حکومتی اعلان کے بغیر جہاد کی شرعی حیثیت

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم مارچ ۲۰۰۴ء

اسلام آباد کے ’’علماء کنونشن‘‘ سے جنرل پرویز مشرف کے خطاب پر بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے اور قومی اخبارات میں اس کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا جا رہا ہے۔ اس کنونشن کے لیے اپنی مرضی کے علماء و مشائخ کو جس انداز سے جمع کیا گیا، اس سے ماضی کی حکومتی روایات بھی مدھم پڑ گئیں، کیونکہ ماضی کی حکومتیں ایسے مواقع پر اس بات کا خیال رکھتی تھیں کہ کانفرنس یا کنونشن میں اس کے ہم خیال حضرات ہی کی اکثریت ہو مگر توازن قائم رکھنے کے لیے مخالفانہ نقطۂ نظر رکھنے والے کچھ حضرات کو بھی موقع دیا جاتا تھا۔ لیکن اس بار کنونشن کے شرکاء کی فہرست کو ایسی باریک چھلنی سے گزارا گیا کہ ہاں میں سر ہلانے اور واہ واہ کرنے والوں کے سوا کوئی بھی اس کنونشن کی اگلی صفوں میں جگہ نہ پا سکا۔ چند سنجیدہ علماء اور بزرگوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی گئی اور وہ شریک بھی ہوئے، لیکن انہیں پچھلی صفوں میں اس طرح جگہ دی گئی کہ نہ تو وہ کسی بات پر استفسار یا اظہار خیال کر سکیں اور نہ ہی ان کی موجودگی ذرائع ابلاغ میں نمایاں کوریج پا سکے۔ انہی چند سنجیدہ علماء میں سے ایک ذمہ دار عالم دین نے مجھے بتایا کہ وہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے تقریر کے درمیان میں اٹھے اور واپس جانے لگے تو ہال کے دروازے بند تھے اور ان سے کہا گیا کہ صدر صاحب کی تقریر ختم ہونے سے پہلے کسی کو ہال سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور نہ ہی دروازے کھولے جائیں گے۔

صدر صاحب کے اس ’’خطاب بالخیر‘‘ کے بہت سے نکات قومی اخبارات میں اس وقت موضوع بحث ہیں ان میں سے دو باتوں کے حوالہ سے ہم بھی چند گزارشات پیش کرنا مناسب خیال کرتے ہیں۔

  • صدر محترم نے فرمایا ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، اس کا آئین اسلامی ہے، کوئی بھی شخص پاکستان کے اسلامی تشخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی یہاں اسلام کے خلاف کوئی قانون بن سکتا ہے۔ ان کا ارشاد بجا ہے کہ پاکستان کا دستور فی الواقع یہ تحفظات فراہم کرتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اس وقت اسلام کے خلاف کوئی قانون نافذ نہیں ہے؟ اور قومی زندگی کے تمام شعبوں میں اسلامی احکام و تعلیمات کی عملداری قائم ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے اور عملا ملک میں بہت سے غیر اسلامی قوانین نافذ ہیں بلکہ اس کا مسلسل تحفظ کیا جا رہا ہے تو اس بات کی نشاندہی ہونی چاہیے کہ دستور پاکستان کی اس ضمانت کو ’’کہ پاکستان میں اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا‘‘ سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ جب بھی حکمرانوں کو اسلامی نظام اور قوانین کے نفاذ کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے وہ یہ کہہ کر بزعم خود اپنی ذمہ داری سے فارغ ہو جاتے ہیں کہ دستور میں اسلام کو پاکستان کو سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے اور اسلام کے خلاف کوئی قانون نہ بنائے جانے کی ضمانت دی گئی ہے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ ہمارے حکمران طبقات کے نزدیک دستور میں ایک دو دفعات کا شامل ہو جانا ہی اسلامی نظام کے نفاذ کے مترادف ہے اور اس کے بعد عملاً اور کچھ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کلمہ پڑھ لے اور کہے کہ چونکہ میں نے کلمہ پڑھ لیا ہے اور وقتاً فوقتاً اسے دہراتا رہتا ہوں، اس لیے میں مسلمان ہوں، اور مجھے مزید کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلمہ پڑھنے سے وہ مسلمان ضرور شمار ہوگا لیکن صرف کلمہ پڑھ لینا اس کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ فرائض و واجبات، حلال و حرام اور حقوق و معاملات کا ایک پورا نظام ہے جو اسے عملی زندگی میں اپنانا ہوگا ورنہ بارگاہ ایزدی میں فاسق و فاجر اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب قرار پائے گا، بلکہ اگر وہ عقیدہ کے طور پر فرائض و واجبات، حلال و حرام اور حقوق و معاملات کو غیر ضروری سمجھتا ہے تو اس کے کلمہ پڑھنے کا بھی شرعاً کوئی اعتبار نہیں ہے۔

    پھر دستور میں صرف یہی نہیں لکھا ہوا کہ پاکستان میں اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکے گا بلکہ اس بات کی بھی صراحتا ضمانت دی گئی ہے کہ ملک میں رائج قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی ہے جس نے تمام مروجہ قوانین کے بارے میں سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کر رکھی ہے۔ اور دستور میں اس کام کی جو مدت مقرر کی گئی تھی وہ بھی عرصہ ہوا گزر چکی ہے لیکن ابھی تک اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوئی عملی پیشرفت نہیں ہوئی۔ جن قوانین کو اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت قرآن و سنت کے منافی قرار دے چکی ہے وہ بدستور نافذ ہیں اور اسلامی قوانین کے نفاذ کے بارے میں دستوری ضمانتوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔

    اس لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل پرویز مشرف صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو جاتے کہ پاکستان کے دستور میں اسلام کے خلاف کوئی قانون نافذ نہ کیے جانے کی ضمانت دی گئی ہے اس لیے پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کے لیے عملاً کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ اگر وہ دستور کی اسلامی دفعات کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے جس کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات مرتب شکل میں وزارت قانون کے پاس موجود ہیں، اس کے بغیر پاکستان ’’ایک اسلامی ملک ہے‘‘ اور ’’اس کے اسلامی تشخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا‘‘ قسم کی باتیں خود فریبی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

  • دوسری بات انہوں نے جہاد کے بارے میں کہی ہے اور یہ ’’فتویٰ‘‘ صادر کیا ہے کہ جہاد کے اعلان کا حق صرف حکومت کو حاصل ہے اور حکومت کے اعلان کے بغیر کسی جہاد کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ یہ بات ہمارے بعض دانشور مسلسل کہہ رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کسی ایسے دانشور نے ہی صدر محترم کو یہ پٹی پڑھائی ہو، لیکن یہ بات اسلامی تعلیمات اور اسلامی تاریخ کے تسلسل سے مطابقت نہیں رکھتی، اس لیے اس کی وضاحت ہم ضروری سمجھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی ملک یا قوم کے خلاف ’’اعلان جہاد‘‘ حکومت ہی کا حق ہے اور کسی فرد یا طبقہ کا یہ استحقاق نہیں ہے کہ وہ کسی ملک یا قوم کے خلاف اپنے طور پر جہاد کا اعلان کرے، لیکن مسلم سوسائٹی پر مسلط ہونے والے کفر سے نجات حاصل کرنے کے لیے جہاد کے اعلان کے لیے کسی حکومت کی اجازت ضروری نہیں اور اگر کسی مسلم آبادی پر کافروں کا تسلط قائم ہو جاتا ہے تو اس تسلط سے آزادی حاصل کرنے کے لیے کسی حکومتی اعلان کے بغیر عام مسلمانوں کو بھی حق ہے کہ اگر وہ مزاحمت کر سکتے ہیں تو عَلمِ جہاد بلند کریں اور مسلم آبادی کو کافروں سے نجات دلانے کے لیے جدوجہد کریں۔

    برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جنوبی ایشیا کی تمام تحریکات آزادی جو جہاد کے عنوان سے لڑی گئیں اسی اصول پر تھیں۔ شہدائے بالاکوٹ، بنگال میں حاجی شریعت اللہؒ اور تیتو میرؒ کی مسلح تحریکات، پنجاب میں احمد خان کھرل شہیدؒ کی تحریک مزاحمت، ۱۸۵۷ء کا معرکہ حریت، سرحد میں حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور فقیر ایپیؒ کی تحریکات، الجزائر کی جنگ آزادی، سوڈان میں مہدی سوڈانی کا معرکہ حریت اور دنیائے اسلام کی دیگر مسلح تحریکات آزادی کے ساتھ ساتھ روسی جارحیت کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت بھی جہاد کے عنوان سے تھی اور اس کا اعلان کسی حکومت نے نہیں کیا تھا، بلکہ افغانستان کے اس جہاد کو پاکستانی حکومت اور فوج نے بھی سپورٹ کیا۔ اسی طرح کشمیر کی جنگ آزادی بھی جہاد کے پرائیویٹ فتویٰ سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت آزاد کشمیر کے نام سے جو خطہ پاکستان کے ساتھ ہے وہ ’’پرائیویٹ جہاد‘‘ ہی کا ثمرہ ہے اور اس کے بعد بھی کشمیر کے عوام آزادی کے لیے جس جہاد میں مصروف ہیں وہ کسی حکومت کے اعلان کی بنیاد پر نہیں ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین کے عوام گزشتہ نصف صدی سے جو مسلح مزاحمت جہاد کے نام سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اسرائیلی درندگی کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں اس کا اعلان کس حکومت نے نہیں کیا تھا بلکہ پرائیویٹ جماعتیں ہیں جو مسلم حکمرانوں اور حکومتوں کی بے حسی کا ماتم کرتے ہوئے جہاد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسرائیلی جبر و تشدد کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ جہاد کے اعلان کا حق صرف حکومت کو حاصل ہے اور اس کے سوا کسی اور کو جہاد کا اعلان کرنے کا حق نہیں ہے، مسلم دنیا کی ان تمام مسلح تحریکات آزادی کی نفی کے مترادف ہے جو برطانوی، فرانسیسی، ولندیزی اور روسی استعماروں کے تسلط کے خلاف مسلم ممالک میں لڑی گئیں اور جن کے نتیجے میں آج مسلم ملکوں کے دارالحکومتوں میں کچھ لوگ اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہیں۔

    کسی جہادی تحریک کا وقتی طور اپنے اہداف کا حاصل نہ کر سکنا اور بات ہے اور اس کی اصولی و اخلاقی حیثیت اس سے بالکل مختلف امر ہے۔ یہ غلامانہ نفسیات کا کرشمہ ہے کہ کسی مہم میں کامیابی حاصل نہ کر سکنے پر اس کے اسباب کا جائزہ لینے اور ان کا سدِباب کرنے کی بجائے ہم سرے سے اس مہم کے جواز کے بارے میں ہی شک و شبہ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے معرکہ حریت کی ناکامی کے بعد بھی ایسا ہوا تھا کہ جب انگریزوں کے خلاف مسلح مزاحمت کامیاب نہ ہو سکی تو مشروعیت اور جواز کی بحث شروع ہوگئی اور مرزا غلام احمد قادیانی جیسے لوگوں نے تو جہاد کی منسوخی کا ہی اعلان کر دیا۔

    تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے، وہی منظر ہے، وہی کردار ہیں اور وہی میدان ہے، البتہ برطانوی استعمار کی جگہ امریکی استعمار نے لے لی ہے، جہادی تحریکات امریکی قوت کے سامنے بے بس ہوتی جا رہی ہیں اور یار لوگوں نے اس بے بسی کے اسباب کی نشاندہی اور اس کے پس منظر میں متحرک کرداروں کو بے نقاب کرنے کی بجائے سرے سے جہاد کے جواز کو ہی موضوع بحث بنا لیا ہے۔ ان دوستوں سے گزارش ہے کہ یہ بحث برطانوی استعمار کے تسلط کے دور میں بہت ہو چکی ہے اس پر دونوں طرف سے بہت سے دلائل دیے جا چکے ہیں اور زمانہ اس بحث کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ چکا ہے۔ اس موقف کو کہ کسی مسلم آبادی پر کافروں کے تسلط سے نجات کے لیے جہاد کے اعلان کے لیے بھی حکومت کی اجازت ضروری ہے، مسلم امہ کے کسی حصے نے قبول نہیں کیا اور اس کے بعد بھی درجنوں مسلم ممالک میں جہاد کے پرائیویٹ فتوی ٰ کی بنیاد پر آزادی کی جنگیں لڑی گئی ہیں جو کامیاب بھی ہوئی ہیں اور آج جو مسلم حکمران ’’آزاد مسلم ممالک‘‘ کے اصحاب اقتدار کہلاتے ہیں ان کا یہ اقتدار اور کروفر اسی ’’پرائیویٹ جہاد‘‘ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہداء کے مقدس خون کا صدقہ ہے۔

    ہمارے ان دوستوں کا ارشاد ہے کہ اگر کسی مسلم معاشرہ پر کافروں کا غلبہ ہوجائے اور مسلمان اپنے اقتدار سے محروم ہوجائیں تو انہیں مزاحمت اور جہاد کے لیے حکومت کا انتظار کرنا چاہیے جو کافروں کی تسلط کی وجہ سے پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اور اس کی جگہ کوئی کٹھ پتلی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ کافروں کے غلبہ اور تسلط کو جواز فراہم کرنے کی اس سے زیادہ آسان صورت اور کیا ہو سکتی ہے کہ ’’نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی‘‘۔

درجہ بندی: