قرآن فہمی میں حدیث و سنت کی اہمیت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۵ اپریل ۱۹۹۹ء

بھیرہ کی جامع مسجد اور بگوی خاندان ہماری علمی و دینی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ دہلی کی ولی اللہی درسگاہ سے لے کر بادشاہی مسجد لاہور کی خطابت اور بھیرہ میں حزب الانصار کی تعلیمی و اصلاحی سرگرمیوں تک ایک پوری تاریخ ہے جس کا احاطہ ایک یا دو مضمون نہیں کر سکتے۔ اس دینی مرکز اور علمی خاندان کی سب سے اہم خصوصیت وہ توازن اور اعتدال ہے جو اہل سنت اور حنفی مکتب کے دو بڑے گروہوں دیوبندی اور بریلوی کے درمیان اختلافات کی شدت کے دور میں بھی دونوں کے سرکردہ حضرات کو یکجا کرنے کے اہتمام سے ظاہر ہوتا ہے اور جو اس دور میں بلاشبہ بہت بڑے حوصلے کی بات ہے۔

اس سال بھی اپریل کے آغاز میں حزب الانصار بھیرہ نے مرکزی جامع مسجد میں منعقدہ اپنے سالانہ اجتماع میں اس روایت کو برقرار رکھا اور حزب الانصار کے امیر صاحبزادہ ابرار احمد بگوی صاحب کی دعوت پر دیوبندی اور بریلوی مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ راقم الحروف بھی مدعو تھا اور سالانہ اجتماع کی آخری نشست میں حضرت مولانا عبد الستار تونسوی کے مفصل خطاب سے پہلے کچھ گزارشات پیش کرنے کا مجھے موقع ملا۔ میری گفتگو کا عنوان تھا ’’قرآن فہمی میں سنت رسولؐ کی اہمیت‘‘ اور اس ضمن میں جو بنیادی نکتہ عرض کیا وہ یہ تھا کہ حضرات صحابہ کرامؐ خود عرب تھے اور عربی زبان ان کی مادری اور نسلی زبان تھی لیکن اس کے باوجود بہت سے مواقع پر انہیں قرآن کریم کی بعض آیات کا مفہوم سمجھنے میں غلطی لگی اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کے بعد وہ قرآن کریم کا صحیح مقصد و مفہوم سمجھ پائے۔ اس لیے رسول اللہ کے ارشادات اور اعمال و افعال قرآن فہمی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان سے ہٹ کر اگر محض عربی دانی کے زعم میں کوئی شخص قرآن کریم سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش کرے گا تو وہ گمراہی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر پائے گا۔ اس سلسلہ میں راقم الحروف نے چند واقعات پیش کیے جن میں سے دو تین کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

پہلا واقعہ حضرت عدی بن حاتمؒ کا ہے جو صحابی رسول تھے اور عرب کے مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے تھے۔ انہوں نے رمضان المبارک میں سحری کے بارے میں قرآن کریم کا یہ حکم سنا کہ ’’اس وقت تک کھاتے پیتے رہو جب تک سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے الگ نہ ہو جائے‘‘۔ یہاں سفید اور سیاہ دھاگوں سے مراد روشنی اور اندھیرے کی وہ دھاریاں ہیں جو صبح صادق کے وقت آسمان پر مشرق کی جانب چوڑائی میں نمودار ہوتی ہیں اور اس بات کی علامت ہوتی ہیں کہ رات ختم ہو کر صبح شروع ہو گئی ہے۔ حضرت عدی بن حاتمؓ قرآن کریم کا مفہوم نہ سمجھ پائے اور سفید اور سیاہ دھاگے کو حقیقی سمجھ کر اپنے تکیے کے نیچے دھاگے کی سیاہ اور سفید ڈوریاں رکھ لیں، اور معمول یہ بنا لیا کہ صبح جب تک وہ دھاگے الگ الگ دکھائی نہ دینے لگ جاتے اس وقت تک سحری کھاتے پیتے رہتے۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک روز عدی بن حاتمؓ نے جناب نبی اکرمؐ کے سامنے اس کا تذکرہ کر دیا۔ آپؐ یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا کہ ”عدی! تمھارا تکیہ تو پھر بہت چوڑا ہے‘‘۔ یعنی سیاہ اور سفید دھاریوں سے قرآن کریم کی جو مراد ہے کہ افق کی سیاہ اور سفید دھاریاں جس تکیے کے نیچے آ جائیں تو وہ تکیہ کتنا چوڑا ہو گا۔ اس کے بعد نبی اکرمؐ نے حضرت عدی بن حاتمؓ کو قرآن کریم کے ارشاد کا مطلب سمجھایا تو ان کی غلط فہمی دور ہوئی اور انہوں نے تکیے کے نیچے سے دھاگے نکال دیے۔

دوسرا واقعہ اجتماعی ہے کہ جب سورۃ الانعام کی آیت کریمہ ۸۴ نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ پریشان ہو گئے۔ آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کا التباس نہ ہونے دیا ان کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔ گویا ایمان کی قبولیت کا معیار یہ قرار پایا کہ اس کے ساتھ ظلم کا التباس نہ ہونے پائے۔ ظلم کا لفظ عام بولا جانے والا ہے اور اس سے عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ روز مرہ معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ جو کمی بیشی اور نا انصافی ہو جاتی ہے وہ ظلم ہے۔ بلاشبہ وہ بھی ظلم ہے لیکن یہ انسانی زندگی کا حصہ ہے اور اس قدر عام ہے کہ اگر اسے ایمان کی قبولیت کے لیے شرط قرار دیا جائے تو بہت کم لوگ ایمان کو قبولیت کے معیار پر پورا دکھا سکیں گے۔ صحابہ کرامؓ نے اس آیت میں ”ظلم“ کا یہی مطلب سمجھا اور پریشان ہوگئے کہ یہ تو بڑی سخت شرط ہے جسے اکثر لوگ پورا نہیں کر سکیں گے۔ پریشانی اس قدر بڑھی کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باقاعدہ وفد پیش ہوا اور عام صحابہ کرامؓ کی طرف سے اس پریشانی کا اظہار کیا۔ جناب رسول اکرمؐ نے وفد کی بات سنی اور انہیں تسلی دی کہ زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ قرآن کریم کی اس آیت میں ”ظلم“ کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو عام طور پر سمجھا جا رہا ہے، بلکہ اس سے مراد وہ ظلم ہے جس کا ذکر حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے کیا تھا کہ ’’بیٹا! شرک کا ارتکاب نہ کرنا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘۔ جناب نبی اکرمؐ کی زبان مبارک سے یہ وضاحت سن کر صحابہ کرامؓ کو اطمینان ہوا اور ان کی پریشانی دور ہوئی۔

اس سے اندازہ کر لیجئے کہ قرآن کریم کے کسی حکم یا لفظ کا صحیح مصداق متعین کرنے میں جناب نبی اکرمؐ کی حدیث و سنت کا مقام کیا ہے؟ اور جب صحابہ کرامؐ، جو نسلی عرب تھے، محض قرآن کریم کے الفاظ سن کر نبی کریمؐ کی وضاحت کے بغیر اس کا مفہوم نہیں سمجھ پا رہے تھے تو آج محض عربی دانی کے دعوے کے ساتھ قرآن کریم کا معنٰی اور مفہوم بیان کرنے والے قرآن کریم کے اصل مقاصد تک کیسے رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟

تیسرا واقعہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا ہے اور یہ بھی بخاری شریف میں ہے، حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا معمول یہ تھا کہ کوفہ کی جامع مسجد میں ہفتہ میں ایک دن درس دیا کرتے تھے اور عام لوگوں کو دینی مسائل و احکام سے آگاہ کرتے تھے، ایک موقع پر درس میں انہوں نے عورتوں کی فیشن پرستی کا ذکر کیا اور اس دور کے ’’میک اپ‘‘ کی دو تین باتوں کا تذکرہ کر کے فرمایا کہ ایسا کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے۔ یہ سن کر کوفہ کی ایک خاتون جس کا نام بخاری شریف کی روایت میں ’’ام یعقوب‘‘ بتایا گیا ہے، ان کے پاس آئی اور پوچھا کہ آپ نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایسا فیشن کرنے والی عورتوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے؟ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا کہ ہاں میں نے یہ بات کہی ہے۔ اس خاتون نے پوچھا کہ یہ بات قرآن کریم میں ہے؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت کی بات کہی جا رہی ہے تو اس ذکر قرآن کریم میں ہونا چاہیے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا کہ ہاں قرآن میں یہ بات موجود ہے۔ اس خاتون نے کہا کہ قرآن کریم تو میں نے بھی پڑھا ہے اس میں کہیں اس بات کا تذکرہ نہیں ہے۔ اس کے جواب میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جو ارشاد فرمایا وہ قرآن و سنت کے حقیقی تعلق اور قرآن فہمی میں حدیث و سنت کے مقام کو واضح کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کے سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ کا رسول تمہیں جو چیز دے وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس رک جاؤ‘‘۔ اور رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ اس قسم کا فیشن کرنے والی (یعنی جسم پر سوئی سے نام کھدوانے والی، جلد سے بال نوچنے والی، اور ریتی سے رگڑ کر دانت چھوٹے کرنے والی) عورتوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے، اس لیے رسول اللہ کا یہ ارشاد قرآن کریم کی تعلیمات کا حصہ ہے اور اسے قرآن کریم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

گویا حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ارشاد کے مطابق چونکہ حضرت محمدؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے بارے میں اصولی طور پر واضح حکم دے دیا ہے کہ وہ جس کام کا حکم دیں وہ کرو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ، اس لیے نبی اکرمؐ کے ارشادات اور حدیث و سنت قرآنی اصولوں کی وضاحت کے طور پر قرآنی تعلیمات ہی کا حصہ ہیں، اور یہ قرآن کریم کی حقیقی تشریح ہے جس سے الگ کر کے قرآن کریم کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

درجہ بندی: