کیا سزائے موت کا قانون ختم کیا جا رہا ہے؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۲۰۱۹ء

روزنامہ جنگ لاہور میں ۲۱ جون ۲۰۱۹ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیے:

’’کراچی (ٹی وی رپورٹ) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سزائے موت کا قانون برطانیہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدوں میں ایک رکاوٹ ہے، حکومت پاکستان نے تعزیرات پاکستان میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے، اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرون ملک پاکستانیوں کی ہر صورت حوالگی چاہتا ہے تاکہ پاکستانی قانون کے مطابق ان کے خلاف مقدمات چلائے جائیں تاہم برطانیہ اور یورپ پاکستان میں سزائے موت کے قانون کی وجہ سے ایسا کوئی معاہدہ کرنے سے گریزاں ہیں، شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم بیرون ملک ملزمان کی وطن واپسی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے فیصلے کرنے پڑیں گے۔‘‘

پاکستان میں سزائے موت کے خاتمہ کا مطالبہ ایک عرصہ سے کیا جا رہا ہے اور یہ اس بین الاقوامی ایجنڈے کا حصہ ہے جو پاکستان میں نافذ بہت سے ایسے قوانین کو ختم کرنے کے لیے مسلسل دباؤ کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے جو قرآن و سنت کے قوانین ہیں اور جن کے نفاذ و تحفظ کی دستور پاکستان نے گارنٹی دے رکھی ہے۔ اس کا تعلق صرف ملزمان کی حوالگی کے معاملہ سے نہیں بلکہ مجموعی قانونی نظام سے ہے کہ کسی بھی جرم میں کسی مجرم کو سزائے موت نہ دی جائے اور ایسے تمام قوانین ختم کر دیے جائیں جن میں کسی جرم کی سزا موت بیان کی گئی ہے۔

اس سلسلہ میں دو سال قبل کی ایک خبر پر بھی نظر ڈال لی جائے جو روزنامہ انصاف لاہور نے ۲۹ جولائی ۲۰۱۷ء کو شائع کی تھی:

’’اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے پاکستان کو قصاص و دیت اور ۱۸ سال سے کم عمر کے افراد کو پھانسی دینے کے قوانین کے خاتمے کی سفارشات پیش کی ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں ماہ جنیوا میں ہونے والے سول و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے سے متعلق اجلاس کے بعد اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جمعرات کو پاکستان کے عزائم کا جائزہ لینے کے بعد حتمی سفارشات پیش کی تھیں، ۵۱ نکات پر مبنی یو این پینل کی رپورٹ میں پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو تمام ضروری اقدامات مکمل اور مؤثر طور پر اٹھانے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں قصاص و دیت ۱۸ سال سے کم عمر افراد کو پھانسی دینے کے قوانین پر پابندی کے علاوہ پاکستان میں رسول اللہؐ و صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کے قانون کو بے گناہوں پر استعمال کر نے کے خلاف بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے ۱۹ جون ۲۰۱۴ء کے فیصلے کی روشنی میں اس پر عملدرآمد کرایا جائے، ان قوانین سے متعلقہ قوانین کو مضبوط کرنے کے عمل کو تیز کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ رپورٹ میں زبردستی اغوا اور قتل کے الزامات کی تحقیقات کو شفاف بنانے اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کا بھی کہا گیا ہے جبکہ مذہبی آزادی اور پناہ گزینوں کے لیے مؤثر قوانین بنانے کی سفارشات بھی رپورٹ میں کی گئی ہیں۔‘‘

اس قسم کی بیسیوں رپورٹس آپ کو گزشتہ دس سال کے دوران بین الاقوامی اور قومی پریس کے ریکارڈ میں موجود ملیں گی جو اس بات کو واضح کر رہی ہیں کہ بات صرف ملزمان کی حوالگی کے معاہدہ کی نہیں بلکہ مجموعی قانونی نظام کی ہے جس کا پاکستان سے مطالبہ کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے مختلف حوالوں سے دباؤ مسلسل بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ اپنے قوانین میں سے قصاص، دیت، حدود شرعیہ، تحفظ ناموس رسالتؐ اور دیگر ایسے تمام ضابطوں کو ختم کر دے، جو مبینہ طور پر بین الاقوامی معاہدات یا قوانین سے متصادم ہیں۔ جبکہ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہم حدود آرڈیننس اور خاندانی نظام کے دائروں میں بہت سے قوانین میں ایسی ترامیم کر چکے ہیں اور کرتے جا رہے ہیں جن کا مقصد ملکی قوانین کو بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ہم آہنگ کرنا بتایا جاتا ہے، جبکہ وہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ دستور پاکستان کی تصریحات کے بھی علی الرغم ہیں۔

ہم ان سطور میں متعدد بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ وہ بین الاقوامی معاہدات جنہیں عالمی قوانین کی حیثیت سے متعارف کرایا جاتا ہے ان کا مختلف دائروں میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے:

  • یہ معاہدات کس پس منظر میں ہوئے تھے اور ان میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حضرات پاکستانی قوم کے عقیدہ و ثقافت اور دستور و قانون کی پاسداری کا اہتمام کیوں نہیں کر سکے؟
  • معروضی صورتحال میں یہ بین الاقوامی معاہدات اور پاکستان میں رائج قوانین کہاں کہاں باہم متصادم ہیں اور ان کے درمیان پائے جانے والے تضادات کی سطح اور نوعیت کیا ہے؟
  • اس حوالہ سے پاکستان کی قومی پالیسی کیا ہے اور اس سے دنیا کو آگاہ کرنے اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے اس سلسلہ میں مذاکرات کرنے کے لیے کیا کوئی پالیسی اور طریقِ کار طے کیا گیا ہے؟
  • پاکستان کے تعلیمی ادارے بالخصوص قومی یونیورسٹیاں اور دینی مدارس و مراکز اپنے تعلیمی ماحول میں اس صورتحال کا ادراک و شعور پیدا کرنے کے لیے کیا کر رہی ہیں؟
  • کیا اس سلسلہ میں دینی اداروں، جماعتوں، جامعات اور حلقوں کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے؟ اور اگر ان کا کوئی کردار بنتا ہے تو وہ اس کے لیے کیا کر رہے ہیں؟