کیا پاک بھارت انضمام ممکن ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ جولائی ۲۰۰۳ء

مولانا فضل الرحمن نے دورہ بھارت سے واپسی پر بعض اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے گول میز کانفرنس کی کوئی تجویز پیش کی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ ”اکھنڈ بھارت“ کے حامی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں انہوں نے کوئی بات کی ہے۔

مولانا فضل الرحمن کی اس وضاحت کے بعد ہمارے خیال میں اس حوالہ سے گفتگو کو آگے بڑھانے کی گنجائش باقی نہیں رہی، لیکن مسئلہ صرف مولانا فضل الرحمن کا نہیں بلکہ ان دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے مشن پر جو لوگ ٹریک ٹو یا بیک چینل ڈپلومیسی پر کام کر رہے ہیں ان کی ایک بڑی تعداد اس قسم کی باتیں کہہ رہی ہے اور ملک کے بعض ذمہ دار اخبار نویس حضرات نے بھی اپنے کالموں میں اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ”یورپی یونین“ طرز کے کسی مشترکہ نظام کا حصہ بننے کی افادیت کا جائزہ لینا چاہیے۔ جبکہ جنوبی ایشیا کے مستقبل کے نقشہ کے لیے سامنے آنے والی مختلف تجاویز میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکا کی طرز پر یونائیٹڈ اسٹیٹس آف ساؤتھ ایشیا، یا یورپی یونین کی طرز پر انڈین یونین کا کوئی ایسا نظام ضرور قائم ہو جانا چاہیے جس میں پاکستان اور بھارت دونوں شامل ہوں، اور اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ختم کی جائے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کو کسی نہ کسی طرح حل کر کے دونوں کو ایک نظم کا حصہ بنانے کے جو فوائد گنوائے جا رہے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  • دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہوگی اور ایک دوسرے کے مقابلہ اور باہمی مسابقت کے ماحول میں دفاع پر جو بھاری اخراجات ہو رہے ہیں انہیں کم کر کے فنڈز کو عوام کی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔
  • دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کی صورت میں ایٹمی قوت کی ضرورت نہیں رہے گی اور دونوں یا کم از کم پاکستان کو ایٹمی قوت سے دستبرداری پر مجبور کیا جا سکے گا۔
  • پاک فوج کا سائز کم کیا جا سکے گا جس کا ایک عرصہ سے عالمی طاقتوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
  • ایک جداگانہ اور خودمختار نظریاتی اسلامی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کسی نہ کسی وقت عالم اسلام کے اتحاد اور اس کی قیادت کے لیے جو کردار ادا کر سکتا ہے اس کا امکان کم ہوجائے گا۔
  • سرحدات کا کنٹرول نرم پڑنے سے نہ صرف دونوں ملک ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ تجارت کر سکیں گے بلکہ ”فری ٹریڈ“ کے عنوان سے دنیا بھر کی تجارت پر اجارہ داری کے خواہش مند بڑے صنعتی ممالک کو ایک بڑی آزاد منڈی میسر آجائے گی۔
  • چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مستقبل میں ایک عالمی طاقت کے طور پر اس کے امکانی کردار کا راستہ روکنے کے لیے اس کے گرد حصار مکمل کیا جا سکے گا۔

یہ اور اس قسم کے اور ممکنہ فوائد ہیں جن کے پیش نظر پاکستان اور بھارت کو کسی نہ کسی مشترکہ نظم کا حصہ بنانے کی تجویز آرہی ہے اور اس کا ماحول بنانے کے لیے سالہا سال سے بیک ڈور، بیک چینل اور ٹریک ڈپلومیسی کے ذریعے مختلف شعبوں میں مسلسل کام ہو رہا ہے۔ اس میں تازہ تبدیلی صرف یہ ہوئی ہے کہ اس مہم میں مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علماء اسلام بھی اب ایک اہم حصہ اور کردار بنتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ہمارے نزدیک یونائیٹڈ اسٹیٹس آف انڈیا یا انڈین یونین قسم کی یہ تجاویز دراصل جمعیت علماء ہند کے اس فارمولے کی صدائے باز گشت ہیں جو قیام پاکستان سے قبل جمعیت علماء ہند نے حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کی قیادت میں پیش کیا تھا اور جس میں کہا گیا تھا کہ برصغیر کو پاکستان اور بھارت کے نام پر دو الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی بجائے ایک کنفیڈریشن کے تحت صوبوں کو مکمل خودمختاری دے دی جائے اور دفاع، خارجہ پالیسی، مواصلات اور دیگر ضروری شعبوں کے لیے کنفیڈریشن طرز کا مشترکہ نظام وضع کر لیا جائے۔ اس تجویز کو اس وقت مسترد کر دیا گیا تھا، لیکن آج وہی بات پاکستان اور بھارت کے مستقبل کے حوالہ سے مختلف حلقوں کی تجاویز میں سامنے آرہی ہے۔

مگر ہمارے لیے سوچنے کی بات ہے کہ کیا پاکستان کی جداگانہ خودمختار حیثیت اور اس کے اسلامی نظریاتی تشخص کو ختم کرنا یا کسی مشترکہ نظام کا حصہ بنا کر اسے کمزور کر دینا آج کے حالات کے تناظر میں مسلمانوں کے مفاد میں ہوگا؟ ہمارے خیال میں ایسا نہیں ہے اور پاکستان کو اس کے نظریاتی تشخص اور عسکری و ایٹمی صلاحیت سے محروم کر کے انڈیا کے ساتھ کسی نظم میں شریک کرنے کا مطلب جنوبی ایشیا پر بھارت کی بالادستی کو تسلیم کر لینے کے مترادف ہوگا، جس کے بعد (خدانخواستہ) نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مسلمان بھی بھارت اور اسرائیل کے اس حصار میں آجائیں گے جسے امریکہ اور یورپی یونین کی مکمل پشت پناہی حاصل ہوگی، اور اس کے نتائج کا اندازہ کرنا کسی ذی شعور مسلمان اور پاکستانی کے لیے مشکل کام نہیں ہے۔

تاریخ یہ کہتی ہے کہ ہمارے جن بزرگوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور برصغیر کی تقسیم کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مفاد کے خلاف قرار دیا تھا، قیام پاکستان کے بعد ان بزرگوں نے واضح طور پر کہہ دیا تھا کہ اب پاکستان کی بقا اور استحکام میں ہی جنوبی ایشیا بلکہ پورے عالم اسلام کا مستقبل وابستہ ہے اور مسلمانوں کو اس نئے وطن کے استحکام اور سلامتی کے لیے محنت کرنی چاہیے۔

  • شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کا وہ تاریخی خط حضرت مولانا زاہد الحسینیؒ آف اٹک کی کتاب ”چراغ محمد“ میں موجود ہے جس میں حضرت مدنیؒ نے فرمایا تھا کہ پاکستان کے قیام سے ہمارے اختلاف کی نوعیت ایسی تھی جیسی کسی محلہ میں مسجد بنانے کے لیے جگہ اور نقشے سے اختلاف ہوجائے، ایک فریق الگ جگہ اور اپنے نقشے کے مطابق مسجد بنانے پر اصرار کر رہا ہو اور دوسرا گروہ اس جگہ اور نقشہ سے اختلاف کر رہا ہو، لیکن جب ان میں سے کوئی فریق اپنے نقشے کے مطابق مسجد بنا لے تو مسجد بن جانے کے بعد سب کی مسجد ہے اور اس کے تقدس کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
  • امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے اس اعلان کو جانباز مرزا مرحوم نے تفصیل کے ساتھ ”کاروان احرار“ میں نقل کر دیا ہے جس میں انہوں نے قیام پاکستان کے بعد لاہور میں جلسہ عام میں کہا تھا کہ ہماری ایک رائے تھی جسے قوم نے قبول نہیں کیا لیکن اب جبکہ پاکستان بن گیا ہے تو ہم سب کا وطن ہے، اس کی سالمیت، خودمختاری اور استحکام کے لیے جدوجہد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور ہم پاکستان کے تحفظ اور دفاع میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
  • تحریک پاکستان کی مخالفت میں سب سے بڑا نام مولانا ابوالکلام آزادؒ کا لیا جاتا ہے، انہوں نے صرف قیام پاکستان کی مخالفت نہیں کی بلکہ اس کے خلاف کانگریس کی مہم کی قیادت کی کہ اس دور میں انڈین نیشنل کانگریس کے سربراہ وہی تھے۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد انہوں نے مختلف مسلم شخصیات اور حلقوں کو پاکستان کے استحکام کے لیے کام کرنے کی تلقین کی اور پاکستان کی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں اور عالم اسلام کے لیے ضروری قرار دیا۔ صدیقی ٹرسٹ کراچی نے حال ہی میں ”ابوالکلام آزاد اور پاکستان“ کے عنوان سے ایک پمفلٹ شائع کیا ہے جس میں دیگر شخصیات کے علاوہ معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر برکت علی قریشی کا یہ انکشاف بھی نقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر قریشی کانگریسی تھے اور مولانا آزادؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو کے دوستوں میں سے تھے، انہوں نے قیام پاکستان کے بعد پنڈت جواہر لال نہرو کے کہنے پر بھارت میں رہنے کا فیصلہ کیا اور پنڈت نہرو نے انہیں کسی عرب ملک میں بھارت کا سفیر بنانے کی پیشکش کی جسے انہوں نے قبول کر لیا لیکن بعد میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کے کہنے پر انہوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا اور بھارت میں رہنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ مولانا آزاد نے انہیں کہا کہ آپ کا بھارت میں رہنے کا فیصلہ درست نہیں ہے آپ کو پاکستان جانا چاہیے اور اس نئے مسلم ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے کام کرنا چاہئے۔

    ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میں نے تعجب سے مولانا آزادؒ سے ان کے اس ارشاد کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ ”میرے بھائی ہم نے تقسیم ہند کی مخالفت کی تھی اور کئی اسباب میں سے ایک سبب اس مخالفت کا یہ خوف بھی تھا کہ اس تقسیم کے ساتھ ملت اسلامیہ ہند بھی تقسیم ہوجائے گی اور اس کی طاقت گھٹ جائے گی، مگر ملت کی اکثریت نے ہماری رائے کے خلاف فیصلہ دیا، ہم ہار گئے اور پاکستان معرض وجود میں آگیا۔ پاکستان وجود میں نہ آتا تو اور بات تھی اور اب ظہور میں آگیا ہے تو ہر دوسرے اسلامی ملک کی طرح ہمیں یہ ملک بھی عزیز ہے بلکہ دوسرے ممالک سے بڑھ کر عزیز ہے۔ اب اسے باقی رہنا چاہیے، اس کا بن کر بگڑ جانا سارے عالم اسلام کی شکست کے برابر ہوگا اور اس کا وجود میں آکر ناپید ہو جانا سارے عالم اسلام کی توہین ہوگا۔ اب آپ لوگ بھارت کی طرف نہ دیکھیں اب آپ پاکستان کو مضبوط بنائیں، ہم یہاں آپ لوگوں کی بہتری کے لیے دعا کرتے رہیں گے، آپ پاکستان کی خدمت کریں‘‘۔

ہمارے خیال میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کے اس ارشاد میں ہم سب کے لیے پیغام یہ ہے کہ پاکستان کے مستقبل کو محدود علاقائی مفادات کے حوالہ سے نہ دیکھا جائے بلکہ عالم اسلام کے اجتماعی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے۔ پاکستان کو عالم اسلام کے مجموعی ماحول سے الگ کر دینے کی کوئی تجویز نہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی ملت اسلامیہ کے مفاد میں ہو سکتی ہے۔