قانون کی یکساں عملداری اور اسوۂ نبویؐ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ نومبر ۲۰۱۹ء

۵ ستمبر کو ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کی سالانہ محفل میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سیالکوٹ جناب طارق جاوید مہمان خصوصی تھے، جبکہ اس موقع پر ڈسکہ بار کی طرف سے ایک جج اور دو وکیل صاحبان کو قرعہ اندازی کے ذریعے عمرہ کے تین ٹکٹ دیے گئے۔ یہ خوش نصیب جج سردار کمال الدین، طاہر رؤف ایڈووکیٹ اور عامر مختار بٹ ایڈووکیٹ ہیں، اللہ تعالٰی سب کو قبولیت و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ اس موقع پر میری گزارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ڈسکہ بار ایسوسی ایشن کا شکر گزار ہوں کہ اس کی دعوت پر وقتاً فوقتاً اس طرز کی بابرکت محافل میں شرکت کا موقع ملتا رہتا ہے، اللہ تعالٰی جزائے خیر سے نوازیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہمارے لیے برکت و رحمت کا باعث ہے، اجر و ثواب کا موجب ہے، اللہ تعالٰی کی رضا کا ذریعہ ہے اور زندگی کے ہر معاملہ میں راہنمائی کا سرچشمہ بھی ہے۔ مگر میرے خیال میں آج کے دور میں اس کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس سے ہماری نسبت و تعلق کا اظہار ہوتا ہے اور ہماری شناخت ہو جاتی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی جناب نبی اکرمؐ کا نام مبارک عقیدت و محبت کے ساتھ زبان پر لائیں تو اپنے بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی اور تعارف ہو جاتا ہے کہ انسانی برادری میں ہم کس کیمپ سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس سلسلہ میں ایک ذاتی واقعہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آٹھ دس سال قبل امریکہ کے ایک سفر کے دوران نیویارک کے جے ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر امیگریشن کے لیے ایک سیاہ فام امریکی آفیسر سے سابقہ پیش آیا۔ میں کاؤنٹر کے سامنے ہوا تو اس نے میرا پاسپورٹ مجھ سے لیا اور اس پر میرا نام پڑھ کر قدرے طنزیہ لہجے میں بولا ’’محماڈ‘‘ اور پھر بولا ’’کھان‘‘۔ اور پھر مجھے لائن سے الگ کر کے تفتیشی کمرے میں لے جایا گیا جہاں کم و بیش چار پانچ گھنٹے کی تفتیش کے بعد پاسپورٹ پر انٹری کی مہر ثبت کی گئی۔ مگر میں اس ساری کلفت کو یہ دیکھ کر بھول گیا کہ میری شناخت کن دو لفظوں (محمد اور خان) کے ساتھ ہوئی ہے جن کے بعد مجھ سے کوئی مزید سوال پوچھے بغیر اس قطار سے الگ کر لیا گیا۔ اب بھی یہ واقعہ یاد آتا ہے تو ذہن سرشاری کی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی ہماری شناخت اور تعارف کا سب سے بڑا عنوان ہے، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔

مگر میں اس وقت بار ایسوسی ایشن کی کانفرنس میں جناب رسول اکرمؐ کا تذکرہ کر رہا ہوں اور محترم سیشن جج صاحب بھی تشریف فرما ہیں اس لیے اس ماحول کی مناسبت سے آنحضرتؐ کی حیات طیبہ کے دو واقعات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آج ہم قانون کی عملداری اور مساوات کی جو بات کرتے ہیں اس سلسلہ میں ہمیں نبی کریمؐ کے اسوۂ حسنہ سے کیا راہنمائی ملتی ہے؟

ایک واقعہ کا تذکرہ قرآن کریم کی سورۃ النساء (آیت ۱۰۵ تا ۱۱۰) میں ہے کہ مدینہ منورہ کے کسی محلہ میں چوری ہوگئی، اس محلہ میں ایک یہودی رہتا تھا، کچھ لوگوں نے وہ چوری اس پر ڈال دی اور اس قدر ماحول بنا دیا کہ نبی کریمؐ کے سامنے قسمیں اٹھا اٹھا کر اسے چور ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جس پر اللہ رب العزت نے سورۃ النساء کی یہ آیات نازل کر کے اس یہودی کی صفائی دی کہ چوری اس نے نہیں کی بلکہ اس پر خوامخواہ ڈالی جا رہی ہے اور ایسا کرنے والوں کو ڈانٹتے ہوئے آنحضرتؐ سے فرمایا کہ اگر ہماری رحمت و فضل وحی کی صورت میں نہ ہوتے تو ان لوگوں نے آپ کو اپنی پلاننگ کا شکار بنانے کا پورا بندوبست کر لیا تھا۔ یہ واقعہ بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں کس طرح مقدمات میں ایک دوسرے کو خواہ مخواہ پھنسا دینے کا ماحول بن گیا ہے اور ہمیں اس دلدل سے نکلنے کے لیے کیا کرنا ہے؟

دوسرا واقعہ بخاری شریف میں مذکور ہے اور بہت معروف ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت فاطمہ نے چوری کی جو ثابت ہو گئی اور حضورؐ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرما دیا۔ اس پر آپؐ کے قریبی ساتھی اسامہ بن زیدؓ کو سفارشی بنایا گیا تو نبی آخر الزمانؐ نے انہیں ڈانٹتے ہوئے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’اگر میری بیٹی فاطمہ چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا‘‘۔ پھر مسجد میں تشریف لے جا کر آپؐ نے اس پر مستقل خطاب فرمایا کہ اللہ تعالٰی کے قوانین کے نفاذ کے بارے میں سفارشیں مت کیا کرو، تم سے پہلے قوموں کی بربادی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ غریب لوگوں کو جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دے دی جاتی تھی مگر وی آئی پی لوگوں کو اس سزا سے بچا لیا جاتا تھا۔

آج ہمارے معاشرہ میں یہ دونوں باتیں کہ (۱) مقدمات میں بے گناہ لوگوں کو خواہ مخواہ پھنسانے کا عمومی رویہ (۲) اور با اثر لوگوں کا قانون کی گرفت سے بچ نکلنا ہمارا معاشرتی مزاج بن گیا ہے، جس کی اصلاح کی ضرورت ہے اور آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اس معاملہ میں ہماری بھرپور راہنمائی کرتی ہے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اس کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: