دینی جدوجہد کا نیا دور اور اس کے تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اکتوبر ۲۰۱۸ء

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنماؤں مولانا اللہ وسایا اور مولانا عزیز الرحمٰن ثانی کے ہمراہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات اور اہم ملکی امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ محترم سید سلمان گیلانی، عزیزم حافظ محمد خزیمہ خان سواتی، جناب بلال میر اور حافظ شاہد میر بھی شریک محفل تھے۔

ملک کی عمومی صورتحال کے تناظر میں دینی جد و جہد کے اہم پہلو زیر بحث آئے جن میں نئی حکومت کے بعض اقدامات اور ان کا عوامی ردعمل سامنے رکھتے ہوئے ملک کی نظریاتی شناخت اور دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا مسئلہ سر فہرست تھا۔ مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ متحدہ مجلس عمل ۸ ، اکتوبر کو اسلام آباد میں اس مسئلہ پر قومی مشاورت کا اہتمام کر رہی ہے جس میں تمام اہم دینی و سیاسی مکاتب فکر کے زعماء کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے تاکہ باہمی مشاورت کے ساتھ دینی جد و جہد کی حکمت عملی ترتیب دی جا سکے۔ مولانا موصوف کا کہنا ہے کہ ہم لوگ روایتی انداز میں اپنی محنت کو جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ سیکولر حلقہ اور ان کے قومی و بین الاقوامی پشت پناہ یہ جنگ تکنیکی انداز میں لڑ رہے ہیں، اس لیے ہمیں اپنی ترجیحات اور طریقِ کار کا ازسرِنو جائزہ لینا ہو گا۔

مولانا فضل الرحمن کے اس ارشاد سے اتفاق کرتے ہوئے ہماری گزارش ہے کہ موجودہ قومی تناظر میں دینی حوالہ سے تین امور سب سے زیادہ توجہ طلب ہیں:

  1. ایک یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نظریاتی اور اسلامی شناخت کو ختم کر کے اسے سیکولر ریاست کی حیثیت دینے کے لیے بین الاقوامی مہم نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔
  2. دوسرا یہ کہ ناموس رسالت ؐ کے تحفظ کے قانون میں کسی نہ کسی حوالہ سے ایسی تبدیلی لانے کی سرتوڑ کوشش جاری ہے جس سے یہ قانون اگر خدانخواستہ ختم نہیں ہوتا تو عملی طور پر اسے غیر مؤثر بنا دیا جائے، اور
  3. تیسرا یہ کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا دستوری فیصلہ اور انہیں اسلام کا نام اور شعائر کے استعمال سے روکنے کا قانون ان کے مقامی اور عالمی سرپرستوں کو ہضم نہیں ہو رہا ، اور وہ اسے بہرصورت غیر مؤثر بنانے کے لیے پوری طرح سرگرم عمل ہیں۔

یہ تینوں مسائل بظاہر الگ الگ عنوانات رکھتے ہیں مگر درحقیقت ایک ہی ہدف کی مختلف جہات ہیں کہ پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم کر کے اسے سیکولر ریاست کی شکل دے دی جائے تاکہ اسے علاقائی اور عالمی طور پر اس استعماری ایجنڈے میں فٹ کیا جا سکے، جسے قبول کرنا ایک اسلامی نظریاتی ریاست کے طور پر پاکستان اور اس کے عوام کے لیے کسی طرح بھی ممکن نہیں ہے۔ ہمارے پاس اس کے لیے سب سے مضبوط اساس پاکستان کے کروڑوں عوام کی اپنے دین اور ملک کی اسلامیت کے ساتھ بے لچک محبت اور کمٹمنٹ ہے جس کا وہ کئی بار اظہار کر چکے ہیں، چنانچہ اس مسئلہ کو دنیا بھر کے مسلمہ جمہوری اصولوں کے مطابق دیکھا جائے تو پاکستانی عوام کی غالب اکثریت کے واضح رجحانات کے پیش نظر مذکورہ بالا مسائل میں سے کسی کو ازسرِنو چھیڑنے اور ’’ری اوپن‘‘ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، مگر سیکولر حلقوں کی ہٹ دھرمی کی داد دیجئے کہ وہ عوام کی طرف سے اس ایجنڈے کو بار بار مسترد کیے جانے کے باوجود مسلسل اسی کا راگ الاپتے جا رہے ہیں۔

ایک محفل میں اس پہلو پر گفتگو کا موقع ملا تو میں نے عرض کیا کہ یہ جمہوریت اور سول سوسائٹی کا کون سا اصول ہے کہ عوام اور ان کے منتخب نمائندے ایک بات کو بار بار مسترد کر رہے ہیں مگر جمہوریت کے علمبردار عوام کے اس فیصلے کو قبول کرنے سے مسلسل انکاری ہیں۔ایک صاحب نے کہا کہ اگر دینی حلقوں کی کسی بات کو عوام کی اکثریت قبول نہ کرے تو کیا وہ اس سے دستبردار ہو جائیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ قرآن و سنت کے کسی واضح فیصلے کے خلاف عوامی اکثریت کی کسی رائے کو ہم قبول نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دینی فیصلوں کی بنیاد عوامی رائے پر نہیں ہوتی بلکہ اس کی اساس قرآن و سنت کے اصول و قوانین ہوتے ہیں۔ جبکہ جمہوریت اور سول سوسائٹی کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کی تو بنیاد ہی عوامی رائے پر ہوتی ہے، ان کے پاس عوامی اکثریت کے فیصلے کو قبول نہ کرنے کا کیا جواز ہے؟ الغرض یہ فکری، نظریاتی اور تہذیبی کشمکش قیام پاکستان کے وقت سے جاری ہے، دن بدن اس میں شدت آتی جا رہی ہے اور اب ہم اس کے ایک نئے راؤنڈ میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمارے خیال میں دینی جدوجہد کے راہنماؤں اور کارکنوں کو جن امور پر سب سے زیادہ توجہ دینی چاہیے یہ ہیں کہ وہ:

  • ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیکولر حلقوں اور اداروں کی سرگرمیوں اور چالوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ ان کا بروقت تدارک کر سکیں۔
  • باہمی ربط و تعاون اور اشتراک عمل کو بڑھانے کے لیے کوشش کرتے رہیں کیونکہ اسی ذریعے سے وہ اپنے موقف کا مضبوطی کے ساتھ اظہار کر سکتے ہیں۔
  • رائے عامہ کو بیدار، باخبر اور متحرک رکھنے کے لیے مسلسل اور مربوط جدوجہد جاری رکھنے کی ہر وقت ضرورت ہے کیونکہ عالمِ اسباب میں دینی جدوجہد کی سب سے بڑی قوت یہی ہے۔
  • علماء کرام، طلبہ، اساتذہ، خطباء اور میڈیا کے مختلف شعبوں کے ہم خیال دوستوں کے ساتھ رابطہ، ان کی ذہن سازی، ضروری معلومات کی فراہمی اور بریفنگ کی طرف خصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں جدوجہد کو شعوری طور پر جاری رکھ سکیں۔
  • پاکستان کی اسلامی شناخت، تحفظ ناموس رسالتؐ اور تحفظ ختم نبوت کے اہم ترین ملی مقاصد کے بارے میں دلچسپی اور شعور رکھنے والے حضرات ہر طبقہ حتٰی کہ ملک کی ہر سیاسی جماعت میں موجود ہیں جو بوقت ضرورت کردار بھی ادا کرتے ہیں، صرف انہیں تلاش کرنے، ان کے ساتھ رابطہ رکھنے اور ان کی بروقت بریفنگ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا دینی جماعتوں کو ہر سطح پر اہتمام کرنا چاہیے۔

ہماری یہ قومی روایت سی بن گئی ہے کہ ہر آنے والی حکومت بین الاقوامی دباؤ کے ماحول میں خود کو عالمی طاقتوں کے لیے قابل قبول ظاہر کرنے کے لیے ان مسائل کو چھیڑتی ہے، کچھ نہ کچھ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اس کی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ کے مختلف شعبوں میں گھسے ہوئے سیکولر عناصر اپنا لُچ تلنے کے لیے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔ اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے اور آئندہ بھی یہ سب کچھ ہوتا رہے گا، اس لیے ہم اگر اپنی صفوں میں ربط و تعاون قائم رکھیں، باہمی اعتماد و مشاورت کے ساتھ جدوجہد کرتے رہیں اور رائے عامہ کے بروقت اور بھرپور اظہار کا میدان گرم رکھیں تو ماضی کی طرح اب بھی سیکولر عناصر کی کوئی مہم بھی کامیاب نہیں ہو سکے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔