حمود الرحمن کمیشن رپورٹ اور جنرل مشرف سے دو سوال

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۵ جنوری ۲۰۰۱ء

”حمود الرحمن کمیشن“ کی رپورٹ کا ایک حصہ بالآخر حکومت نے شائع کر دیا ہے اور اس طرح ملک کے عوام کو کم و بیش تیس سال بعد وطن عزیز کے دولخت ہونے اور مشرقی پاکستان کی جگہ بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب و عوامل کو براہ راست جاننے اور ان کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے۔ یہ کمیشن سقوط ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کی ملک سے علیحدگی کے المناک سانحہ کے بعد اس کے اسباب و عوامل کی نشاندہی کے لیے سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس حمود الرحمن مرحوم کی سربراہی میں قائم کیا گیا تھا جس میں ان کے ساتھ پنجاب ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس انوار الحق اور سندھ وبلوچستان ہائی کورٹ کے سربراہ جسٹس طفیل علی عبد الرحمن بطور رکن شامل تھے۔ کمیشن نے پچاس سے زائد اجلاسوں میں ۲۱۳ افراد کے بیانات اور ۷۲ افراد کی شہادتیں قلم بند کرنے کے بعد اپنی رپورٹ اس وقت کی حکومت کو پیش کر دی تھی جسے انتہائی خفیہ قرار دے کر اس کی اشاعت کی ممانعت کر دی گئی۔ ملک کے سیاسی حلقوں کی طرف سے اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا مگر ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی اشاعت سے اب تک گریز کیا گیا۔ گزشتہ دنوں بھارت کے بعض اخبارات نے اس رپورٹ کے کچھ حصے شائع کیے تو ملک میں ایک نئے زاویے سے اس رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ زور پکڑ گیا کہ جب اسے غیر ملکی ذرائع سے مخفی نہیں رکھا جا سکا تو اپنے ملک کے عوام کو اس کے مندرجات سے باخبر کرنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے؟ چنانچہ اس کے بعد حکومت نے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تاکہ رپورٹ کا ازسرنو جائزہ لے کر اسے منظر عام پر لایا جا سکے۔ اس کمیٹی نے رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کو کلاسیفائیڈ اور نان کلاسیفائیڈ حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصے کی اشاعت کی سفارش کر دی جبکہ چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کی ہدایت پر اسے کیبنیٹ ڈویژن کی لائبریری میں عوام کے مطالعہ کے لیے رکھ دیا گیا ہے۔

اخباری رپورٹوں کے مطابق حمود الرحمن کمیشن کی اس رپورٹ کی صرف دو جلدیں منظر عام پر لائی گئی ہیں جبکہ باقی چھ جلدوں کو انتہائی خفیہ قرار دے کر بدستور صیغہ راز میں رکھا گیا ہے اور ان کے مندرجات تک رسائی حسب سابق شجر ممنوعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کا جو حصہ منظر عام پر آیا ہے، اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو اس سے قبل کسی نہ کسی حوالے سے عوام میں نہ آچکی ہو، البتہ رپورٹ نے ان بیشتر باتوں کی تصدیق و توثیق کر دی ہے جو پاکستان کے دولخت ہونے کے بارے میں اب تک مختلف حلقوں کی طرف سے کہی جاتی رہی ہیں، لیکن اس سے قبل ان کی حیثیت شبہات، قیاس آرائیوں اور الزامات کی تھی لیکن اب ایک اعلیٰ سطحی کمیشن کی رپورٹ کے حصہ کے طور پر وہ حقائق و شواہد کا درجہ اختیار کر گئی ہیں اور ہمارے نزدیک رپورٹ کے اس حصے کی اشاعت کا سردست یہی فائدہ ہوا ہے۔ ہم اپنی سہولت کے لیے اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کی روشنی میں اس رپورٹ کو تین حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں:

  1. ایک حصہ صدر ایوب خان مرحوم کے دور حکومت سے متعلق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی ہوئی اور زراعت کا دائرہ بھی وسیع ہوا، لیکن سیاسی طور پر ان پالیسیوں سے ملک کو نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کے دور میں بالواسطہ جمہوریت کا فلسفہ پیش کر کے جو بی ڈی سسٹم رائج کیا گیا اور عوام کو ان کے حقوق سے محروم کرکے تمام اختیارات کو مرکز میں سمیٹ لینے کا جو طرز عمل اپنایا گیا، اس نے مشرقی پاکستان کے باشندوں کے دلوں میں نوآبادیاتی ہونے کا احساس پیدا کیا اور اس احساس کو اندرونی و بیرونی سازشی عناصر نے اجاگر کرکے ملک کے دونوں حصوں کے درمیان نفرت کی خلیج پیدا کر دی جس کا آخری نتیجہ سقوط ڈھاکہ اور بنگلہ دیش کا قیام تھا۔
  2. رپورٹ کا دوسرا حصہ ان سیاسی عناصر کے بارے میں ہے جو حمود الرحمن کمیشن کی رائے میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنے۔ ان میں سے شیخ مجیب الرحمن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ واجبی سطح کے لیڈر تھے اور ان کے پیش کردہ چھ نکات جو ملک میں سیاسی تنازعہ کی بنیاد بنے، وہ ان کی تخلیق نہیں تھے اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت و اہلیت تھی، بلکہ یہ نکات مشرق پاکستان کے ینگ سی ایس پی افسران کے ایک گروپ نے ترتیب دیے تھے اور ان کی پشت پر بیرونی عوامل تھے جنہوں نے ان چھ نکات کی بنیاد پر مغربی پاکستان کے خلاف مہم کو آگے بڑھایا اور مشرقی پاکستان کے عوام کو ان کے لیے منظم و متحرک کر دیا۔ رپورٹ میں جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے منتخب پارلیمنٹ میں عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کا سیاسی مقابلہ کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرکے اور اجلاس کے لیے ڈھاکہ جانے والے ارکان اسمبلی کی ٹانگیں توڑ دینے کی دھمکی دے کر محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا جس کی وجہ سے قومی اسمبلی کا طلب کیا ہوا اجلاس ملتوی کر دیا گیا اور اس کے رد عمل میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جو بالآخر ملک کی تقسیم پر منتج ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق مسٹر بھٹو مرحوم نے دو اکثریتی پارٹیوں اور گرینڈ الائنس کا تصور وفاق کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ کنفیڈریشن کے قیام کے لیے پیش کیا تھا اور انتہائی غیر جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کیا تھا۔
  3. رپورٹ کا تیسرا حصہ جنرل صاحبان کے بارے میں ہے جو سب سے زیادہ شرمناک اور ہوش ربا ہے۔ اس میں جنرل یحییٰ خان، جنرل عبد الحمید خان، جنرل پیرزادہ، جنرل عمر، جنرل مٹھا اور ان کے دیگر ساتھیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے پہلے صدر ایوب خان کو اقتدار سے الگ کرنے کی سازش کی جس پر ان کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اس کے بعد انہوں نے انتخابات میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے دباؤ، رقم اور دیگر ذرائع کا بے دریغ استعمال کیا۔ منتخب اسمبلی کو کام کرنے کا موقع دینے کی بجائے طاقت کا استعمال کرکے مشرقی پاکستان میں عوام کا قتل عام کیا اور نفرت کی خلیج اور زیادہ گہری کر دی۔ رپورٹ میں ان سمیت پندرہ جنرل صاحبان کا کورٹ مارشل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور ان کے بارے میں الزامات کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے جو پیشہ ورانہ نااہلی اور بدعنوانی کے ساتھ ساتھ ذاتی کردار کے حوالے سے بھی شرمناک تفصیلات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنرل یحییٰ خان اور ان کے رفقا شراب اور عورت کے اس قدر رسیا تھے کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے راولپنڈی میں صدر یحییٰ خان کے بنگلہ کو بدکاری کا اڈا بنا رکھا تھا۔ رپورٹ میں ان ایک درجن سے زائد عورتوں کی فہرست اور کوائف بھی دیے گئے ہیں جو یحییٰ خان اور ان کے ساتھیوں کا دل بہلاتی تھیں اور یحییٰ خان ان میں اس قدر مگن رہتے تھے کہ انہوں نے صدارتی آفس جانا چھوڑ دیا تھا اور جنگ کے دوران جی ایچ کیو کے آپریشن روم میں صرف دو تین مرتبہ ہی جا سکے۔ حتیٰ کہ عین حالت جنگ میں نومبر ۱۹۷۱ء کے دوران وہ لاہور کے گورنر ہاؤس میں نور جہاں کے ساتھ تین دن مقیم رہے۔ جنرل نیازی پان کی اسمگلنگ کرتے تھے، کریمنل کیسوں کے حوالے سے انہوں نے لاکھوں روپے کمائے اور وہ رقاصاؤں کے گھروں میں جایا کرتے تھے۔ بریگیڈیئر حیات نے عین حالت جنگ میں مقبول پور کے محاذ پر عورتیں بنکر میں طلب کر لیں اور اس کے لیے باقاعدہ احکامات جاری کیے اور بریگیڈیئر جہاں زیب ارباب اور ان کے ساتھ دوسرے چھ فوجی افسر نیشنل بینک کی سراج گنج شاخ سے ایک کروڑ ۳۵ لاکھ روپے لوٹنے کی واردات میں ملوث تھے۔

رپورٹ کے ان حصوں کو جن میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بیرونی ممالک کے کردار کا ذکر ہے، خارجہ تعلقات کے ”حساس معاملات“ قرار دے کر ان کی اشاعت سے گریز کیا گیا ہے، لیکن جس طرح شائع ہونے والے حقائق عوام سے مخفی نہیں تھے اور رپورٹ کے شائع شدہ حصوں نے عوام کو پہلے سے حاصل شدہ معلومات کی تصدیق کر دی ہے، اسی طرح بیرونی ممالک کا کردار بھی عوام سے اوجھل نہیں ہے بلکہ انہیں ایک گونہ اطمینان حاصل ہوا ہے کہ اندرونی عوامل کی طرح بیرونی عوامل کے بارے میں بھی ان کی معلومات بے بنیاد نہیں ہیں اور رپورٹ کا باقی ماندہ حصہ جب بھی شائع ہوا، وہ ان کی تصدیق پر ہی مشتمل ہوگا۔

اس رپورٹ پر مختلف سیاسی حلقوں کی طرف سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، مگر ہم موجودہ حکومت کے سربراہ جنرل پرویز مشرف سے، جو آرمی چیف بھی ہیں، صرف دو باتوں کی وضاحت کرنے کی درخواست کر رہے ہیں:

  1. ملک توڑنے کے سنگین جرم میں ملوث پائے جانے والے فوجی اور سول افسروں اور سیاست دانوں کے خلاف اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے؟
  2. فوج کی اعلیٰ قیادت کو شراب، عورت اور رقص و سرود کے جال سے بچانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں؟

کیونکہ اگر ان حوالوں سے کوئی پیشرفت ہوئی ہے تو اطمینان رکھنا چاہیے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرکے آئندہ اس سے محفوظ رہنے کے لیے مناسب بندوبست کر لیا گیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو قوم پوچھنا چاہتی ہے کہ ۱۹۷۱ء کہ کے جی ایچ کیو اور ۲۰۰۱ء کے جی ایچ کیو میں آخر فرق ہی کیا ہے؟