دینی مدارس اپنے آزادانہ کردار سے کیوں دستبردار نہیں ہوتے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۶ء
اصل عنوان: 
دینی مدارس کے لیے آزمائش کا نیا دور

دینی مدارس کا نظام ایک بار پھر ریاستی اداروں کے دباؤ کی زد میں ہے اور یہ کوشش نئے سرے سے شروع ہو گئی ہے کہ مدارس دینی تعلیم کے فروغ کے سلسلہ میں اپنے آزادانہ کردار سے دستبردار ہو کر خود کو بیوروکریسی کے حوالہ کر دیں۔ چنانچہ روزنامہ انصاف لاہور میں ۱۶ ستمبر ۲۰۱۶ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی متعدد میٹنگوں کے بعد وفاقی حکومت سے سفارش کی گئی ہے کہ تمام دینی مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے انتظام میں دے دیا جائے اور سرکاری طور پر قائم کی جانے والی ریگولیٹری اتھارٹی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ مستقل طور پر دینی مدارس کے لیے نصابی پالیسی تشکیل دے۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی حکومت نے اس بات کی بھی منظوری دے دی ہے کہ دینی مدارس کے حسابات کی چیکنگ خفیہ اداروں کے ذریعے کرائی جائے جو چیکنگ کے ساتھ سابقہ معاملات کی چھان بین بھی کرے وغیرہ وغیرہ۔

اس سے قبل سندھ حکومت کی طرف سے جاری کیا جانے والا یہ قانون دینی و قومی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ تمام دینی مدارس کی ازسرنو رجسٹریشن کی جائے۔ یہ قانون سندھ حکومت نے منظور کر لیا ہے مگر ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ کے راہنماؤں نے اسے دینی مدارس کے وفاقوں کے ساتھ کیے گئے سابقہ معاہدوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے کہ جو مدارس باقاعدہ قانونی اداروں کے ذریعے رجسٹرڈ چلے آرہے ہیں ان کی دوبارہ رجسٹریشن نہیں ہو گی، البتہ جو مدارس رجسٹرڈ نہیں ہیں وہ خود کو مروجہ قانونی اداروں کے ذریعے رجسٹرڈ کرائیں گے، اس لیے سندھ حکومت کا منظور کردہ یہ قانون ناقابل قبول ہے کہ تمام دینی مدارس کی ازسرنو رجسٹریشن ضروری ہو گی۔

اس تناظر میں ہم ملک کے ارباب دانش اور محبِ وطن حلقوں کو زمینی حقائق کی طرف توجہ دلانا مناسب سمجھتے ہیں کہ یہ بات بہرحال سوچنے کی ہے کہ اس فضا میں جبکہ سرکاری ملازمت اور کفالت قبول کرنے پر دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ سب کو تنخواہوں، مراعات، ملازمت کے تحفظ اور دیگر سہولتوں کا پہلے سے کہیں زیادہ بہتر ماحول میسر آئے گا، اور خاص طور پر چندے مانگنے اور اخراجات کے لیے وسائل تلاش کرنے کی مسلسل تگ و دو سے نجات حاصل ہو گی، آخر یہ لوگ کیوں اس سے گریزاں ہیں؟ حکومتوں کی پے درپے کوششوں کے باوجود اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور سادگی، قناعت اور کم خرچہ پر زیادہ کام کرنے کی روش پر آخر کس وجہ سے اصرار کر رہے ہیں؟ یہ لوگ اسی معاشرہ میں رہتے ہیں، انہیں بھی زیادہ تنخواہیں درکار ہیں، سہولتیں اور مراعات انہیں بھی اچھی لگتی ہیں اور خاص طور پر سرکاری ملازمت کا تحفظ ان کے لیے بھی کشش رکھتا ہے لیکن وہ اس کو قبول کرنے سے انکاری ہیں۔

  • اس وجہ سے کہ وہ کھلی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی اس مملکت میں سرکاری نظام تعلیم تو آج تک قرآن و حدیث، فقہ و شریعت اور عربی زبان کی تعلیم کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کر رہا، حالانکہ یہ ہماری قومی، معاشرتی اور دستوری ضروریات میں شامل ہے، لیکن جو ادارے دینی تعلیم کی ان ضروریات کو پورا کرنے کی ایک حد تک کوشش کر رہے ہیں انہیں سرکاری تحویل میں لینے کے لیے ہماری سرکار مسلسل بے چین ہے اور اس کے لیے دینی مدارس پر دباؤ بڑھانے کے لیے وقفہ وقفہ سے طرح طرح کی کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔
  • اس کے ساتھ دینی مدارس کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ کو یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ عالمی استعماری قوتیں ان دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار کو صرف اس لیے ختم کر دینا چاہتی ہے کہ ان مدارس میں آسمانی تعلیمات پڑھائی جاتی ہیں اور انہوں نے نسل انسانی کے ایک بڑے حصے کا تعلق وحی الٰہی اور پیغمبروں کی تعلیمات کے ساتھ قائم رکھا ہوا ہے، جو عالمی استعمار کے اس فلسفہ اور ثقافت کے لیے نا قابل عبور رکاوٹ کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے جس کی بنیاد مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی اور آسمانی تعلیمات سے انحراف پر ہے۔

دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ جب عالمی استعمار کے ایجنڈے اور پاکستان کے سرکاری اداروں کی پالیسیوں کو ایک ہی رخ پر آگے بڑھتا دیکھتے ہیں تو انہیں ’’دال میں کالا کالا‘‘ صاف نظر آتا ہے اور وہ سرکاری ملازمت کی مراعات کو اس قیمت پر قبول کرنے کے لیے خود کو آمادہ نہیں پاتے کہ ان کے بزرگوں نے اس خطہ میں دینی تعلیمات کے تحفظ اور فروغ کے لیے جو نظام قائم کیا تھا اور جو ڈیڑھ سو برس سے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے، خدانخواستہ وہ سلسلہ ان وقتی مراعات اور سہولتوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائے اور حکومتی تحفظ حاصل کرتے کرتے وہ لوگ دینی تعلیم کی خدمت سے ہی محروم نہ ہو جائیں۔

جبکہ اس سے قبل اس کی مثال موجود ہے کہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے دور حکومت میں جامعہ عباسیہ بہاولپور کو محکمہ تعلیم نے اپنی تحویل میں یہ کہہ کر لیا تھا کہ دینی اور عصری تعلیم کے نصاب کو یکجا پڑھایا جائے گا لیکن رفتہ رفتہ اسلامی یونیورسٹی کا درجہ پانے والے جامعہ عباسیہ سے درس نظامی کے نصاب کی ساری کتابیں نکالی جا چکی ہیں اور اب اس کے نصاب میں اور عصری تعلیم کی دیگر یونیورسٹیوں کے نصاب و نظام میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔ اسی طرح اسی دور میں محکمہ اوقاف نے بھی بیسیوں دینی مدارس کو بہتر انتظام چلانے کے وعدے بلکہ دعوے کے ساتھ اپنی تحویل میں لیا تھا جو آہستہ آہستہ اپنے وجود اور کردار سے محروم ہو چکے ہیں، جس کی ایک مثال گول چوک اوکاڑہ کا جامعہ عثمانیہ ہے جو سرکاری تحویل میں آنے سے قبل ایک بڑا دینی مدرسہ شمار ہوتا تھا مگر اب اس کے کمرے مختلف تجارتی کمپنیوں کے دفاتر اور گودام بنے ہوئے ہیں۔

دینی مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کو یہ بھی نظر آرہا ہے کہ:

  • پورے ملک میں عصری تعلیم کے مختلف شعبوں میں ہزاروں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے جن میں ایک بڑی تعداد ایسے تعلیمی اداروں کی ہے جو بھاری فیسوں کے ذریعے اسے کاروبار بنائے ہوئے ہیں، مگر انہیں وزارت تعلیم کے انتظام میں دینے، ان کے حسابات خفیہ اداروں کے ذریعے چیک کرانے اور ان کے معاملات کی چھان بین کی بات نہیں کی جا رہی۔
  • اسی طرح ملک میں ہزاروں این جی اوز ایسی ہیں جو بیرونی سرمایہ سے چلتی ہیں اور ان میں وہ این جی اوز بھی ہیں جو پاکستان کے ریاستی نظریہ اور اسلام کی تہذیبی اقدار کے خلاف سرگرم عمل ہیں، ان کو سرکاری کنٹرول میں لینے اور ان کے حسابات کی خفیہ اداروں سے چیکنگ کرانے کی بات بھی کسی طرف سے سامنے نہیں آرہی، لیکن صرف دینی مدارس کے خلاف یہ واویلا کیا جا رہا ہے جو اس بات کی صاف غمازی کرتا ہے کہ یہ ساری کاروائیاں دینی مدارس کے خلاف نہیں بلکہ سرے سے دینی تعلیم کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے اس لیے دینی مدارس کو یہ پیشکش قبول کرنے سے ہمیشہ انکار رہا ہے اور موجودہ صورتحال (ایسے حالات) میں یہ انکار آئندہ بھی اسی طرح قائم رہے گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔