قرآن کریم اور رمضان المبارک کی برکات

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ اکتوبر ۲۰۰۶ء

اس سال رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور دیگر درجنوں دینی مراکز میں تراویح میں ختم قرآن کریم کے حوالے سے منعقد ہونے والی تقریبات میں گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا، ان کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جا رہا ہے۔

رمضان المبارک کا تعارف اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں قرآن ہی کے حوالے سے کرایا ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم اتارا گیا، اس لیے قرآن کریم اور رمضان المبارک آپس میں لازم ملزوم ہیں اور ان کا یہ جوڑ اس قدر مضبوط ہے کہ نہ صرف یہ کہ رمضان المبارک میں قرآن کریم اتارا گیا بلکہ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی یہ مقدس کتاب پڑھی بھی سب سے زیادہ جاتی ہے۔ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں قرآن کریم اتنا پڑھا اور سنا نہیں جاتا جتنا اس ماہ مبارک میں پڑھا اور سنا جاتا ہے۔ آپ تراویح کے حوالے سے دیکھ لیں کہ تراویح میں روزانہ بیک وقت کتنی جگہوں پر قرآن کریم پڑھا اور سنا جاتا ہے اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ تراویح کا وقت ساری دنیا میں ایک نہیں ہے۔ ہم جب سحری کھا رہے ہوتے ہیں اس وقت بھی دنیا میں کسی جگہ تراویح کا وقت ہوتا ہے، جب ہم صبح آرام سے فارغ ہو کر دفتر، دکان اور کام پر جا رہے ہوتے ہیں تب بھی کہیں تراویح ہو رہی ہوتی ہیں، اور جس وقت ہم روزہ افطار کرتے ہیں اس وقت بھی دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں ہزاروں مسلمان تراویح پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ گویا رمضان المبارک کے دوران شب و روز میں کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں تراویح ادا نہ کی جا رہی ہوں اور ہزاروں کی تعداد میں مسلمان نماز کی حالت میں کھڑے قرآن کریم نہ سن رہے ہوں۔

یہ قرآن کریم کا وہ اعجاز ہے جس کا ہم کھلی آنکھوں سے آج کے دور میں مشاہدہ کر رہے ہیں، بلکہ خود بھی اس میں شریک اور حصہ دار ہیں۔ ہمارا موجودہ دور تنزل کا دور ہے، ادبار کا دور ہے اور انحطاط کا دور ہے، لیکن معروضی صورتحال یہ ہے کہ زندگی کے باقی تمام شعبوں میں ہم سمٹ رہے ہیں، سکڑ رہے ہیں اور سہمے ہوئے ہیں، مگر قرآن کریم کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور اس کی وسعتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دنیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جس میں قرآن کریم کے مدارس نہ ہوں، ہزاروں بچے جس میں حافظ قرآن نہ بن رہے ہوں اور مختلف عنوانات سے قرآن کریم پڑھنے اور سننے کا عمل جاری نہ ہو۔

میں اس سلسلہ میں اپنے ایک ذاتی مشاہدے اور تاثر کا تذکرہ کرنا چاہوں گا کہ گزشتہ سال رمضان المبارک کا ابتدائی عشرہ میں نے امریکہ میں گزارا اور پہلی شب کی تراویح بالٹیمور (ریاست میری لینڈ) کی مسجد رحمت میں پڑھیں۔ پاکستان ہی سے تعلق رکھنے والے ایک قاری صاحب نے، جو میرے ہمنام ہیں، ڈیڑھ پارہ پڑھا، سینکڑوں مرد اور ان کے ساتھ سینکڑوں عورتیں ملحقہ ہال میں نماز تراویح ادا کر رہی تھیں۔ میں قاری زاہد صاحب کی اقتدا میں تراویح پڑھ رہا تھا کہ میرا ذہن اچانک اس سوال کی طرف گھوم گیا کہ امریکہ میں اس وقت نماز تراویح میں قرآن کریم سنانے والے حفاظ و قراء کی تعداد کیا ہو گی؟ میں چونکہ امریکہ بہت مرتبہ گیا ہوں اور اس کے متعدد شہروں میں گھوما پھرا ہوں، اس لیے اپنے اندازے سے سوال کا جواب یہ سوچا کہ امریکہ کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو تراویح میں قرآن کریم سنانے والے حافظوں اور قاریوں کی تعداد یقیناً ہزاروں میں ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی دوسرا سوال ذہن میں آگیا کہ امریکہ کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب ایک فیصد اور دو فیصد کے درمیان بتایا جاتا ہے، جبکہ عیسائیوں کی آبادی پچانوے فیصد سے کسی طرح کم نہیں ہوگی اور امریکہ کے عیسائی یورپ کے عیسائیوں کی طرح لامذہب نہیں ہیں بلکہ مذہب اور اس کی عبادات و اقدار کے ساتھ لگاؤ رکھتے ہیں، لیکن کیا پچانوے فیصد آبادی رکھنے والے مسیحیوں کو ڈیڑھ فیصد آبادی رکھنے والے مسلمانوں کے ہزاروں حفاظ قرآن کریم کے مقابلے میں اپنی مذہبی کتاب کا ایک بھی ایسا حافظ مل جائے گا جو اسی طرح آگے کھڑا ہو کر بائبل کی کوئی کتاب زبانی پڑھ دے، جس طرح روانی اور تسلسل کے ساتھ حفاظ قرآن کریم سناتے ہیں؟ کافی سوچ و بچار کے بعد بھی مجھے اس سوال کا جواب اثبات میں نہ ملا۔

یہ قرآن کریم کے اعجاز کا وہ سدا بہار پہلو ہے جس کا ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ پہلو ایسا ہے جس کے ساتھ مسلمان کا تعلق آج بھی قائم ہے، بلکہ یہ عرض کیا جائے تو مناسب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا تعلق قرآن کریم کے ساتھ ایک بار پھر تازہ کر دیتے ہیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر رمضان المبارک میں تراویح اور قیام اللیل کا یہ مربوط نظام نہ ہوتا اور ہر طرف قرآن کی قراءت اور سماع کی گہماگہمی نہ ہوتی تو کیا ہمارا قرآن کریم کے ساتھ یہ جوڑ باقی رہتا جو آج سب کو نظر آرہا اور دنیا بھر اسلام دشمن قوتوں کے لیے اضطراب اور بے چینی کا باعث بنا ہوا ہے؟ بلکہ قرآن کریم کے حفاظ اور قراء کرام، جو یقیناً دنیا میں ایک کروڑ کے لگ بھگ ضرور ہوں گے، کیا تراویح، شبینہ اور قیام اللیل کے اس سسٹم کے بغیر قرآن کریم حفظ کر لینے کے بعد اسے زندگی بھر یاد رکھنے میں کامیاب ہو پاتے؟

رمضان المبارک کی برکات میں سے صرف اس ایک برکت کی وسعت اور تنوع پر غور کر لیا جائے تو ایمان تازہ ہو جاتا ہے کہ اس کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کا تعلق قرآن کریم کے ساتھ قائم ہے اور ہر سال اس کی تجدید ہوجاتی ہے۔ بلکہ اس صورتحال کی یہ تعبیر بھی نامناسب نہیں ہوگی کہ ہماری سال بھر کی غفلتوں، بے پروائیوں اور کوتاہیوں کے بعد اللہ تعالیٰ رمضان المبارک میں ہمیں پھر سے قرآن کریم کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں اور ہماری بیٹریاں اپنی اپنی گنجائش کے مطابق چارج ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم کے ساتھ ہم جس قدر عقیدت کا اظہار کریں کم ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے لیے ہدایت اور رہنمائی کا سرچشمہ تو ہے ہی، ہماری وحدت اور ہم آہنگی کا بھی سب بڑا ذریعہ ہے، لیکن میں اس سے ہٹ کر ایک اور پہلو سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم تو قرآن کریم کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں اور مختلف حوالوں سے اپنے تعلق اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ خود قرآن کریم ہمارے بارے میں کیا کہتا ہے اور وہ ہمیں کس نظر سے دیکھتا ہے؟ اس سلسلہ میں سورۃ الفاطر کی آیت نمبر ۲۳ آپ کے سامنے تلاوت کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے دو باتیں فرمائی ہیں:

  • ایک یہ کہ جن لوگوں کو ہم نے قرآن کریم کا وارث بنایا ہے ان کا انتخاب ہم نے خود کیا ہے،
  • اور دوسری بات یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کریم کے وارث ہیں وہ تینوں درجوں پر ہیں۔ ایک طبقہ ان میں ظالم ہے، دوسرا مقتصد ہے اور تیسرا سابق بالخیرات ہے۔

قرآن کریم کے وارث کون ہیں؟ اس سلسلہ میں مفسرین کرام دو باتیں فرماتے ہیں اور دونوں اپنے اپنے درجے میں درست ہیں:

  1. ایک یہ کہ پوری امت بحیثیت امت قرآن کریم کی وارث ہے، اور اس میں شبہ کی کوئی بات نہیں کہ اقوام عالم کے تناظر میں دیکھا جائے تو امت محمدیہ ہی قرآن کریم کی وارث کہلائے گی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قرآن کریم کے وارث وہ لوگ ہیں جن کا قرآن کریم کے ساتھ کوئی نہ کوئی عملی تعلق ہے، پڑھتے ہیں، پڑھاتے ہیں، تعلیم دیتے ہیں، اس کی تنفیذ کرتے ہیں اور کسی بھی حوالے سے اللہ تعالیٰ کی اس آخری کتاب کی خدمت کرتے ہیں۔ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے اور یہ دونوں طبقے اپنی اپنی جگہ وارث ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کا انتخاب میں نے خود کیا ہے۔ امتی ہونے کے حوالے سے دیکھ لیجئے کہ ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں اور اس وجہ سے قرآن کریم کے وارثوں میں شامل ہیں، لیکن امتی ہونے میں ہماری کسی خواہش اور چوائس کا دخل نہیں ہے، یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے کہ اس نے ہمیں مسلمان گھرانوں میں پیدا کیا اور ہم جناب نبی اکرمؐ کی امت میں شمار ہوگئے ہیں، ورنہ وہ ہمیں کسی سکھ، ہندو، عیسائی یا مجوسی کے گھرانے میں بھی پیدا کر سکتا تھا۔
  2. دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے وارث تین حصوں میں تقسیم ہیں۔ ایک حصے کو ظالم کہا گیا ہے۔ دوسرے کو مقتصد کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے اور تیسرے حصے کو سابق بالخیرات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان تینوں تعبیرات سے کیا مراد ہے؟ اس پر مفسرین کرامؒ نے بہت سے نکات بیان فرمائے ہیں، جن میں سے امام فخر الدین رازیؒ کے بیان کردہ دو تین تفسیری نکات کا ذکر کروں گا جو انہوں نے ’’تفسیر کبیر‘‘ میں ذکر فرمائے ہیں:
    • ظالم سے مراد وہ ہیں جو قرآن کریم نہیں پڑھتے، مقتصد سے مراد وہ ہیں جو پڑھتے تو ہیں عمل نہیں کرتے، اور سابق سے مراد وہ لوگ ہیں جو پڑھتے بھی ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں۔
    • ظالم سے مراد وہ ہیں جو قرآن کریم کے پڑھنے اور سمجھنے سے بے پروا ہیں، مقتصد سے مراد وہ ہیں جو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، اور سابق وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم کا علم اور فہم رکھتے ہیں۔
    • ظالم سے مراد وہ ہیں جو پڑھتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، مقتصد سے مراد وہ ہیں جو پڑھتے بھی ہیں اور عمل بھی کرتے ہیں، جبکہ سابق سے مراد وہ لوگ ہیں جو خود بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔
    • ظالم سے مراد وہ ہیں کہ جن کے روزمرہ معمولات میں گناہ غالب ہوتے ہیں، مقتصد سے مراد وہ ہیں جن کی نیکیاں اور گناہ یکساں اور برابر رہتے ہیں، جبکہ سابق سے مراد وہ حضرات ہیں جن کی زندگی کے اعمال میں نیکیاں گناہوں پر غالب ہوتی ہیں۔

    یہ ساری تعبیرات ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں، صرف اظہار کے پہلوؤں کا فرق ہے ورنہ سب کا نتیجہ اور ثمر ایک ہی ہے۔ اور میں اس آیت کریمہ کے حوالے سے اپنے آپ کو، آپ سب حضرات کو اس بات پر غور و فکر کی دعوت دینا چاہوں گا کہ یہ وہ درجہ بندی ہے جو خود قرآن کریم نے ہمارے بارے میں کی ہے اور ہمیں مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، جس کو دیکھ کر ہم میں سے ہر شخص کو اپنے بارے میں جائزہ لینا چاہیے کہ اس کا شمار کس درجے میں ہوتا ہے اور وہ کس کیٹیگری میں شامل ہے؟

قرآن کریم کے ساتھ تعلق کے بارے میں اس پہلو پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ رمضان المبارک اب ہم سے رخصت ہو چکا ہے، اس دوران قرآن کریم کی تلاوت و سماع اور نیکی کے دیگر مختلف اعمال کے ساتھ ہمارے تعلق میں جو تجدید اور تازگی آئی ہے اسے صرف اس ماہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ رمضان المبارک کے بعد بھی اس کا تسلسل قائم رہے۔

درجہ بندی: