ایران کا ایٹمی سمجھوتہ اور مشرق وسطیٰ کا مستقبل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۵ء

ایران کے ساتھ چھ بڑے ممالک کے ایٹمی سمجھوتے پر دنیا بھر میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے، ایران میں اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے جشن کا سماں ہے، اقتصادی پابندیوں کے ختم ہو جانے پر ہر طرف خوشی منائی جا رہی ہے اور اسے ایران کی سفارتی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ معروضی صورتحال میں ہمیں بھی اس سے اختلاف نہیں ہے مگر اصولی طور پر دیکھا جائے تو اسے حالات کے جبر اور طاقت کی حکمرانی کے روایتی طریقِ کار کی ایک بار پھر توثیق کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا کہ دنیا کا ایک ملک ایٹمی ہتھیار بنانے کے حق سے صرف اس لیے ہنسی خوشی دستبردار ہو گیا ہے کہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والی قوتوں کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ان کے علاوہ کوئی ملک بھی ایٹمی ہتھیاروں کو اپنے استعمال کے لیے تیار کر سکے۔

ان چند ملکوں کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کا حق حاصل ہے اور باقی دنیا کو یہ حق حاصل نہیں ہے، اس کے جواز کے لیے یہ خود ساختہ اصول وضع کر لیا گیا ہے کہ یہ چند ملک ذمہ داری کے احساس سے بہرہ ور ہیں اور باقی ساری دنیا اس قابل نہیں ہے کہ اسے اس حوالہ سے ذمہ دار ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیا جا سکے، اس لیے ان چند ممالک کے لیے ایٹمی ہتھیار بنانا اور رکھنا جائز ہے اور باقی کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ پوری دنیا ان کی عسکری برتری کے سامنے سرنگوں رہے اور کوئی ان کو چیلنج نہ کر سکے، جبکہ معروضی صورتحال یہ ہے کہ جو ملک ایٹمی ہتھیار استعمال کر کے ہزاروں افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے وہ اس حوالہ سے سب سے ذمہ داری کا احساس رکھنے والا ملک قرار پایا ہے اور جن ملکوں میں ابھی ایٹمی ہتھیار تیار کر لینے کی نوبت بھی نہیں آئی ان کے سینوں پر ’’غیر ذمہ داری‘‘ کے تمغے آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ پھر بات صرف ایٹمی ہتھیاروں پر اجارہ داری قائم کرنے تک محدود نہیں بلکہ عالمی نظام کی بنیاد اس اصول پر کھڑی کر دی گئی ہے کہ جس ملک کے پاس ایٹم بم موجود ہے اور جسے ذمہ دار ایٹمی طاقت تسلیم کر لیا گیا ہے اسے یہ بھی اختیار ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بیٹھ کر پوری دنیا کے کسی بھی اجتماعی فیصلے کو صرف ایک انگلی اٹھا کر مسترد کر سکتا ہے اور اس کے لیے کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا جانے ’’جنگل کا قانون‘‘ کسے کہا جاتا ہے اور ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے محاورے کا اطلاق اس کے علاوہ اور کون سے طرز عمل پر ہو سکتا ہے، مگر یہ حالات کا جبر اور طاقت کا کرشمہ ہے کہ بے اصولی پر اصول کا لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے اور دھونس کو قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔

ان ’’بھلے مانسوں‘‘ سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ جو ہتھیار رکھنے کا ایک ملک کو حق حاصل ہے وہ حق دوسرے ملک کو کیوں حاصل نہیں ہے؟ یہ سادہ سی بات ہے جسے میڈیا، لابنگ اور یکطرفہ قانون سازی کے زور سے گورکھ دھندا بنا دیا گیا ہے اور دنیا بھر کے اداروں اور حکومتوں کے ساتھ ساتھ ’’عقل و دانش‘‘ بھی اسی کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے۔ ہمارے نزدیک چھ بڑے ملکوں کے ساتھ ایران کے ایٹمی سمجھوتے کا سب سے اہم پہلو یہی ہے اور عقل، دانش، انصاف اور عدل کے کسی دائرے میں اسے فٹ کرنے کی ہمیں کوئی صورت سمجھ میں نہیں آرہی، صرف اتنی بات ہے کہ ایران کے پڑوس میں عراق کی ایٹمی تنصیبات کو اسرائیل نے تباہ کر دیا تھا اور اس ملک میں ممنوعہ ہتھیاروں کی موجودگی کی جھوٹی رپورٹوں پر بڑی طاقتوں نے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، جبکہ لیبیا کے ایٹمی اثاثوں کو یہ اجارہ دار ملک اٹھا کر ہی لے گئے ہیں، (اس صورتحال میں) ایرانی قیادت نے سمجھداری کا ثبوت دیا ہے اور کامیاب سفارتکاری کے ذریعے خود کو عراق اور لیبیا جیسے حشر سے بچا لیا ہے، اسے حکمت و مصلحت تو کہا جا سکتا ہے لیکن کیا یہ انصاف کا تقاضہ بھی ہے؟ اس سوال کا جواب اثبات میں دینا کم از کم ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔

البتہ اس معاملہ کا ایک اور پہلو بھی ہے جو ہمارے لیے زیادہ قابل توجہ ہے کہ ایران کا ایک عالمی ایجنڈا تھا جس میں وہ بظاہر امریکہ کے مقابل کھڑا دکھائی دیتا تھا اور یہ بات اس کے علاقائی ایجنڈے میں پیشرفت کے لیے اہم رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ جبکہ اس کا علاقائی ایجنڈا مشرق وسطیٰ میں اسی طرح کی چودھراہٹ اور اجارہ داری کے حصول کا ہے جیسی چودھراہٹ کے لیے جنوبی ایشیا میں بھارت ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، ایرانی قیادت تاثر یہ دے رہی ہے کہ اس کا اس محاذ پر مد مقابل اسرائیل ہے جبکہ اس کی پالیسیوں کا ہدف سب سے زیادہ عرب ممالک بن رہے ہیں کہ عراق، یمن، شام، بحرین، کویت اور لبنان اس حوالہ سے اس کی جولانگاہ کا حصہ ہیں اور سعودی دانشوروں کا کہنا ہے کہ ان کا ملک اس کے نشانہ پر ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس ایٹمی سمجھوتے کے ذریعے فی الحال ایران نے اپنے عالمی ایجنڈے کو بریک لگائی ہے اور وہ علاقائی ایجنڈے میں پیشرفت کے لیے نہ صرف فارغ ہو گیا ہے بلکہ اس نے عالمی طاقتوں کو اپنا ہمنوا بنا لینے کے امکانات بھی پیدا کر لیے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ مشرق وسطی میں جغرافیائی تبدیلیوں اور بین الاقوامی سرحدات میں تغیر و تبدل کے جن خدشات کا عرصہ سے عالمی سطح پر تذکرہ ہو رہا ہے انہیں روبہ عمل لانے کی خدانخواستہ راہ ہموار ہو جائے اور خاص طور پر اس بارے میں وائٹ ہاؤس نے جو اشارات دے رکھے ہیں وہ زمینی حقائق کی صورت اختیار کرنا شروع کر دیں۔

یہ صورتحال عرب ممالک کے لیے بالعموم اور دنیا بھر کے اہل سنت کے لیے بالخصوص لمحۂ فکریہ ہے بلکہ حرمین شریفین کے مستقبل کے حوالہ سے الارم کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن کیا ہم نے باہمی مفادات اور ترجیحات کی کشمکش میں فکر، دانش اور حقیقت شناسی کے لیے اندر آنے کی کوئی کھڑکی کھلی بھی چھوڑ رکھی ہے؟ فاعتبرو یا اولی الابصار۔