معلومات افزا اور فکر انگیز تھی جسے اگر مرتب کر کے شائع کیا جا سکے تو یہ اس مسئلہ پر رائے عامہ اور علمی حلقوں کی راہنمائی کے لیے بہت مفید ہوگی۔ مجھے سودی نظام کے خاتمہ کے لیے دینی حلقوں کی جدوجہد پر تبصرہ کرنا تھا مگر وقت کا دامن تنگ ہونے کے باعث مختصر گفتگو میں اتنا ہی عرض کر سکا کہ اس جدوجہد میں دینی حلقوں بالخصوص دینی تعلیمی اداروں کی جدوجہد کے تین بڑے دائرے ہیں:

  1. ایک یہ کہ سودی نظام کی نحوست اور اس کے خلاف جدوجہد کی شرعی حیثیت اور ضرورت سے قوم کو ہر سطح پر آگاہ کیا جاتا رہے۔
  2. دوسرا یہ کہ اسلامی نظام معیشت کے مختلف پہلوؤں کو دلیل و منطق کے ساتھ آج کے اسلوب میں پیش کرنے کا اہتمام کیا جائے اور اس سلسلہ میں عالمی اور قومی سطح پر سامنے لائے جانے والے شکوک و اعتراضات کا معقول انداز میں جواب دیا جائے۔
  3. جبکہ اس کے ساتھ تیسرے مرحلہ میں ملک میں ایسا تحریکی ماحول پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے جو ہمارے ہاں کسی بھی قومی یا دینی مسئلہ پر حکمرانوں کو توجہ دلانے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

میں نے اپنے اس احساس کا بھی تذکرہ کیا کہ ان تینوں شعبوں میں خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا جس کے لیے دینی جماعتوں، مدارس، خطباء، اساتذہ اور دیگر علمی حلقوں کو خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

قومی اسمبلی میں سودی نظام کے خاتمہ کے بل کے محرک مولانا عبد الاکبر چترالی کے خطاب کا ایک حصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے جس میں انہوں نے اب تک محنت کا سرسری جائزہ پیش کیا ہے:

  • اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قائد اعظم مرحوم نے جو اپنی زندگی کی جو آخری تقریر کی وہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو کراچی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے کی تھی۔ اس میں انہوں نے مغربی سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونسٹ نظام دونوں کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور یہ ہدایت کی کہ اسٹیٹ بینک اسلامی خطوط کے مطابق ایک نئے معاشی نظام کا ڈھانچہ تیار کرے جس کی بنیاد پر پاکستان کا نظام استوار کیا جائے۔
  • پھر ۱۹۵۲ء میں دستور سازی کا عمل شروع ہوا، اس وقت کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین مرحوم نے ایک مسودہ دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔
  • ۱۹۵۴ء میں محمد علی بوگرہ مرحوم کا مسودہ آیا جس کو غلام محمد مرحوم نے ناکام بنایا اور دستور پاس کیے بغیر اسمبلی توڑ دی۔
  • ۱۹۵۶ء کے دستور میں اور پھر ۱۹۶۲ء کے بڑی حد تک سیکولر دستور میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے یہ بات شامل کی کہ پاکستان کی معیشت سے سود کا خاتمہ کیا جائے۔
  • ۱۹۷۳ء کے متفقہ دستور کے آرٹیکل ’’۳۸۔و‘‘ میں لکھا گیا ہے کہ سود کو جتنا جلدی ممکن ہو ملکی معیشت سے ختم کیا جائے گا۔
  • اسلامی نظریاتی کونسل نے پہلے ۱۹۷۳ء میں، پھر ۱۹۸۰ء میں، اس کے بعد کئی بار سودی نظام کے خاتمے کی تجاویز اور سفارشات پیش کی ہیں۔
  • ۲۹ ستمبر ۱۹۷۷ء کو جنرل ضیاء الحق مرحوم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایت کی کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے تجاویز اور دستاویزات پیش کرے۔ کونسل نے نومبر ۱۹۷۸ء کو تجاویز/سفارشات تیار کر کے پیش کیں اور فروری ۱۹۷۹ء میں انسداد سود کا تین سالہ منصوبہ ’’سودی معاملات کو ملکی معیشت سے نکال دیا جائے‘‘ پیش کیا جس پر عملدرآمد کے آغاز کے طور پر اگست ۱۹۷۹ء کو ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے معاملات کو سود سے پاک کر کے کیا گیا، لیکن بدقسمتی سے بعد میں ایسا نہ ہو سکا۔
  • پھر ۱۹۸۴ء میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سرکلر نمبر ۱۳ جاری کیا جو کہ ۲۰ جون ۱۹۸۴ء کو جاری ہوا۔ اس سرکلر میں یہ بات لکھی گئی تھی کہ یکم جولائی ۱۹۸۵ء سے ملک کے تمام معاملات اور بینکاری کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر اسلامی خطوط کے مطابق ہوں گی۔
  • گویا اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور حکومت پاکستان نے ۱۹۷۷ء سے لے کر ۱۹۸۴ء تک تمام ضروری تیاری کر لی تھی۔ یکم جولائی ۱۹۸۵ء سے پورا سودی نظام تبدیل کیے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
  • ۱۹۸۰ء میں وفاقی شرعی عدالت قائم ہوئی تو اس وقت وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں مالیاتی قوانین کا معاملہ نہیں تھا۔ ۱۹۹۰ء میں مالیاتی قوانین وغیرہ کی عدالتی نظرثانی کا معاملہ ان کے اختیار میں آیا۔
  • ۱۶ نومبر ۱۹۹۱ء کو وفاقی شرعی عدالت نے ملک کے ۲۲ سودی قوانین کے بارے میں اپنا مشہور فیصلہ دیا۔ اس کے خلاف حکومت وقت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی، حالانکہ وہ حکومت اسلام کا نام لے کر اقتدار میں آئی تھی۔
  • ۲۳ دسمبر ۱۹۹۱ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس اپیل کا فیصلہ ہوا اور اس فیصلہ کو برقرار رکھا گیا جو وفاقی شرعی عدالت نے کیا تھا۔
  • پھر ۲۰۰۲ء میں سپریم کورٹ شریعت ایپلٹ بینچ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے ریوینیو بینچ نے ازسرنو سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا جو ہنوز قائم ہے۔ چنانچہ آج ہم اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں ۱۹۸۰ء میں تھے۔‘‘