ایبٹ آباد میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سیمینار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ اگست ۲۰۱۹ء

۱۸ اگست ۲۰۱۹ء کو پریس کلب ایبٹ آباد میں مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی حیات و خدمات کے تذکرہ کے لیے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت شہر کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی عبد الواجد نے کی جبکہ میزبان مسجد بیت الحکمت کے خطیب مولانا شکیل اختر تھے۔ سیمینار سے خطاب کرنے والوں میں مولانا شیخ نذیر احمد احمدزئی، پروفیسر حافظ وقار احمد، مولانا اورنگزیب اعوان، جناب ابوبکر شیخ، جناب عنایت خان سواتی اور جناب فاروق کشمیری شامل ہیں۔ اس موقع پر مجھے جو گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ سیمینار کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی یاد میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں شرکت کا موقع فراہم کیا۔ مجھ سے پہلے فاضل مقررین نے حضرت سندھیؒ کی حیات و خدمات کے مختلف پہلوؤں پر اپنے اپنے ذوق کے مطابق اظہار خیال کیا ہے اور مجھے بھی چند معروضات آپ حضرات کے گوش گزار کرنی ہیں۔

مولانا سندھیؒ کا بنیادی تعارف یہ ہے کہ وہ شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ کے قافلہ کے اہم ترین فرد تھے، شیخ کے معتمد تھے اور بہت سے معاملات میں ان کے ترجمان تھے، ان کے بارے میں گفتگو کے بیسیوں دائرے ہیں جن میں ایک پہلو پر کچھ عرض کروں گا کہ وہ جب کم و بیش ربع صدی کی جلاوطنی کے بعد وطن واپس لوٹے تو انہوں نے اپنی جدوجہد اور تگ و تاز کے کچھ تجربات و مشاہدات بتائے ان میں سے تین باتیں بطور خاص میری آج کی گفتگو کا عنوان ہوں گی۔

پہلی بات یہ کہ اس سفر میں انہیں بین الاقوامی ماحول اور نظاموں کے مطالعہ اور اقوام عالم کی باہمی کشمکش کا جائزہ لینے کا موقع ملا۔ مولانا سندھیؒ نے افغانستان اور برطانیہ کی جنگ کا مشاہدہ کابل میں بیٹھ کر کیا، روس کے کمیونسٹ انقلاب کو ماسکو میں رہ کر دیکھا، ترک میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ اور جدید ترکی کے قیام کو استنبول میں رہ کر ملاحظہ کیا، اور برلن میں وقت گزار کر مغربی یورپ اور جرمنی کی کشمکش کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ وہ دنیا کی صورتحال کو ان قوموں کے درمیان رہ کر اور ان لوگوں سے براہ راست مل کر صحیح طور پر سمجھ پائے۔ میں اس حوالہ سے عرض کروں گا کہ بین الاقوامی نظام اور ماحول کو سمجھنے اور اس میں اپنے لیے راستہ نکالنے کے لیے دوسری قوموں کے اہل دانش کے ساتھ اسی طرح ملنے ملانے کی آج بھی ضرورت ہے اور یہ کام ’’لامساس‘‘ کے دائرے میں بند رہتے ہوئے نہیں ہو سکتا۔

میں اس سے قبل کا ایک حوالہ دینا چاہوں گا کہ یونانی فلسفہ کے فروغ کے دور میں جب اسلامی عقائد و احکام پر عقلی و فکری یلغار ہوئی اور شکوک و شبہات کا طوفان کھڑا کر دیا گیا تو اس کا مقابلہ کرنے والے امام ابوالحسن اشعریؒ، امام ابو منصور ماتریدیؒ اور دیگر ائمہ نے یونانی فلسفہ کو سیکھ کر بلکہ اس پر عبور اور گرفت حاصل کر کے اسی کی زبان میں شکوک و شبہات کا جواب دیتے ہوئے اسلامی عقائد و احکام کا تحفظ کیا تھا، اور انہیں یہ فلسفہ سیکھنے کے لیے انہی سے رجوع کرنا پڑا تھا ورنہ اپنے داخلی ماحول میں محدود رہ کر وہ یہ کام نہیں کر سکتے تھے۔

اسی طرح مولانا سندھیؒ اور ان کے رفقاء کو اپنے دور کے عالمی نظام اور ماحول کو سمجھنے کے لیے انہی کے ماحول میں جانا پڑا اور سالہا سال وہاں رہ کر انہوں نے اس مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ میں اس کے ثمرات میں سے صرف ایک کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ مولانا سندھیؒ کے دست راست مولانا محمد میاں انصاریؒ جو حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے اور جلاوطنی سمیت اکثر معاملات میں مولانا سندھیؒ کے سرگرم رفیق کار تھے، انہوں نے اپنے علمی مشاہدات و تجربات کے نچوڑ کو دو رسالوں میں سمیٹ دیا ہے۔ ایک رسالے کا نام ’’انواع الدول‘‘ ہے جس میں دنیا کے مختلف حکومتی نظاموں کا تعارف اور تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے، اور دوسرا رسالہ ’’دستور اساسی ملت‘‘ کے عنوان سے ہے جس میں ایک اسلامی حکومت کے اصول و قوانین کو واضح کیا گیا ہے، یہ دونوں رسالے فارسی میں ہیں۔ اور انہی کے فرزند مولانا حامد الانصاری نے ’’اسلام کا نظام حکومت‘‘ کے نام سے جو ضخیم کتاب لکھی ہے وہ میرے خیال میں ان دو رسالوں کی آزادانہ تشریح کی حیثیت رکھتی ہے۔

حضرت شیخ الہندؒ کے تربیت یافتہ علماء کرام اور اس حلقہ کے ارباب فکر و دانش نے اس دور کے علمی و فکری تقاضوں اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے علم و فکر اور تحقیق و مطالعہ کے محاذ پر اور بھی بہت سے وقیع کام کیے تھے جس میں مذکورہ بالا کتاب کے علاوہ مولانا حفظ الرحمان سیوہارویؒ کی تصنیف ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘، مولانا سعید احمد اکبر آبادیؒ کی کتاب ’’اسلام اور غلامی‘‘ اور مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کی ’’اسلامی معاشیات‘‘ کے ساتھ ساتھ نظام امن، نظام اخلاقیات، نظام معاشرت اور دیگر عنوانات پر مختلف بزرگوں کی متعدد تصنیفات شامل ہیں۔ مگر یہ علمی و فکری کام اب جاری دکھائی نہیں دیتا اور ہم بزرگوں کی عبارات نقل کر دینے کے سوا خود کوئی کام نہیں کر پا رہے، جبکہ علمی و فکری ہوم ورک کے بغیر کسی تحریک کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا۔ میرے خیال میں شیخ الہندؒ اور ان کی جماعت کے حوالہ سے کام کی خواہش رکھنے والوں کو سب سے زیادہ اس کی فکر ہونی چاہیے اور آج کے دور کے، علمی، فکری اور تہذیبی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیق و مطالعہ اور تصنیف و تالیف کا یہ سلسلہ بحال کرنا چاہیے ورنہ وہ محض نعرہ بازی کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گے۔

بہرحال مولانا سندھیؒ کا یہ ارشاد ہم سب کے لیے قابل توجہ ہے کہ وہ عالمی ماحول، مختلف نظاموں اور بین الاقوامی کشمکش کو کابل، ماسکو، برلن، مکہ مکرمہ اور استنبول میں جا کر اور ان سب سے مکالمہ و مباحثہ کے بعد سمجھ پائے تھے اس لیے ہمیں بھی آج ’’چھوئی موئی‘‘ کے ماحول سے نکل کر موافق و مخالف سب کے پاس جانا ہوگا اور سب سے مکالمہ و مباحثہ کا اہتمام کرنا ہوگا ورنہ آج کے دور کی ضروریات کا صحیح طور پر ادراک ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا، جبکہ عملی جدوجہد تو اس سے اگلے درجہ میں ہوتی ہے۔

مولانا سندھیؒ کی دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں، ان کا یہ ارشاد ہے کہ وہ اس ماحول میں جا کر اور ان لوگوں میں وقت گزار کر اپنا ایمان و یقین محفوظ رکھنے میں اس لیے کامیاب ہو سکے تھے کہ ان کی اپنی علمی اور روحانی اساس مضبوط تھی۔ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت سے گہری وابستگی، حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ تلمذ و رفاقت کے رشتہ اور بھرچونڈی شریف کی روحانی تربیت نے ان کے لیے حصار کا کام دیا اور وہ اپنے دینی ذوق و ماحول کو محفوظ رکھنے میں کامیاب رہے۔

یہ بات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ عالمی تہذیبی و فکری کشمکش کو سمجھنے اور اس ماحول میں اسلام کے احکام و قوانین کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے جہاں مشترکہ ماحول میں جانا اور وسیع تر مکالمہ و مباحثہ ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ایسا کرنے والوں کی اپنی علمی، دینی اور روحانی اساس مضبوط ہو، کیونکہ کمزور دینی و روحانی تعلیم و تربیت رکھنے والے لوگ تو خود کو اس ماحول کے حوالے کر دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ ذمہ داری ہمارے دینی مدارس اور روحانی خانقاہوں کی ہے کہ وہ دینی تعلیم اور روحانی تربیت کے نظام کو اس حوالہ سے بھی دیکھیں اور اسے اتنا مضبوط بنائیں کہ ان کے پاس چند سال گزار کر کہیں بھی جانے والا شخص وہاں کے ماحول سے منفی اثرات نہ لے۔

حضرت سندھیؒ کی تیسری بات اس سے بھی زیادہ قابل توجہ ہے کہ میں سارے نظاموں اور عالمی کشمکش کے وسیع تر مطالعہ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مستقبل میں دنیا کے پاس قرآن کریم کے فطری نظام کو اپنانے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوگا لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ قرآن و سنت کے فطری احکام و قوانین سے دنیا کو متعارف کرانے کے لیے امام ولی اللہ دہلویؒ کے فلسفہ و حکمت اور اسلوب کو اختیار کیا جائے جو قرآن فہمی کے لیے آج کے ماحول میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اس حوالہ سے میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کا مطالعہ ہمیں آج کی سماجی ضروریات اور معاشرتی تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا چاہیے، اور محض بزرگوں کی عبارات نقل کرتے چلے جانے کی بجائے ان کے اسلوب اور ان کے قائم کردہ اصولوں کو اختیار کر کے آج کے علمی ماحول اور سماجی تقاضوں کے دائرے میں علمی و تحقیقی کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ اور یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ حضرت شیخ الہندؒ اور ان کی جماعت کی علمی و فکری جدوجہد کو بھی پوری صدی گزر چکی ہے اور ایک سو سال کے دوران رونما ہونے والے تغیرات اور جدید تقاضوں کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں یہ کام انہی بزرگوں کے اسلوب کے مطابق آج کے ماحول میں کرنا ہوگا اور ان تغیرات اور تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہوگا جو گزشتہ ایک صدی کے دوران رونما ہوئے ہیں۔

اس موقع پر میں ایک اور سوال کا بھی جائزہ لینا چاہتا ہوں جو حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے بعض تفردات کے حوالہ سے سامنے آتا ہے اور ان پر بحث و مباحثہ کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ جو شخص بھی علم و فکر اور تحقیق و مطالعہ کے وسیع ماحول میں جائے گا وہ دو چار نئی باتیں ضرور کرے گا، یہ فطری بات ہے، علم ایک سمندر ہے اور سمندر میں جتنی بار بھی غوطہ لگائیں گے کوئی نہ کوئی نئی چیز ضرور ہاتھ آئے گی۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کونسی نئی بات قابل قبول ہوگی اور کونسی رد کر دی جائے گی۔ یہ سوال مجھ سے ایک اور انداز میں کیا گیا تھا کہ تجدید اور تجدد میں کیا فرق ہے؟ کیونکہ نئی باتیں مجدد بھی کرتا ہے اور متجدد بھی کرتا ہے، دونوں میں حد فاصل کیا ہوگی؟ میں نے گزارش کی کہ تفردات تو تحقیق و مطالعہ کا فطری اور لازمی نتیجہ ہوتے ہیں ان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، آپ اگر ماضی کے ارباب علم و دانش اور اصحاب فضل و کمال کے تفردات شمار کرنا چاہیں تو تھک جائیں گے مگر ان کا احاطہ نہیں کر سکیں گے۔ اس لیے تجدید اور تجدد کے فرق کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم ’’ارتقاء‘‘ کے مفہوم کو سمجھیں کیونکہ تجدید فقہی ارتقاء کا نام ہے۔

علم و فن کے کسی بھی شعبہ اور دائرہ میں آپ اب تک ہونے والے کام کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی بنیاد پر کام کو آگے بڑھائیں اور اسی کے تسلسل کو جاری رکھیں تو یہ ارتقاء کہلائے گا۔ لیکن اگر اب تک ہونے والے کام کی نفی کرتے ہوئے الٹی زقند لگا کر زیرو پوائنٹ پر واپس جا کھڑے ہوں گے تو یہ ارتقاء نہیں رجعت قہقرٰی ہوگی، کیونکہ ارتقاء آگے بڑھنے کو کہتے ہیں، ریورس گیئر لگا دینا ارتقاء نہیں ہوتا۔ اسی طرح فقہ و شریعت میں اب تک ہونے والے کام کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کا احترام کرتے ہوئے آج کی ضروریات کو سامنے رکھ کر آپ اس کے تسلسل کو آگے بڑھائیں تو یہ تجدید کا کام ہوگا، لیکن اگر ماضی کے کام کی نفی اور تحقیر کر کے زیرو پوائنٹ سے کام دوبارہ شروع کرنا چاہیں تو یہ تجدد ہوگا، اس فرق کو سامنے رکھ لیا جائے تو میرے خیال میں تجدید اور تجدد کے درمیان حد بندی کی جا سکتی ہے۔

بہرحال مجھے خوشی ہے کہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے علمی و فکری کام اور حضرت شیخ الہندؒ کی جدوجہد کو سمجھنے کی ضرورت نوجوان علماء محسوس کر رہے ہیں جو آج کے دور کا ایک اہم علمی و فکری تقاضہ ہے، اللہ تعالٰی ان علماء کی جدوجہد کو ترقی و برکات اور ثمرات و قبولیت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔