وکلاء اور علماء کے مابین ایک ملاقات کا احوال

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
نا معلوم
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۸ء

وکلاء کی تحریک کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور جج صاحبان کی بحالی کے لیے نئی حکومت جن عزائم کا اظہار کر رہی ہے، پوری قوم کو ان میں پیشرفت کا بے چینی کے ساتھ انتظار ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی رہائش گاہ زبردستی خالی کرانے کی بھونڈی حرکت نے جہاں نومنتخب وزیر اعظم کو جسٹس خلیل الرحمن رمدے سے معذرت کرنے پر مجبور کیا ہے، وہاں وکلاء کی تحریک کے لیے بھی مہمیز کا کام دیا ہے اور ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پھیلتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس محترم جناب افتخار محمد چودھری کے اس بیان نے ان کی عزت و وقار میں مزید اضافہ کیا ہے کہ وہ اور ان کے ساتھی اگرچہ معزول نہیں بلکہ اب بھی جج کے منصب پر فائز ہیں اور وہ اس حیثیت میں عدالت عظمیٰ اور عدالت ہائے عالیہ کی کرسیوں پر جا کر بیٹھ سکتے ہیں، لیکن وہ پارلیمنٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ اس میں نہ صرف پارلیمنٹ کے ارکان اور حکومتی اتحاد کے قائدین کے لیے ذمہ داری کا صحیح طور پر احساس کرنے کا پیغام موجود ہے بلکہ اصل مقتدر طبقات کا امتحان بھی ہے کہ جب چیف جسٹس اور دیگر معزز جج صاحبان پارلیمنٹ کے فیصلے کے انتظار کا کہہ کر پارلیمنٹ کی بالاتری کا اعلان کر رہے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ کو بھی پارلیمنٹ کی بالاتری کے سامنے سرتسلیم خم کر دینے میں اب مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور عوام کے فیصلے پر عملدرآمد کا خوش دلی سے اہتمام کرنا چاہیے۔

اس پس منظر میں گزشتہ دنوں ہماری ملاقات وکلاء تحریک کے اہم رہنما جناب جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد سے ہوئی۔ اس ملاقات کا اہتمام سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی عوامی رابطہ کمیٹی نے ۲۶ مارچ ۲۰۰۸ء کو پنجاب بار کونسل کے ہیڈ آفس میں علمائے کرام کے ساتھ ملاقات کے عنوان سے کیا اور اس میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام کے ہمراہ راقم الحروف نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر جمعیت علمائے پاکستان (نفاذ شریعت گروپ) کے انجینئر سلیم اللہ خان نے جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام کیا جس میں وکلاء اور علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد شریک ہوئی۔

ہماری معلومات کے مطابق دستور کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی اور معزز جج صاحبان کی بحالی کے لیے وکلاء کی تحریک شروع ہونے کے بعد وکلاء اور علماء کے درمیان یہ پہلا رابطہ تھا جو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی تحریک پر ہوا اور جس میں باہمی گلے شکوؤں کے ساتھ ساتھ تحریک کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار اور اسے مؤثر طور پر آگے بڑھانے کے لیے باہمی تبادلہ خیالات ہوا۔ دینی جماعتوں کی طرف سے اس گفتگو میں محترم ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا امیر حمزہ، انجینئر سلیم اللہ خان، مولانا سیف الدین سیف، مولانا امجد خان اور راقم الحروف نے حصہ لیا۔ جبکہ وکلاء کی طرف سے جناب حامد خان اور جناب ضیاء اللہ خان ایڈووکیٹ گفتگو میں شریک ہوئے اور دیگر شرکاء میں مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا عبد الحق خان بشیر، مولانا قاری جمیل الرحمن اختر اور دیگر دینی رہنما بھی تھے۔

ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے اپنی گفتگو میں کہا کہ وہ قوم میں بے حسی کی اجتماعی کیفیت دیکھتے ہوئے چند برس قبل مایوسی کا شکار ہو رہے تھے مگر وکلاء کی تحریک نے قوم کے مستقبل کے بارے میں ان کی مایوسی کو امید میں بدل دیا ہے اور وہ اسے اسلام کے معجزہ سے کم نہیں سمجھتے۔ انہوں نے وکلاء کو یاد دلایا کہ پاکستان کی بنیاد اسلام پر اور اسلام کے عملی نفاذ پر ہے، اس لیے اسے اپنی تحریک میں سب سے اہم نکتہ کے طور پر اجاگر کرنا ہوگا، ورنہ وہ ملک کو بہتر مستقبل کی طرف نہیں لے جا سکیں گے۔

راقم الحروف نے عرض کیا کہ علماء اور وکلاء کے درمیان اس رابطے کا اہتمام بہت دیر سے کیا گیا ہے، یہ بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ ہم شروع سے اس تحریک کی حمایت کر رہے ہیں اور اس سے مستقبل کی اچھی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہیں۔ ہم اس تحریک کے بعض پہلوؤں کے بارے میں تحفظات کے باوجود دستور کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی بالاتری اور معزز جج صاحبان کی بحالی کے لیے اس تحریک کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور ہمارے تحفظات میں سب سے بڑی بات وہی ہے جس کی طرف ڈاکٹر اسرار احمد نے اشارہ کیا ہے کہ وکلاء کی اس تحریک میں اسلام کا نکتہ نمایاں نظر نہیں آرہا۔

مولانا امیر حمزہ اور دیگر رہنماؤں نے بھی اپنی گفتگو میں اس امر کی طرف توجہ دلائی اور تحریک کی حمایت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں دستور کی بالادستی اور اسلام کے نفاذ کے لیے وکلاء کے ساتھ ہیں، وہ چیف جسٹس سمیت تمام ججوں کی جلد از جلد بحالی چاہتے ہیں اور اس تحریک کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔

وکلاء تحریک کے اہم رہنماؤں اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جناب حامد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم دراصل قومی خود مختاری اور ملک کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارے مقتدر طبقات نے جمہوریت اور دستور کی خلاف ورزی اور امریکی ہدایات کے مطابق ملک کا نظام چلانے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے، ہم اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم دستور کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو اس میں اسلام موجود ہے، بلکہ دستور کی بنیاد ہی اسلام پر ہے اور اس میں وہ تمام دفعات موجود ہیں جو ملک کی نظریاتی حیثیت متعین کرتی ہیں اور ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی ضمانت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دستور میں جنرل پرویز مشرف کی طرف سے کی گئی خرافات کو نکال کر باقی سارے دستور کی بات کرتے ہیں، اس میں اسلام کی بالادستی بھی ہے اور جمہوری عمل کی بحالی بھی ہے۔ اس لیے دینی حلقوں کو دستور کی بالادستی کی اس تحریک کا کھل کر ساتھ دینا چاہیے، دستور کی بالادستی قائم ہوگی تو ہمارے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ علمائے کرام کو معاشرے میں اہم مقام حاصل ہے اور انہوں نے تحریک پاکستان سمیت مختلف تحریکات میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ اس لیے انہیں دستور کی بالادستی کے لیے وکلاء کی تحریک میں بھی سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ علمائے کرام اگر متحرک ہوں اور ان کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو تو وکلاء اور سول سوسائٹی ان کے پیچھے چلنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک کے اخبارات میں توہین رسالت کے واقعات اور ہالینڈ میں توہین قرآن کریم پر مبنی فلم ہماری اجتماعی بے حسی کی وجہ سے ہے۔ دنیا میں ستاون اسلامی ملک ہیں مگر ڈنمارک اور ہالینڈ جیسے ممالک اس قسم کی حرکات کر کے ہمارے سینے پر مونگ دل رہے ہیں۔ اگر مسلمان ممالک ایک قدم اٹھا لیں کہ اپنی معیشت کو ڈالر سے الگ کر لیں تو مغرب گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا، مگر ہماری دارالحکومتوں میں پرویز مشرف جیسے لوگ بیٹھے ہیں جو مغرب کی ہدایات کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ان حکمرانوں کو علمائے کرام، وکلاء اور سول سوسائٹی کے لوگ ہی دباؤ ڈال کر مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ صحیح فیصلے کریں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کا مقصد بھی یہی ہے کہ عوام کے جذبات کی پاسداری ہو، دستور کی بالادستی ہو اور قانون کی حکمرانی ہو، اس لیے اس تحریک میں وہ سب کچھ موجود ہے جو آپ چاہتے ہیں۔ آپ اس سے مکمل تعاون کریں۔ جسٹس (ر) وجیہ الدین احمد نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ وہ توہین رسالت پر احتجاج کے لیے ڈنمارک اور ہالینڈ کے ساتھ تجارت بند کرنے کا اعلان کرے اور ان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرے۔

ملک میں دستور کی بالادستی اور ججوں کی بحالی کی تحریک کے حوالے سے علمائے کرام اور وکلاء کی یہ ملاقات اگرچہ بہت دیر سے ہوئی اور مختصر رہی، لیکن مفید تھی اور آئندہ باہمی تعاون کی ایک اچھی تمہید تھی۔ امید ہے کہ ملک کے یہ دو اہم طبقے ملک کو بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کی جدوجہد میں ایک دوسرے کے اچھے معاون ہوں گے۔