قادیانی مسئلہ پر قوم کے شکوک و شبہات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۷ء

انتخابی قوانین میں ترامیم کے حوالہ سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ حالیہ بل میں قادیانیوں سے متعلق بعض شقوں میں تبدیلی کے انکشاف نے ملک بھر میں اضطراب کی ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی، چنانچہ ہر طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونے پر قومی اسمبلی نے ترامیم کا قادیانیوں سے متعلقہ حصہ واپس لے کر سابقہ پوزیشن بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ملک میں شکوک و شبہات اور بے چینی کا ماحول موجود ہے اور مختلف دینی و قانونی حلقوں کی طرف سے صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مبینہ طور پر حالیہ ترامیم سے قادیانیوں سے متعلقہ جو اُمور متاثر ہوئے ان کا تذکرہ یوں کیا جا رہا ہے کہ:

  • دستور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور ان کے لیے جداگانہ انتخابی قواعد طے کیے جانے کے بعد، قادیانیوں کی طرف سے اس فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار اور سابقہ پوزیشن کی بحالی پر اصرار کے باعث، الیکشن میں حصہ لینے والے مسلمان امیدواروں کے لیے عقیدہ ختم نبوت کا جو حلف نامہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ ضروری قرار دیا گیا تھا، اسے ’’حلف نامہ‘‘ کی بجائے ’’اقرار نامہ‘‘ میں تبدیل کر کے اس کی حیثیت کو کم کیا گیا تھا، جو ناقابل قبول تھا۔
  • اس کے ساتھ ووٹروں کی فہرستوں میں قادیانیوں کے بطور غیر مسلم اندراج کا معاملہ بھی مسلسل ابہام کا شکار چلا آرہا ہے اور لفظوں کے ہیرپھیر کے ساتھ قادیانیوں کے لیے یہ سہولت پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے کہ وہ اپنے بارے میں دستور و قانون کے فیصلوں کو تسلیم کیے بغیر چور دروازے سے پاکستان کے انتخابی عمل میں کسی نہ کسی طرح دخیل ہو جائیں۔ جبکہ پارلیمنٹ کی منظور کردہ نئی ترمیم میں حلف نامہ کی بحالی تو ہو گئی ہے مگر ان چور دروازوں کو بند کرنے کی کوئی صورت سامنے نہیں آئی جن کا تذکرہ کیا گیا ہے، اور چور دروازے کھولنے والوں کو بھی تحفظ دیا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں بھی پیش آئی تھی کہ مبینہ طور پر الیکشن کمیشن کے قادیانی سیکرٹری کی سازش سے مذکورہ حلف نامہ کو کاغذات نامزدگی سے نکال دیا گیا تھا، لیکن حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر مقتدر راہنماؤں کے پرزور احتجاج پر اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔ مگر اب اسی کام کے لیے قانون سازی کا سہارا لیا گیا ہے اور الفاظ کے گورکھ دھندے میں لپیٹ کر وہی صورتحال دوبارہ پیدا کر دی گئی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ قادیانیوں نے دستور و قانون کے اس فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کر رکھا ہے جسے پوری پاکستانی قوم منتخب پارلیمنٹ اور عدالت عظمی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کی ملت اسلامیہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، اور وہ اس بے جا ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں کہ پوری دنیا کے پونے دو اَرب مسلمانوں کو غیر مسلم اور چند لاکھ افراد پر مشتمل قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کیا جائے، اور ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پاکستان میں اسلام اور مسلمانوں کا نمائندہ قرار دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے پاکستان میں انتخابی عمل کا مسلسل بائیکاٹ کیا ہوا ہے حالانکہ دستور میں ان کی آبادی کے تناسب سے اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی کی ضمانت موجود ہے، لیکن وہ اپنے ووٹوں کا اندراج غیر مسلم ووٹروں کی فہرست میں کرانے سے انکاری ہیں، اس لیے اپنے اس انکار اور ہٹ دھرمی کے باعث اسمبلیوں میں نمائندگی کے اس حق سے محروم ہیں جس محرومی کا واویلا وہ دنیا بھر میں پیٹ رہے ہیں اور انسانی حقوق کے نام پر اپنی نام نہاد مظلومیت کی دہائی دے رہے ہیں۔ دستور پاکستان انہیں یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے ووٹروں کا دستور کے مطابق اندراج کرائیں اور آبادی کے تناسب سے اسمبلیوں میں نمائندگی حاصل کریں مگر وہ ووٹروں کا اندراج نہ کرا کے یہ حق حاصل کرنے سے گریزاں ہیں اور دنیا بھر میں شہری حقوق سے محرومی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں۔

ملکی رائے عامہ اور ریاستی اداروں کا سامنا کرنے کی ہمت نہ پا کر قادیانیوں اور ان کے پشت پناہ عالمی اور ملکی سیکولر حلقوں نے سازشوں اور خفیہ کاروائیوں کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے، جس کا شاہکار مذکورہ ترمیمی بل ہے جس میں ان کے لیے بیک ڈور سے انتخابی عمل میں دخل انداز ہونے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر بحمد اللہ تعالیٰ دینی حلقوں کی بیداری اور بروقت احتجاج کے باعث قومی اسمبلی کو اس ترمیمی بل کا کچھ حصہ واپس لینا پڑا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے اس سازش کا سراغ لگانے کے لیے محترم راجہ محمد ظفرالحق کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی تھی جس نے رپورٹ پیش کر دی ہے اور بتایا ہے کہ یہ کاروائی جان بوجھ کر کی گئی ہے اور اس کے ذمہ دار حضرات کا تعین بھی رپورٹ میں کر دیا گیا ہے۔ جس پر ملک کے دینی حلقوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے بھی ذمہ دار حضرات کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن نہ تو رپورٹ منظر عام پر لائی جا رہی ہے اور نہ ہی اس سازش کے ذمہ دار حضرات کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی ہے، جس سے اس سازش کے پس منظر کی سنگینی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ بعض حلقوں کی طرف سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حلف نامہ کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کا فیصلہ بھی قرارداد کی صورت میں صرف ایک وعدہ ہے جسے باقاعدہ ترمیم کی شکل ابھی تک نہیں دی گئی۔

اس پس منظر میں ہم حکومت پاکستان سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ:

  • قادیانیوں کی طرف سے دستور و قانون کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کا باضابطہ نوٹس لیا جائے، اور قادیانی گروہ کی طرف سے پاکستان کے دستور و قانون کے خلاف دنیا بھر میں جاری منفی مہم کا تعاقب کر کے قادیانیوں کو دستور و قانون کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جائے، کیونکہ دستور پاکستان کی رٹ بحال کرنے کا اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
  • راجہ محمد ظفر الحق کی سربراہی میں قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ شائع کی جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کاروائی کی جائے۔
  • ترامیم کی مجموعی صورتحال کا ازسرنو جائزہ لے کر دینی راہنماؤں اور قانونی ماہرین کی مشاورت کے ساتھ ایک نیا اور جامع ترمیمی بِل پارلیمنٹ سے باقاعدہ منظور کرا کے اس سلسلہ میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا خاتمہ کیا جائے۔