بھارتی سپریم کورٹ کا ایک افسوسناک فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۱۵ء

ممتاز بھارتی کالم نگار ڈاکٹر وید پرتاب ویدک کے روزنامہ دنیا گوجرانوالہ میں ۲۱ جولائی ۲۰۱۵ء کو شائع ہونے والے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیے:

’’بھارت کی سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس نے ایک غیر شادی شدہ والدہ کی اس اپیل کو قبول کر لیا ہے کہ اس کا بچہ اپنے والد کی بجائے اپنی والدہ کا نام لکھے، اب ایسے بچوں کو اپنے والد کا نام لکھنا بتانا ضروری نہیں ہوگا۔

عدالت کا یہ فیصلہ پڑھتے ہی میرے دماغ میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ ہم سب بھارتی ہر جگہ اپنی ماں کا نام لکھیں؟ والد صاحب کا نام جنہیں لکھنا ہے ضرور لکھیں لیکن کسی بھی سرکاری اور غیر سرکاری دستاویز پر ماں کا نام لکھنا لازمی کیوں نہیں ہونا چاہیے؟ کسی بھی اولاد کے لیے والدین کا نام ہونا ضروری ہے لیکن والدہ کی حقیقت تو مستند ہوتی ہے، ہم حقیقت کے بدلے اندازے کو زیادہ اہمیت کیوں دیتے ہیں؟‘‘

کسی کی شناخت کے لیے باپ کی بجائے ماں کے نام کو کافی سمجھنا اور باپ کے نام کو غیر ضروری قرار دے دینا آج کی اس تہذیب و ثقافت کا منطقی نتیجہ ہے جس کی بنیاد زنا کو قانونی جواز اور سماجی تحفظ فراہم کرنے پر ہے۔ ظاہر بات ہے کہ جب معاشرہ میں نکاح کو ایک اضافی تکلف کا درجہ حاصل ہو جائے گا اور زنا کو جواز فراہم کر کے اسے نسب کے ثبوت کے تسلیم شدہ ذرائع میں شامل کر لیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ باپ کا تعین نہ صرف غیر ضروری سمجھا جائے گا بلکہ آج کی دانش اسے حقیقت کی بجائے ’’اندازہ‘‘ قرار دینے میں عافیت محسوس کرنے لگے گی۔ اسلام نے ان دونوں باتوں کو تسلیم نہیں کیا، قرآن کریم کا حکم ہے ’’ادعوہم لآباء ہم‘‘ بچے کو باپ کے نام سے ہی پکارو۔ اور صرف اس صورت میں اسے ماں کے نام سے پکارنے کی اجازت دی گئی ہے کہ جس عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اس کا خاوند اسے اپنا بچہ تسلیم کرنے سے عدالت میں انکار کر دے اور عدالت اس کا نسب اس باپ سے منقطع کر نے کا فیصلہ صادر کر دے، یا غیر شادی شدہ ماں کے بچے کے بارے میں عدالت اس قسم کا کوئی فیصلہ دے دے۔ ورنہ اسے عمومی قانون کے طور پر قبول کرنے کی اسلامی تعلیمات میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

اسی طرح جناب نبی اکرمؐ نے ’’الولد للفراش و للعاہر الحجر‘‘ فرما کر زنا کو نسب کا جائز سبب تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، یہی وجہ ہے کہ تمام تر خرابیوں ور مغربی تہذیب کی ہر طرح کی دخل اندازی کے باوجود مسلمانوں کا خاندانی نظام آج مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہے اور مغرب میں خاندانی نظام کے بکھر جانے پر پریشان مغربی دانش نے مسلمانوں کے خاندانی نظام کو رشک کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے، فالحمد للّٰہ علی ذلک۔ مغربی تہذیب نے مادر پدر آزادی کا جو ماحول گزشتہ دو صدیوں سے قائم کر رکھا ہے اس کے تلخ ثمرات رفتہ رفتہ سامنے آرہے ہیں اور وہ وقت آ پہنچا ہے کہ اس تہذیب کے نقصانات کو سماجی حقائق کے حوالہ سے واضح کیا جائے، مگر مشرقی دانش ابھی تک مرعوبیت کی فضا میں مبہوت کھڑی ہے اور اسے سماج کی بنیادوں پر کیا جانے والا وار بھی ’’انقلابی فیصلہ‘‘ دکھائی دے رہا ہے۔

درجہ بندی: