’’پاکستان، ترکی یا الجزائر نہیں ہے‘‘

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جولائی ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
کیا فرماتے ہیں صدر مملکت بیچ اس مسئلے کے؟

متحدہ مجلس عمل کے اعلٰی سطحی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان اسلامی ریاست ہے اور اسلامی رہے گا، اس کے دستور کی بنیاد اسلام پر ہے اس لیے کوئی چاہے بھی تو پاکستان کو سیکولر ریاست نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دستوری ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور نہ ہی اس کی اسلامی دفعات سے کوئی تعرض کیا جا رہا ہے۔ صدر نے یہ بھی کہا کہ اگر متحدہ مجلس عمل الیکشن میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ اسے اقتدار منتقل کر دیں گے کیونکہ پاکستان ترکی یا الجزائر نہیں ہے۔

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جنرل کولن پاول نے گزشتہ دنوں پاکستانی معاشرے کو سیکولر بنانے اور انتہا پسند دینی قوتوں کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے جنرل پرویز مشرف کی پالیسی کی حمایت جاری رکھنے کا جو اعلان کیا ہے، متحدہ مجلس عمل کے وفد کے کسی رکن کی طرف سے اس کے حوالے سے سوال کے جواب میں صدر پرویز مشرف نے یہ وضاحت کی ہے۔ جہاں تک صدر جنرل پرویز مشرف کی اس وضاحت کا تعلق ہے ہمیں اس سے خوشی ہوئی ہے اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے صدر محترم کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے جنرل کولن پاول کے اعلان کو زیادہ طول نہیں پکڑنے دیا اور جلد ہی ضروری وضاحت کرکے اصولی حد تک بات کو صاف کر دیا ہے۔ لیکن پاکستان کے اسلامی ریاست ہونے کے عملی تقاضوں کے حوالے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ صدر پرویز مشرف کی پالیسیاں ان تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتیں اور یہ صرف پرویز حکومت کی بات نہیں بلکہ پاکستان کی ہر حکومت کا اب تک یہی طرز عمل رہا ہے کہ دستور پاکستان کی ان اسلامی دفعات پر عملدرآمد کی جب بھی باری آئی ہے، جن سے مروجہ نظام میں کسی تبدیلی کا کوئی امکان نظر آیا ہے، تو دستور کی ایسی اسلامی دفعات کو فریز کر دیا گیا ہے اور مروجہ نظام کو ہر قسم کی تبدیلی سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمارے خیال میں پاکستان کے بارے میں با اختیار قوتوں نے ترکی اور الجزائر سے مختلف حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اور پاکستان کی اسلامی حیثیت کے تحفظ سے دلچسپی رکھنے والے تمام حلقوں کو اس حکمت عملی کا صحیح طور پر ادراک کرنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ نکتہ یا ریڈلائن ہے جہاں نفاذ اسلام کی ہر عملی کوشش دم توڑ جاتی ہے اور عملی پیشرفت میں ناقابل عبور رکاوٹ سامنے آ جانے سے لوگوں کے ذہنوں میں پاکستان کی نظریاتی اسلامی حیثیت کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا ہونے لگتے ہیں۔

  • عالم اسلام میں اجتماعی اور معاشرتی زندگی سے اسلامی احکام و تعلیمات کی بے دخلی کا تجربہ ترکی میں اس انداز سے کیا گیا کہ ترکی میں نیشنل ازم کی لہر ابھار کر اور عربوں کے خلاف منافرت کے جذبات بھڑکا کر اس کی آڑ میں قومی زندگی میں قرآن و سنت کے احکام کی عملداری سے ہی انکار کر دیا گیا۔ اور اس انکار کو مملکت کا مذہب قرار دے کر ہر اس کوشش کو سختی کے ساتھ رد کر دیا گیا جو ترکی معاشرہ کو اسلامی تعلیمات کی طرف واپس لے جانے کا باعث بن سکتی ہو، حتٰی کہ عدنان میندرس شہید اور نجم الدین اربکان کی حکومتوں کو صرف اسی وجہ سے برداشت نہیں کیا گیا کہ ان کی پالیسیوں میں اسلامی رجحانات کے نمایاں ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا حالانکہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے تھے اور انہیں پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل تھی ،لیکن محض اسلامی رجحانات کی وجہ سے عدنان میندرس پھانسی کے تختے پر لٹک گئے اور نجم الدین اربکان جیل کی کال کوٹھڑی میں بند ہیں۔
  • الجزائر میں نفاذ اسلام کا داعی ”اسلامک سالویشن فرنٹ“ عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے جیتا اور زبردست عوامی مینڈیٹ لے کر سامنے آیا لیکن صرف اس خطرہ کی وجہ سے فوجی قوت کے بل پر اس کا راستہ روک دیا گیا کہ اس کے برسراقتدار آنے سے الجزائر میں فرانسیسی دور سے چلے آنے والے نو آبادیاتی نظام میں تبدیلی رونما ہونے کا امکان نظر آنے لگا تھا۔ اس لیے نہ صرف انتخابات منسوخ کر کے اسلامک فرنٹ کا راستہ روک دیا گیا بلکہ فوج اور دینی قوتوں کو آپس میں لڑا کر ہزاروں الجزائری مسلمانوں کو دونوں طرف سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور دینی قوتوں کو فوجی طاقت کے ذریعہ ریاستی جبر کا شکار بنا کر کچل دیا گیا۔
  • پاکستان میں اس سے مختلف حکمت عملی اپنائی گئی ہے کہ یہاں اسلام سے انکار ممکن نہیں اور قرآن و سنت کی تعلیمات سے دستبرداری کا ہلکا سا اظہار بھی عوامی غیض و غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے ترکی والا تجربہ پاکستان میں ناقابل عمل سمجھا گیا ہے اور یہ پالیسی اب تک چلی آ رہی ہے کہ اسلام کی کسی بات سے انکار نہ کیا جائے بلکہ دستور اور پالیسی اصولوں کی حد تک اسلام اور قرآن و سنت کا بار بار تکرار کیا جائے، لیکن جب مروجہ نظام کے کسی شعبہ میں تبدیلی کا کوئی امکان سامنے آئے تو ”ریڈلائن“ لگا دی جائے اور اسلامی احکامات پر عملدرآمد کو روک دیا جائے، اس سلسلہ میں اعلیٰ سطح پر ہم تین بڑے تجربات کا شکار ہو چکے ہیں۔
    1. ’’قرار داد مقاصد‘‘ کو دستور کا حصہ بنایا گیا جس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کرتے ہوئے ملک کا نظام قرآن و سنت کے دائرہ میں چلانے کا عہد کیا گیا ہے، لیکن جب دستور کی دوسری دفعات پر اس اصولی دفعہ کی بالادستی کا طے کرنے کی بات آئی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے دستور کے باقی حصوں پر قرار داد مقاصد کی بالادستی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جس سے قرارداد مقاصد پر عملدرآمد کا معاملہ لازمی کی بجائے اختیاری مضمون کی حیثیت اختیار کر گیا۔
    2. ”شریعت بل“ میں قرآن و سنت کو ملک کاسپریم لاء قرار دینے کی بات آئی تو پارلیمنٹ نے قرآن و سنت کو ملک کے بالاتر قانون کے طور پر قبول کرنے کے لیے شرط لگا دی کہ اس سے ملک کا سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچہ متاثر نہیں ہو گا۔
    3. سودی نظام کے بارے میں یو بی ایل کی حالیہ رٹ کے دوران وفاق پاکستان کے وکیل ڈاکٹر سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ نے عدالت عظمیٰ میں صاف طور پر کہہ دیا کہ معاشی نظام میں تبدیلی کی صورت میں اسلامائزیشن کا عمل قابل قبول نہیں ہے۔ اور عدالت عظمیٰ نے نہ صرف ریاستی وکیل کے ان ریمارکس کو کسی اعتراض کے بغیر عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا بلکہ فیصلہ بھی حکومت کے حق میں ہوا۔

اس لیے یہ درست ہے کہ پاکستان کو ترکی کی طرز پر چلانا ممکن نہیں ہے اور الجزائر والا تجربہ بھی پاکستان میں دہرانا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ بعض ملکی اور عالمی قوتوں کی بھر پور کوششوں کے باوجود پاکستان کے دینی حلقے ہر قسم کی اذیتیں برداشت کرتے ہوئے بھی فوج کے ساتھ محاذ آرائی کے لیے تیار نہیں ہیں، جو ان کی اعلیٰ درجے کی حب الوطنی کی علامت ہے۔ لیکن پاکستان میں جس تیسری حکمت عملی کو اختیار کیا گیا ہے اور اسلام اسلام پکارتے ہوئے اسلامی احکام کی عملداری کو ہر حالت میں روکے رکھنے کا جو طرز عمل گزشتہ نصف صدی سے چلا آرہا ہے، اس کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کیا فرماتے ہیں؟

پاکستان کو اسلامی ریاست کے طور پر باقی رکھنے کے بارے میں صدر جنرل پرویز مشرف کے اعلانات اسلامیان پاکستان کے لیے یقیناً اطمینان کا باعث ہیں لیکن ملک کو صرف اسلام کی وردی پہنا دینا اور دو چار بیج لگا دینا کافی نہیں ہے، اس وردی اور بیجز کے جو عملی تقاضے ہیں وہ بھی پورے ہونے چاہئیں کیونکہ اپنے فنکشن اور اختیارات سے محرومی کے ساتھ خالی وردی پہننے سے پاکستان کی اسلامی حیثیت اسی کیفیت میں نظر آنے لگتی ہے جس سے خود جنرل پرویز مشرف اس وقت دو چار ہو گئے تھے جب کھٹمنڈو سے واپس آتے ہوئے ان کے طیارے کو کراچی اترنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تھی، اور انہیں اس مخمصے سے نجات دلانے کے لیے پاک فوج کو حرکت میں آنا پڑا تھا۔ کیا صدر محترم پاکستان کی ”اسلامی حیثیت“ کو اس مخمصے سے نکالنے کے لیے بھی کوئی راستہ نکالیں گے؟