تعلیمی نظام کی سیکولرائزیشن کا ایجنڈا

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۹ اپریل ۲۰۰۲ء

۱۵ اپریل کو اسلام آباد میں ایک دوست کے ہاں شام کے کھانے پر کچھ احباب سے ملاقات ہوئی جن میں ایک دوست نے، جو پاک سیکرٹیریٹ میں اہم عہدے پر کام کرتے ہیں، توجہ دلائی کہ ریفرنڈم سے زیادہ اس کے بعد تیزی سے آگے بڑھائے جانے والے ایجنڈے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے لیے ہوم ورک مکمل ہو چکا ہے، ہدایات آ چکی ہیں اور گرین سگنل مل چکا ہے، اس لیے علمائے کرام اور دینی حلقوں کو اس کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ سنگین مرحلہ ’’تعلیمی نصاب و نظام‘‘ کا ہوگا جسے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے عنوان سے ازسرنو مرتب کیا جا رہا ہے چنانچہ ملک کے سرکاری تعلیمی نصاب سے ہر سطح پر ایمان و عقیدہ، جہاد اور اسلام کے عالمی کردار سے متعلقہ تمام تر مواد خارج کر دینے کا پروگرام بن چکا ہے اور ملک کے تعلیمی نظام کی سیکولرائزیشن کا منصوبہ ہوم ورک کی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔

یہ باتیں رات کے کھانے پر ہوئیں مگر اسی رات کے اختتام پر ہم ناشتے کے دستر خوان پر تھے کہ اخبارات آ گئے اور ایک اخبار میں این این آئی کے حوالے سے ضلع کونسل پشاور کی یہ قرارداد نظر سے گزری جس کے ذریعے ایک خاتون کونسلر نے سرحد حکومت سے اس بات پر احتجاج کیا ہے کہ صوبہ کے تعلیمی اداروں میں سکولوں کی سطح پر تھیالوجی اور قاری صاحبان کی سیٹیں ختم کر کے ان کی جگہ بیوٹیشن اور میوزیشن کی آسامیاں پیدا کی جا رہی ہیں تاکہ نئی نسل کو آرائش اور میوزک کی باقاعدہ تعلیم دی جا سکے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بعض اخباری اطلاعات کے مطابق محکمہ تعلیم کے نصاب میں بنیادی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور اسکولوں میں قاری اور تھیالوجی کی پوسٹیں ختم کر کے اس کی جگہ بیوٹیشن اور میوزیشن کی آسامیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری بچیوں کو میڈونا اور ماریا کیری بنایا جائے گا؟ نہیں، ہم بحیثیت مسلمان اس کی قطعی اجازت نہیں دے سکتے، اس لیے حکومت اس کی وضاحت کرے اور اگر ایسا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے تو وہ واپس لیا جائے۔ قرارداد میں خاتون کونسلر نے تقاضا کیا ہے کہ اگر حکومت نے فنون لطیفہ کو ترقی دینی ہے اور صوبائی وزیر کو اس کا بہت زیادہ شوق ہے تو وہ علیحدہ ادارے بنائے اور سرکاری اسکولوں میں مفت کمپیوٹرائزڈ، معاشرتی انصاف اور خواتین کے حقوق کا نصاب متعارف کرائے۔

قرارداد کے ساتھ ضلع کونسل پشاور کی اس خاتون کونسلر کا نام مذکور نہیں ہے، لیکن جس خاتون نے بھی یہ قرارداد پیش کی ہے، ہم اس کے شکر گزار ہیں کہ اس باغیرت خاتون نے ایک خطرناک رجحان اور فتنہ کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ قوم کو اس سے بروقت خبردار کرنے کا فریضہ سرانجام دیا ہے اور صوبہ سرحد کے غیور مسلمانوں کے علاوہ ملک بھر کی دین دار اور غیرت مند خواتین کے جذبات کی بھی ترجمانی کی ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف ملک بھر میں ریفرنڈم کی حمایت میں جلسے کر رہے ہیں جن سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ خود اعلان فرما چکے ہیں کہ ریفرنڈم کا اعلان انہوں نے جیتنے کے لیے کیا ہے، اس لیے وہ جیت جائیں گے بلکہ جیت ہی چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک مسئلہ یہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ اس کے بعد شروع ہونے والا ہے جب وہ ریفرنڈم کے نام پر اپنی صدارت کو پانچ سال کے لیے طے شدہ قرار دے کر ان فائلوں کا فیتہ کھولیں گے جو ان کی میز پر ان کے ’’ایکشن‘‘ کے انتظار میں پڑی ہیں اور جن کے لیے امریکی حکومت کے ترجمان نے یہ کہہ کر ’’این او سی‘‘ بھی جاری کر دیا ہے کہ ’’ریفرنڈم کے بارے میں فیصلہ کرنا پاکستان کی عدالتوں کا کام ہے‘‘۔ اور اس طرح سودی قوانین کے خاتمہ، توہین رسالت پر موت کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلوں پر ناک بھوں چڑھانے والے امریکہ نے ریفرنڈم کے بارے میں پاکستانی عدالتوں کو فائنل اتھارٹی تسلیم کر کے دراصل اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے کلیئرنس دے دی ہے، جس کا دینی حلقوں کو بروقت ادراک کرنا چاہیے اور اس ایجنڈے کا ”ڈے ٹو ڈے“ سامنا کرنے کے لیے لنگر لنگوٹ کس لینا چاہیے۔