فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے تقاضے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۷ دسمبر ۲۰۰۴ء

برطانیہ کے حالیہ سفر کے دوران یکم اکتوبر ۲۰۰۴ء کو آکسفورڈ کی مدینہ مسجد میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کے موقع پر فہم قرآن کی اہمیت اور اس کے چند ضروری تقاضوں پر کچھ معروضات پیش کرنے کا موقع ملا۔ ان کا خلاصہ قارئین کی دلچسپی کے لیے درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ! محترم بزرگو اور دوستو! میں نے آپ کے سامنے قرآن کریم کی سورۃ القمر کی ایک آیت تلاوت کی ہے، اس کی روشنی میں کچھ ضروری گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ دو باتیں فرمائی ہیں:

  • ایک یہ کہ ہم نے قرآن کریم کو ذکر کے لیے آسان کر دیا ہے،
  • اور دوسری یہ کہ استفہام کے انداز میں یہ کہہ کر ہمیں دعوت دی ہے کہ کوئی ہے جو اس کا ذکر کرنے والا ہو؟

قرآن کریم کو یاد کرنا اور سمجھنا

یہاں ذکر سے کیا مراد ہے؟ اس کے بارے میں مفسرین کرام ؒ نے عام طور پر دو باتیں کہی ہیں اور اپنے اپنے حوالے سے دونوں باتیں درست ہیں۔ (۱) ذکر سے مراد یاد کرنا بھی ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو یاد کرنے کے لے آسان کر دیا ہے، (۲) اور ذکر کا معنیٰ نصیحت پکڑنا اور معنیٰ و مفہوم کو سمجھنا بھی ہے کہ ہم نے اس مقدس کلام کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے۔

  1. یاد اور حفظ کے لیے قرآن کریم کے آسان ہونے کا ہم کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ دنیا کی یہ واحد کتاب ہے جو یاد ہوتی بھی ہے اور یاد رہتی بھی ہے۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد اور عورت سب اسے یاد کر لیتے ہیں اور ان میں سے بہت سے لوگ اسے یاد رکھتے بھی ہیں۔ نو سال، دس سال، بلکہ سات اور آٹھ سال کے بچے اور بچیاں بھی قرآن کریم یاد کرتی ہیں۔ ہر زمانے میں قرآن کریم حفظ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ چند سال قبل ایک رسالے میں کسی ادارے کی سروے رپورٹ نظر سے گزری تھی کہ دنیا میں اس وقت قرآن کریم کے حافظوں کی تعداد نوے (۹۰) لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے جس میں دنیا کی کوئی اور کتاب اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔
  2. دوسرا معنیٰ اس مقام پر مفسرین کرامؒ نے یہ کیا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے اور اس میں گفتگو کا ایسا اسلوب اختیار کیا ہے کہ عام آدمی بھی اس کے مفہوم اور پیغام کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے عام لوگوں کو بات سمجھانے کے لیے بڑی آسان زبان اختیار کی ہے۔ حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ قرآن کریم کی تفسیر کے اصول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گفتگو کے فطری اسلوب اور اصول کی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مخاطبین کی زبان اور ذہنی سطح کا لحاظ رکھا ہے اور یہی گفتگو کا فطری تقاضا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عام لوگوں کے لیے مشاہدات کی زبان استعمال کی ہے جو تعلیم اور تفہیم کے لیے سب سے زیادہ آسان زبان ہوتی ہے۔ آپ حضرات آکسفورڈ جیسے بڑے تعلیمی مرکز میں رہتے ہیں، آپ اس بات کو بہتر طور پر جانتے ہیں کہ تعلیمی ماہرین جب چھوٹے بچوں کے لیے تعلیم کا نصاب تیار کرتے ہیں تو مشاہدات کی زبان سے ہی اس کا آغاز کرتے ہیں۔ بچوں کو سب سے پہلے اردگرد کی اشیا سے متعارف کرایا جاتا ہے اور ان کے مشاہدے میں آنے والی چیزوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ انار ہے، یہ بکری ہے، یہ میز ہے، یہ درخت ہے، یہ انڈا ہے، یہ گیند ہے۔ اسے مشاہدے کی زبان کہتے ہیں اور یہ سب سے زیادہ آسان زبان ہوتی ہے، اسی لیے بچوں کی تعلیم کا آغاز اسی سے کیا جاتا ہے۔

    قرآن کریم میں بھی عام لوگوں کے لیے یہی زبان استعمال کی گئی ہے اور انسانوں کو ان کے اردگرد کے ماحول میں روز مرہ استعمال اور مشاہدے میں آنے والی اشیا کی طرف توجہ دلا کر ان کے ذریعے عقائد سمجھانے کا اسلوب اختیار کیا گیا۔ قرآن کریم بار بار دعوت دیتا ہے، آسمان کی طرف دیکھو، بادل دیکھو، ان سے برستا پانی دیکھو، درخت اور سبزہ دیکھو، زمین کے مردہ ہونے اور پھر پانی کے ذریعے اس کے زندہ ہونے کی کیفیت دیکھو، اور جن جانوروں اور اشیا کا تم روزمرہ استعمال کرتے ہو ان کا مشاہدہ کرو۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت، اس کی صفات اور اس کی توحید کا عقیدہ سمجھانے کے لیے سب سے زیادہ زور کائنات اور اردگرد کے ماحول اور اشیا کے مشاہدے اور ان پر غور و فکر کرنے پر دیا گیا ہے۔

    قرآن کریم میں فلسفہ والوں کے لیے فلسفہ اور معقولات والوں کے لیے عقلی مباحث کا سامان بھی موجود ہے، لیکن عام لوگوں کو بات سمجھانے کے لیے بالکل سادہ اور عام سی زبان استعمال کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر ۴۱ میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے عقیدے کی کمزوری سمجھانے کے لیے مکڑی کی مثال دی ہے اور یہ بتایا ہے کہ جس طرح مکڑی مضبوط چھت اور مستحکم دیوار کی مضبوطی پر اعتماد کرنے کے بجائے کمزور سا الگ جالا تیار کرتی ہے، جو کمزور ترین گھر ہے اور ایک پھونک کی مار نہیں ہے، اسی طرح مشرک بھی اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت اور اس کی صفات پر اعتماد کرنے کی بجائے اپنی تسلی کے لیے کمزور سے الگ سہارے تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے شرک کی حقیقت عام لوگوں کو سمجھائی ہے۔ قرآن کریم کا عام طور پر اسلوب یہی ہے۔

اس طرح اللہ رب العزت نے سورۃ القمر کی اس آیت کریمہ میں، جو میں نے آغاز میں آپ کے سامنے تلاوت کی ہے، یہ فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو یاد کرنے کے لیے بھی آسان کیا ہے اور سمجھنے کے لے بھی آسان کر دیا ہے، پھر اس کے بعد ہمیں یہ کہہ کر قرآن کریم کو یاد کرنے اور اس کو سمجھنے کی دعوت دی ہے کہ کیا کوئی اس کا ذکر کرنے والا ہے؟ کیا کوئی اسے یاد کرنے والا ہے؟ اور کیا کوئی اس کو سمجھنے کے لیے تیار ہے؟ یہ بھی کسی بات کی دعوت دینے کا انداز ہوتا ہے اور ہمیں اس دعوت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔

قرآن کریم کے فہم اور تشریح کا فرق

قرآن کریم کو سمجھنے کے بارے میں ہمارے ہاں عام طور پر دو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں:

  1. ایک یہ کہ قرآن کریم کو سمجھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں، اس کے لیے بہت سارے علوم ضروری ہیں اور ان علوم پر عبور حاصل کیے بغیر قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
  2. اور دوسری یہ کہ جس شخص کو قرآن کریم کو تھوڑا بہت سمجھنے کا موقع مل جاتا ہے، وہ اتھارٹی بن کر بیٹھ جاتا ہے کہ اب اس کی تشریح بھی کروں گا۔ اس کی خواہش اور کوشش ہوتی ہے کہ لوگ اب اسی کی طرف رجوع کریں اور قرآن کریم کی تشریح کے حوالے سے اسی کی بات کو حتمی سمجھیں۔

یہ دو انتہائیں ہیں اور دونوں درست نہیں ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی بات کو سمجھنا اور چیز ہے اور اس کو سمجھانا اور تشریح کرنا اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ کسی کلام کے مفہوم سے واقف ہونا اور چیز ہے، اور اس کی تشریح کا حق رکھنا اس سے مختلف چیز ہے۔ ہم دونوں کو گڈمڈ کر دیتے ہیں اور کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر میں یہ عرض کروں گا کہ کسی بھی ملک کے عام شہری کے لیے اپنے ملک کے رائج الوقت قوانین سے واقف ہونا اور اس کے ضروری تقاضوں کو سمجھنا بطور شہری اس کی ذمہ داری میں شامل ہوتا ہے۔ کوئی شہری قانون شکنی کا مرتکب ہو اور عدالت میں طلبی پر یہ کہہ دے کہ میں اس قانون سے واقف نہیں تھا، اس لیے مجھ سے خلاف ورزی کا ارتکاب ہو گیا ہے، تو کسی ملک کی کسی بھی سطح کی عدالت اس عذر کو قبول نہیں کرے گی اور اس بنیاد پر اسے بری نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ ایک شہری کی حیثیت سے اپنے ملک کے قوانین سے آگاہ ہونا تمہاری ذمہ داری ہے اور ملک کے ہر شہری کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک کے قوانین سے آگاہ ہو۔ لیکن اگر کوئی شخص قانون سے واقف ہے اور اسے سمجھتا ہے، تو اسے صرف اس وجہ سے قانون کی تشریح کا حق حاصل نہیں ہو جائے گا کہ وہ کسی عدالت یا فورم میں یہ کہے کہ میں قانون کو جانتا ہوں، سمجھتا ہوں اور اس کے بارے میں میرا مطالعہ وسیع ہے، اس لیے میں قانون کی تشریح کا حق رکھتا ہوں، اس کی یہ دلیل کسی جگہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ قانون کی تشریح، اس سے کسی بات پر استدلال اور اس پر لاگو کرنے کا معیار الگ ہے اور اس کا طریق کار مختلف ہے۔ اس کے لیے قانون کی تعلیم، ڈگری اور تجربہ شرط ہے، اس کے بغیر کسی شخص کو محض مطالعے اور قانون کو سمجھنے اور جاننے کی بنیاد پر قانون کی تشریح کا حق نہیں مل سکتا۔

یہی اصول قرآن کریم کے حوالے سے بھی ہے کہ اس حد تک سمجھنا کہ اس کے احکام اور مفہوم سے آگاہی ہو اور قرآن کریم کی کوئی آیت پڑھتے یا سنتے ہوئے معلوم ہو جائے کہ اس میں نماز کی بات ہے، روزے کی بات ہے، حلال و حرام کا مسئلہ ہے، جنت و دوزخ کا تذکرہ ہے، کس کام کا حکم دیا گیا ہے یا کس بات سے منع کیا گیا ہے، یہ ہر مسلمان مرد اور عورت کی ذمہ داری ہے اور یہ قرآن کریم کے حقوق میں ہے اور اس کلام میں اللہ تعالیٰ کے مخاطب ہم ہیں۔

فہم قرآن کریم کے تقاضے

پیغام کسی کا بھی ہو، اس کا پہلا حق یہ ہوتا ہے کہ اسے پڑھا جائے اور سمجھا جائے۔ دفتر کا خط ہے، عدالت کا سمن ہے، کاروباری فرم کا لیٹر ہے، کسی دوست کی چٹھی ہے، حتیٰ کہ کسی دشمن کا خط ہے تب بھی اس کا پہلا حق یہ ہے کہ اسے پڑھا اور سمجھا جائے۔ ہم اس کے مفہوم کو قبول کریں یا نہ کریں یہ بعد کی بات ہے، لیکن کسی بھی پیغام کو وصول کرنے کے بعد ہم پر اس کا پہلا حق یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے سمجھیں۔ اسی طرح قرآن کریم کو پڑھنا اور اس کو سمجھنا بھی قرآن کریم کے ان حقوق میں سے ہے، جو بحیثیت مسلمان ہم پر عائد ہوتے ہیں۔

البتہ فہم قرآن کریم کے چند ضروری تقاضوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور یہ قرآن کریم کے حوالے سے کوئی الگ تقاضے نہیں ہیں، بلکہ وہی فطری تقاضے اور ضروریات ہیں جو دنیا کی کسی بھی زبان میں کسی بھی گفتگو کو سمجھنے اور اس کے صحیح مفہوم سے آگاہی کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً:

  1. کسی بھی گفتگو اور کلام کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کی زبان سے آگاہی ہو۔ بات انگلش میں ہے تو انگلش زبان کا جاننا ضروری ہے، فارسی میں ہے تو فارسی جاننا ضروری ہے، اور پشتو میں ہے تو پشتو زبان سے آگاہی کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آئے گی۔
  2. دوسرے نمبر پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ متکلم کی منشا تک رسائی ہو، کیونکہ بسا اوقات ایسا ہو جاتا ہے کہ سننے والے نے کلام کا مطلب کچھ اور سمجھا ہے، لیکن متکلم کہتا ہے کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ ایسی صورت میں جب کہ سننے والے کے فہم اور متکلم کی منشا میں فرق ہو جائے، تو متکلم کی منشا کو ہی ترجیح حاصل ہوتی ہے اور اسی کے بیان کو اس کے کلام کا صحیح مفہوم اور مصداق سمجھا جاتا ہے۔
  3. تیسرے نمبر پر یہ ضروری ہوتا ہے کہ گفتگو کے محل، موقع اور پس منظر سے آگاہی حاصل کی جائے۔ کیونکہ ایک ہی جملے کا معنیٰ ایک جگہ اور ہوتا ہے اور وہی جملہ کسی اور موقع پر دوسرے پس منظر میں بولا جائے تو اس کا معنیٰ مختلف ہو جاتا ہے۔ کسی گفتگو کو اس کے پس منظر اور بیک گراؤنڈ سے ہٹ کر دیکھا جائے تو معنیٰ مختلف ہوتا ہے، اور جب اس کے پس منظر اور بیک گراؤنڈ کو سامنے لایا جائے تو اسی جملے اور کلام کا مفہوم اور مطلب یکسر تبدیل ہو جاتا ہے۔

یہ امور قرآن کریم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ دنیا کی کسی بھی زبان میں ہونے والی گفتگو کو سمجھنے اور اس کے صحیح معنیٰ و مفہوم تک رسائی کے لیے یہ تینوں باتیں ضروری تصور کی جاتی ہیں۔ یہی تین باتیں قرآن کریم کے حوالے سے بھی ضروری ہیں اور ان کے بغیر قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کا معنیٰ و مفہوم متعین کرنے کی کوشش غلطی کا شکار ہو جاتی ہے۔ مثلاً عربی زبان کا جاننا قرآن فہمی کے لیے ضروری ہے، اس کے بغیر قرآن کریم کو براہ راست سمجھنا ممکن نہیں ہے، پھر عام عربی نہیں بلکہ وہ عربی جس میں قرآن کریم نازل ہوا۔ جس طرح کسی انگریزی اخبار کا مطالعہ کرنے کے لیے عام انگلش کافی ہے، لیکن شکسپیئر کے کلام کو سمجھنے کے لیے اس کے معیار کی انگلش سے واقف ہونا ضروری ہے، اسی طرح قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے بھی اس کے معیار کی عربی جاننا لازمی ہے۔

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کا جاننا ضروری ہے مگر صرف عربی سے واقفیت کافی نہیں ہے۔ ہمارے ہاں یہ غلط فہمی عام ہو گئی ہے کہ عربی زبان کا جان لینا ہی قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے بلکہ عربی زبان کے ساتھ ساتھ متکلم کی منشا تک رسائی اور کلام کے پس منظر اور بیک گراؤنڈ سے آگاہ ہونا بھی اسی طرح ضروری ہے، کیونکہ سامع کے فہم اور متکلم کی منشا کے درمیان اختلاف ہو جانا ایک فطری عمل امر ہے اور ایسی صورت میں متکلم کی منشا معلوم کرنا اور اس کے مطابق کلام کا معنیٰ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم کے حوالے سے اس موقع پر ایک اور نکتہ کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم میں متکلم اللہ تعالیٰ کی ذات ہے لیکن ہم تک یہ مقدس کلام اللہ تعالیٰ نے اپنے نمائندے کے ذریعے پہنچایا ہے اور وہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اور قرآن کریم کا متن اور الفاظ آپؐ کے ذریعے ہمیں ملے ہیں، اسی لیے قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کا مفہوم طے کرتے ہوئے اگر متکلم کی منشا معلوم کرنا ضروری ہو جائے تو اس کے لیے بھی متکلم کے نمائندے یعنی حضرت محمدؐ تک رسائی ضروری ہو گی۔ اور جس طرح ہم قرآن کریم کے الفاظ اور اس کا متن ہم نے آپؐ سے حاصل کیا ہے، ان الفاظ اور متن کا مفہوم سمجھنے کے لیے، متکلم کی منشا معلوم کرنے کی غرض سے بھی انہی سے رجوع کریں گے۔ اور آپؐ چونکہ اللہ تعالیٰ کے نمائندے اور رسول ہیں اور ہم ان کی اس حیثیت پر ایمان لائے ہوئے ہیں، اس لیے وہ کسی آیت کا جو مفہوم بیان کریں گے، وہ قرآن کریم کے متکلم، یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی سمجھا جائے گا۔ یہ بات میں محض رسمی طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ صحابہ کرامؓ کے دور میں متعدد بار ایسا ہوا کہ قرآن کریم کی کسی آیت یا جملے کا مفہوم طے کرنے میں الجھن پیش آئی، تو صحابہ کرامؓ نے اس میں اللہ تعالیٰ کی منشا معلوم کرنے کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کیا اور رسول اللہ نے انہیں بتایا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی منشا اور مراد کیا ہے؟ اس سلسلہ میں بہت سی آیات پیش کی جا سکتی ہیں مگر اس موقع پر وقت کے اختصار کی وجہ سے صرف ایک آیت کریمہ کا حوالہ دوں گا۔

سورۃ الانعام کی آیت ۸۲ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو خلط ملط نہ ہونے دیا، ان کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں‘‘۔

اب یہاں امن، ہدایت اور ایمان کے لیے شرط یہ قرار پائی کہ ایمان کے ساتھ ظلم کا اختلاط و التباس نہ ہو۔ اور یہ بظاہر بہت سخت شرط ہے اس لیے کہ ظلم کا عام مفہوم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ناانصافی اور زیادتی ظلم کہلاتی ہے، جو کسی نہ کسی درجے میں عام طور پر ہوتی ہی رہتی ہے اور جس سے مکمل طور پر بچنا بہت مشکل کام ہے۔ حضرات صحابہ کرامؓ نے یہاں ظلم کا مطلب یہی سمجھا اور پریشان ہو گئے، ایسے مواقع پر صحابہ کرامؓ پریشان ہو جایا کرتے تھے۔ وہ چونکہ سمجھتے تھے اس لیے ایسی کسی بات پر پریشان بھی ہوتے تھے، ہم نے سرے سے یہ قصہ ہی نمٹا دیا کہ نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی پریشان ہوتے ہیں۔ ہم نے قرآن کریم کو سمجھنا ہی چھوڑ دیا تاکہ پریشانی تک نوبت نہ آئے۔ بہرحال صحابہ کرامؓ پریشان ہو گئے، آپس میں مشورہ کیا اور پھر جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی پریشانی ان کے سامنے رکھ دی۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ گزارش کی کہ ’’و اینا لم یظلم یا رسول اللہ‘‘ یا رسول اللہ! ہم میں سے کون ہے جس سے ظلم و زیادتی کا تھوڑا بہت ارتکاب نہیں ہوتا؟ اور اگر امن اور ہدایت کے لیے ایمان کا ظلم سے بالکل خالی ہونا ضروری ہے تو یہ شرط پورا کرنا کس کے بس کی بات ہے؟ جناب نبی اکرمؐ نے یہ بات سن کر فرمایا کہ تمہاری پریشانی بجا ہے مگر اس آیت میں ’’ظلم‘‘ کے لفظ سے اللہ تعالیٰ کی مراد وہ نہیں ہے جو تم سمجھتے ہو، بلکہ یہاں اللہ تعالیٰ کی مراد وہ ہے جو حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، اس لیے کہ ‘‘شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘۔ اب آیت کریمہ کا معنیٰ یوں ہوا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ شرک کو خلط ملط نہ ہونے دیا، ان کے لیے امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔ یہ سن کر صحابہ کرامؓ کی پریشانی دور ہو گئی۔ اس آیت کریمہ میں ظلم کا جو معنیٰ سننے والوں نے سمجھا تھا، وہ متکلم کی منشا کے خلاف تھا اور متکلم کی منشا کی وضاحت کے لیے متکلم کے نمائندے جناب نبی اکرمؐ سے رجوع کیا اور ان کی وضاحت کے ساتھ آیت کریمہ کا مفہوم و معنیٰ طے ہوا۔ اس لیے قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے عربی جاننے کے بعد جناب نبی اکرمؐ کی سنت و حدیث سے واقفیت بھی ضروری ہے اور مختلف آیات کریمہ کی انہوں نے جو تشریح و توضیح فرمائی ہے، اس سے آگاہی لازمی ہے، کیونکہ ان کی وضاحت کو متکلم کی منشا کی تشریح کا درجہ حاصل ہے اور اس کی موجودگی میں صرف سامعین کے فہم کو معیار قرار دے کر قرآن کریم کی کسی آیت کی صحیح تشریح نہیں کی جا سکتی۔

اسی طرح قرآن کریم کی کسی آیت کے صحیح مفہوم تک رسائی کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس موقع پر نازل ہوئی تھی اور اس کا پس منظر کیا ہے؟ کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی آیات ایسی ہیں کہ ان کا ظاہری مفہوم مختلف ہوتا ہے، لیکن جب انہیں ان کے پس منظر اور شان نزول کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے تو مفہوم بدل جاتا ہے۔ اس پر بھی بہت سی آیات قرآنیہ پیش کی جا سکتی ہیں، جن میں سے ایک آیت کریمہ پیش کرنا چاہوں گا۔

سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۱۵۸ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’’صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں، پس جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کے درمیان بھی چکر لگائے‘‘۔

یہاں ’’فلا جناح علیہ ان یطوف بھما‘‘ (پس کوئی حرج نہیں کہ وہ ان ان کے درمیان چکر لگائے) کے جملے سے بظاہر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حج اور عمرے میں صفا اور مروہ کی سعی ضروری امر نہیں ہے، حالانکہ فقہائے امت اس بات پر متفق ہیں کہ صفا اور مروہ کی سعی حج اور عمرہ دونوں میں ضروری ہے اور اس کے بغیر نہ حج مکمل ہوتا ہے اور نہ ہی عمرہ کی تکمیل ہوتی ہے۔

بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہؓ کے بھانجے اور شاگرد حضرت عروہ بن زبیرؓ نے یہ اشکال حضرت عائشہؓ کے سامنے پیش کیا تو حضرت ام المومنینؓ نے اس آیت کریمہ کی شان نزول بیان کی جس سے بات واضح ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے دور میں جو لوگ حج یا عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ آتے تھے وہ بیت اللہ کا طواف تو سب ہی کرتے تھے، مگر صفا و مروہ کی سعی سب نہیں کرتے تھے۔ قریش اور ان کے حلیف قبائل صفا و مروہ کی سعی کرتے تھے، جبکہ مدینہ منورہ کے قبائل اوس اور خزرج اور بعض دوسرے قبائل صفا و مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے۔ ان کا موقف غالباً یہ تھا کہ یہ سعی حضرت ہاجرہؓ کی یاد ہے جو قریش کی ماں تھیں، اس لیے یہ ان کے لیے ضروری نہیں ہے۔ وہ اس کی بجائے مناۃ نامی بت کی نیت کرتے تھے جو قدید کے مقام پر تھا اور صفا و مروہ کی سعی کو اپنے لیے درست نہ سمجھتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد مناۃ کو نبی اکرمؐ نے ختم کرا دیا تو انصار مدینہ یعنی اوس اور خزرج نے جناب نبی اکرمؐ سے دریافت کیا کہ اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں (یعنی صرف قریش کے ساتھ مخصوص نہیں ہے) اس لیے جو بھی حج یا عمرہ کے لیے آئے وہ صفا و مروہ کی سعی میں کوئی حرج محسوس نہ کرے۔

بخاری شریف کی ایک اور روایت کے مطابق حضرت انس بن مالکؓ نے بھی یہی وضاحت فرمائی جو انصار مدینہ میں سے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم صفا و مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور اسے جاہلیت کی رسوم میں شمار کیا کرتے تھے، چنانچہ ہماری اس غلط فہمی کو قرآن کریم کی اس آیت کریمہ میں دور کیا گیا ہے۔

قرآن کریم کی اس آیت کا ظاہری معنی مختلف ہے لیکن حضرت عائشہؓ اور حضرت انسؓ نے اس کا پس منظر بیان کیا تو اس کا معنیٰ اس سے بالکل مختلف ہو گیا، اور امت نے اسی معنیٰ کو قبول کیا جو اس پس منظر اور بیک گراؤنڈ میں تعین کیا جاتا ہے۔ آج کی اصطلاح میں اسے پس منظر اور بیک گراؤنڈ کہا جاتا ہے، جب کہ شرعی اصطلاح میں اسے ’’شان نزول‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ شان نزول کوئی نہ کوئی صحابی رسول ہی بیان کرے گا۔ کسی آیت کا شان نزول حضرت عائشہؓ بیان کریں گی، تو کسی کا حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان کریں گے، کسی کا حضرت انس بن مالکؓ بیان کریں گے، کسی آیت کا پس منظر حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کریں گے، اور کسی کا کوئی اور صحابیؓ بیان فرمائیں گے۔

اس حوالے سے اپنی گفتگو کا خلاصہ پھر عرض کر دیتا ہوں کہ قرآن فہمی اور قرآن کریم کی کسی آیت کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے جہاں عربی زبان کا اس کے معیار کے مطابق جاننا ضروری ہے وہاں دو باتیں اور بھی لازمی ہیں۔ ایک یہ کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و حدیث کا علم حاصل کیا جائے، کیونکہ قرآن کریم کے متکلم یعنی اللہ تعالیٰ کی منشا اور مراد کا علم ہمیں جناب نبی اکرمؐ سے ہی حاصل ہو گا، اور دوسری یہ کہ حضرات صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کی تفسیر و تشریح میں جو کچھ فرمایا ہے اس پر ہماری نظر ہو، کیونکہ کسی بھی آیت کریمہ کا پس منظر اور شان نزول معلوم کرنے کے لیے ہمیں صحابہ کرامؓ سے رجوع کرنا ہو گا۔ اور وہی کسی آیت کا بیک گراؤنڈ بیان کریں گے، اس لیے کہ قرآن کریم کے نزول کے عینی گواہ وہی ہیں اور انہی کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کا صحیح فہم نصیب کریں اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق بھی عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: