مظفر آباد میں ایک دن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۴ مئی ۲۰۱۳ء

۱۹ مئی کو میں آزاد ریاست جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں تھا۔ جامعہ دارالعلوم اسلامیہ چھتر کے بنات کے شعبہ میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی اور جامعہ کے بانی و مہتمم مولانا قاضی محمود الحسن اشرف کی بیٹی کا نکاح بھی تھا جس کے لیے موصوف نے مجھے حاضری کے لیے بطور خاص فرمایا تھا۔ جامعہ اسلامیہ گزشتہ تیس برس سے اس علاقہ میں دینی علوم کی ترویج و تنفیذ کے لیے سرگرم عمل ہے اور مولانا قاضی محمود الحسن اشرف وفاق المدارس العربیہ کے لیے بھی بھرپور خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ میری ہمشیرہ (اہلیہ مولانا قاری خبیب احمد عمرؒ جھلم) نے بخاری شریف کا آخری سبق پڑھایا اور مجھے بہت سے دیگر علماء کرام کے ساتھ تقریب میں کچھ گزارشات پیش کرنے کے علاوہ قاضی صاحب کی بیٹی کا ان کے ایک عزیز نوجوان قاضی معاذ خطیب الرحمن کے ساتھ نکاح پڑھانے کا شرف حاصل ہوا۔ میری مذکورہ ہمشیرہ نے اس دور میں والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی جب طالبات کے مدارس کا عمومی مزاج و نظام موجود نہیں تھا۔ اب وہ کم و بیش گزشتہ تین عشروں سے جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جھلم کے شعبہ بنات میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہی ہیں اور ایک عرصہ سے بخاری شریف ان کے زیر درس ہے۔ بنات کے باقاعدہ مدارس کا نظام بہت بعد میں قائم ہوا، جبکہ ہمارے حضرات شیخین رحمہما اللہ تعالیٰ کا شروع سے ذوق تھا کہ بچیوں کو درس نظامی کی تعلیم دی جائے اور انہوں نے کسی نظم کے بغیر بچیوں کو درس نظامی کی کتابیں پڑھائی ہیں، خود میری بیٹی کا نکاح جب حضرت چچا جانؒ کے بڑے فرزند مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی سے ہوا تو وہ میرا جماعتی طور پر متحرک ترین دور تھا اور میں بیٹی کے لیے درس نظامی کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں کر پایا تھا، اس پر حضرت صوفی صاحبؒ مجھ سے سخت ناراض ہوئے اور اپنی بہو کو جو ان کی پوتی بھی لگتی تھی اپنی ایک بیٹی (اہلیہ مولانا ظفر فیاض) کے ساتھ درس نظامی کی باقاعدہ تعلیم دی۔ میری یہ بیٹی اب بحمد اللہ تعالیٰ جامعہ نصرۃ العلوم کے شعبہ بنات کی صدر معلمہ ہے اور دورہ حدیث کے اسباق پڑھا کر اپنے دونوں بزرگ دادوں کی یاد کو تازہ رکھے ہوئے ہے۔

جامعہ دارالعلوم اسلامیہ مظفر آباد کی اس سالانہ تقریب میں بہت سے سرکردہ علماء کرام کے علاوہ آزاد کشمیر کے وزیر تعلیم میاں عبد الوحید اور جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جہلم کے مہتمم مولانا قاری ابوبکر صدیق (جو میرے بھانجے ہیں) بھی شریک ہوئے اور خطاب کیا۔

مظفر آباد کی حاضری کے موقع پر مقامی اخبارات میں ایک خبر نظر سے گزری کہ دو روز قبل مظفر آباد میں توہین رسالتؐ کے ایک مبینہ واقعہ پر فساد ہوتے ہوتے رہ گیا ہے اور مقامی علماء کرام نے اس فساد کو رکوانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے جس پر پریس نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ ایک چینی کمپنی کے چینی ملازم نے اپنی رہائش تبدیل کی اور اس کا سامان جب کمرے سے نکالا جا رہا تھا تو قرآن کریم کا ایک نسخہ زمین پر گر گیا جس پر کچھ لوگوں نے اردگرد سے بہت سے لوگوں کو یہ کہہ کر جمع کر لیا کہ قرآن کریم کی توہین کی گئی ہے، لوگ جمع ہوئے اور احتجاج کا معروف طریقہ سامنے آنے لگا جس کے نتیجے میں کچھ املاک کو نقصان بھی پہنچا مگر ایک طرف ضلعی انتظامیہ کے افسران بروقت پہنچ گئے اور دوسری طرف علماء کرام نے بھی اس کا نوٹس لیا۔ ایک مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بزرگ عالم دین اور جمعیۃ علماء اسلام کے راہ نما مولانا قاری عبد المالک کہیں اور جمعہ پڑھا کر واپسی پر وہاں سے گزر رہے تھے کہ لوگوں کا ہجوم دیکھ کر رک گئے۔ صورت حال معلوم کر کے انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا کہ اگر یہ واقعہ ارادتاً ہوا ہے تو اس کے ذمہ دار کو سزا دینا قانون کی ذمہ داری ہے اور وہ اس کے لیے پوری کوشش کریں گے لیکن لوگوں کو قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کرنا چاہیے اور انتظامیہ پر اعتماد کرتے ہوئے پر امن طور پر واپس چلے جانا چاہیے۔ علاقہ کے دوسرے علماء مولانا قاضی محمود الحسن اشرف اور ان کے رفقاء بھی متحرک ہوئے اور انہوں نے حکمت عملی کے ساتھ صورت حال کو کنٹرول کر لیا۔

مظفر آباد کے علماء کرام کا یہ مثبت کردار معلوم کر کے مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا، اس موقع پر میرے بھانجے مولانا قاری ابوبکر صدیق نے بتایا کہ کچھ دنوں پہلے جھلم میں بھی اس قسم کی صورت حال پیدا ہونے لگی تھی اور بعض جذباتی حضرات نے ایک وقتی بات کو عنوان بنا کر اس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی تھی مگر ضلعی انتظامیہ نے علماء کرام اور پادری صاحبان سے بروقت رابطہ کر لیا اور باہمی تعاون سے معاملات کو مزید آگے بڑھنے سے روک لیا گیا۔ اس پر مجھے بھی گوجرانوالہ کا دو سال قبل کا واقعہ پھر سے یاد آگیا کہ کھوکھرکی میں جہاں مسیحیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے، توہین رسالتؐ کا ایک مبینہ واقعہ سامنے آیا تو اردگرد کے دینی مدارس کے طلبہ اور مذہبی کارکنوں نے جمع ہونا شروع کر دیا اور اشتعال و احتجاج کی لہر رونما ہونے لگی۔ یہاں بھی ضلعی انتظامیہ نے علماء کرام سے رابطہ کیا اور چند سرکردہ علماء کرام نے مل کر اس پر قابو پا لیا۔ بعد میں تحقیق سے معلوم ہوا کہ توہین رسالت کا وہ مبینہ واقعہ ایک سازش تھا جو علاقہ کی صورت حال کو خراب کرنے کے لیے تیار کی گئی تھی۔ اس پر ایک ذمہ دار ضلعی افسر نے دو روز بعد کہا کہ اگر چند سرکردہ علماء کرام (بحمد اللہ میں بھی ان میں شامل تھا) بروقت کردار ادا نہ کرتے تو کھوکھرکی کا ایک حصہ جل چکا ہوتا۔

بعد میں لاہور کی ایک مشترکہ تقریب میں بشپ آف پاکستان ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک نے گوجرانوالہ کے علماء کرام کے اس کردار کو سراہا، اور چونکہ میں وہاں موجود تھا اس لیے انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے بشپ آف پاکستان کے اس شکریہ کا ذکر تو کر دیا ہے مگر اب اس انتظار میں ہوں کہ عظیم عرب مجاہد امیر عبد القادر الجزائری رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرح مجھ پر بھی (عیسائیوں کا گماشتہ) ہونے کا فتویٰ کب صادر ہوتا ہے؟

تحفظ ناموس رسالتؐ کا قانون اپنے اصل اور جرم و سزا کے حوالہ سے ایک ناگزیر اسلامی قانون ہے جس کے دفاع میں خود میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہتا ہوں مگر اس کے اطلاق و تطبیق کے معاملات بہرحال توجہ طلب ہیں، اس لیے کہ اب تک کے ریکارڈ کے مطابق:

  • بہت سے مقدمات ایسے ہیں جن میں کسی معمولی بات کو خوامخواہ بڑھا چڑھا کر توہین رسالتؐ کا کیس بنانے کی کوشش کی گئی ہے جیسا کہ مظفر آباد کے مذکورہ واقعہ میں نظر آتا ہے، اور کچھ عرصہ قبل گوجرانوالہ کے علاوہ گرجاکھ میں ایک واقعہ ہوا کہ کسی مولوی صاحب نے مسجد کی الماریوں میں پڑے ہوئے قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق کو تلف کرنے کے لیے انہیں جلانا شروع کر دیا، اگردگرد کے لوگوں نے دیکھا تو شور مچا دیا۔ ایک دو مخالفین نے یہ کہہ کر بہت سے لوگوں جمع کر لیے کہ قرآن کو جلا کر اس کی توہین کی جا رہی ہے۔ پولیس نے مولوی صاحب مذکور کو گرفتار کر لیا اور شہر کے علماء کرام سے دریافت کیا کہ اس واقعہ پر کیا کاروائی کی جائے؟ میں نے تحریری طور پر لکھ دیا کہ اس مولوی صاحب نے بے احتیاطی بلکہ بے وقوفی کی ہے اس پر اس کی سرزنش کی جائے لیکن یہ توہین قرآن کریم کا کیس نہیں بنتا، اس پر مولوی صاحب مذکور کی جان چھوٹی۔
  • درجنوں مقدمات ایسے ہیں جو مسلکی اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف درج کرائے جاتے ہیں اور خاصی پیچیدگی پیدا کر دیتے ہیں۔ اسی سال ربیع الاول کے دوران دینہ ضلع جھلم میں ایک مسجد کی تعمیر کے تنازعہ میں ایک فریق نے میلاد النبیؐ کی جھنڈیوں کی بے حرمتی کا بہانہ بنا کر مخالفین کے خلاف توہین رسالتؐ کا باقاعدہ مقدمہ درج کرا دیا۔ اور جن کے خلاف یہ مقدمہ درج ہوا ان میں میرے مذکورہ بھانجے قاری ابوبکر صدیق مہتمم جامعہ حنفیہ تعلیم الاسلام جھلم بھی شامل ہیں۔ مقدمہ درج ہوجانے کے بعد شہر کے معززین نے جو اصل صورت حال سے واقف تھا، درمیان میں پڑ کر صلح کرائی اور مقدمہ واپس کروایا ورنہ معاملات کا بگاڑ خدا جانے کہاں تک پہنچتا۔

مظفر آباد کے مذکورہ واقعہ کے حوالہ سے یہ گزارشات پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے جو بہرحال توجہ طلب ہیں اور سنجیدہ دینی راہ نماؤں کو اس طرف ضرور توجہ دینی چاہیے۔