عدلیہ کی بحالی اور دستور و قانون کی بالادستی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ فروری ۲۰۰۸ء

سپریم کو رٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جناب اعتزاز احسن اور وکلاء تحریک کے دیگر قائدین جسٹس (ر) طارق محمود اور جناب علی احمد کرد دوبارہ نظر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بات پھر واضح ہوگئی ہے کہ صدر پرویز مشرف اور ان کی حکومت دستور کی بالادستی اور پی سی او کے تحت معزول کیے جانے والے معزز جج صاحبان کی بحالی کے بارے میں ملک بھر کے قانون دانوں اور رائے عامہ کی بات پر توجہ دینے کے لیے ابھی تک تیار نہیں۔ لیکن کیا اس طرح وکلاء کی قیادت کو ان سے دور رکھ کر اس تحریک کو دبایا جا سکے گا؟ ہمارے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔ دستور کی بالادستی کی جدوجہد نہ صرف یہ کہ جاری رہے گی بلکہ اس میں روز بروز شدت پیدا ہوگی۔ اس سلسلہ میں عوام کے مختلف طبقوں کے جذبات کیا ہیں؟ اس بارے میں مزید کچھ عرض کرنے سے پہلے ایک وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران جہاں ریٹائرڈ جنرل صاحبان نے باقاعدہ اجلاس کر کے صدر پرویز مشرف کی حکومت کو چارج شیٹ کیا ہے، وہاں ملک کے تیس کے لگ بھگ سرکردہ علمائے کرام نے بھی، جن کا عملی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے کوئی تعلق نہیں ہے اور جن میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علمائے کرام شامل ہیں، ایک متفقہ اعلامیہ کی صورت میں ملک کی موجودہ صورتحال کے بارے میں اپنی دوٹوک رائے کا اظہار کر دیا ہے۔ اس اعلامیہ پر میں نے بھی دستخط کیے ہیں اور اسی کالم میں یکم فروری کی اشاعت میں اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ لیکن اعلامیہ کا جو مسودہ میں نے اپنے کالم میں پیش کیا ہے اس میں اور حتمی طور پر جاری ہونے والے اعلامیہ میں تھوڑا فرق ہے جس کی نشاندہی میرے خیال میں ضروری ہے۔ میرے پاس توثیق کے لیے جو مسودہ بھیجا گیا تھا، میں نے اسے کالم کی شکل میں روزنامہ پاکستان کو فیکس کر دیا۔ اس میں عدلیہ کی بحالی کے بارے میں اگرچہ اصولی طور پر بات کہہ دی گئی تھی جس سے میں متفق ضرور تھا لیکن پوری طرح مطمئن نہیں تھا بلکہ اس سے زیادہ تفصیل اور وضاحت کے ساتھ موقف کا اظہار چاہتا تھا۔ لیکن اس اعلامیہ کے شائع ہونے میں مزید تاخیر بھی میرے نزدیک مناسب نہیں تھی اس لیے اسی پر اکتفا کر لیا۔ مگر کراچی سے جو حتمی اعلامیہ جاری ہوا اس میں میرے کہے بغیر لیکن میری خواہش کے مطابق موقف کو مزید واضح کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں مسودوں کی عبارت پیش کر رہا ہوں تاکہ قارئین اس سے پوری طرح واقف ہو سکیں۔

ہمارے اس کالم میں شائع ہونے والے مسودہ میں عدلیہ کے حوالے سے یہ کہا گیا ہے کہ:

’’موجودہ تہہ در تہہ بحرانوں کے حل کے لیے ہماری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ عدلیہ کو فعال کیا جائے، عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال کیا جائے تاکہ لوگ سڑکوں پر انصاف کے حصول کی کوشش کی بجائے عدلیہ میں فریاد رسی کر کے حقیقی انصاف حاصل کر سکیں۔ ہماری یہ بھی رائے ہے کہ جملہ ماورائے آئین اقدامات کو منسوخ کیا جائے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے صدر پرویز مشرف کو ملک و ملت کی خاطر مستعفی بھی ہونا پڑے تو اس سے گریز نہ کریں۔ یہ ایک باوقار طریقہ ہوگا جس کا اس منصب کے شایان راستہ یہ ہے کہ وہ آئین کے مطابق صدارت کا منصب سینٹ کے چیئرمین کے حوالے کر دیں۔‘‘

جبکہ حتمی طور پر جاری ہونے والے مسودہ میں یہ عبارت اس طرح ہے کہ:

’’موجودہ بحرانوں کے حل کے لیے ہماری دیانت دارانہ رائے یہ ہے کہ عدلیہ کو آئین کے تقاضوں کے مطابق بحال کرکے جملہ ماورائے آئین اقدامات کو منسوخ کیا جائے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے مناسب یہی ہے کہ صدر پرویز مشرف ملک و ملت کی خاطر مستعفی ہوجائیں۔ یہ ان کے لیے ایک باوقار طریقہ ہوگا۔ وہ آئین کے مطابق صدارت کا منصب سینٹ کے چیئرمین کے حوالے کر دیں اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر معینہ تاریخ کو شفاف انتخابات کرا کے اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیں۔‘‘

یہ عبارت زیادہ واضح اور دوٹوک ہے۔ ابہام کا جو خیال پہلے مسودے سے پیدا ہو گیا تھا، وہ اب دور ہو گیا ہے۔ آج ایک اخبار نویس دوست نے فون کر کے مجھ سے اس اعلامیہ کے بارے میں دریافت کیا تو میں نے عرض کیا کہ یہ سرکردہ علمائے کرام کی متفقہ رائے ہے، میرے خیال میں ریٹائرڈ جج صاحبان، وکلاء برادری اور اکابر علمائے کرام کی طرف سے صدر پرویز مشرف سے اقتدار چھوڑ دینے کے اس مطالبے یا اس مشورہ کے بعد اس موقف کو قوم کے کم و بیش اجماعی موقف کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ حالات جس قدر بگڑ چکے ہیں اور ان میں خرابی اور اس کے ساتھ ساتھ بے اعتمادی کی جو فضا پیدا ہو گئی ہے، اس کے پیش نظر صدر پرویز مشرف اگر اصلاح احوال کے لیے کچھ کرنا بھی چاہیں تو وہ مؤثر نہیں ہوگا اور ان کا کوئی اقدام ان حلقوں کا اعتماد حاصل نہیں کر پائے گا۔ اس لیے اب اس کے سوا کوئی آپشن قومی سطح پر قبولیت حاصل نہیں کر سکے گا کہ صورتحال میں بنیادی تبدیلی دکھائی دے اور ایسی کوئی تبدیلی صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں ممکن نہیں رہی۔

اس وضاحت کے اب ہم وکلاء تحریک کی طرف واپس آتے ہیں۔ گزشتہ روز گوجرانوالہ کے ایک بازار سے گزرتے ہوئے ایک دوست کی دکان پر رکا تو انہوں نے سوال کیا کہ ملکی حالات کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے حالات بہتری کی طرف جاتے نظر نہیں آتے۔ انہوں نے دوسرا سوال کیا کہ آپ اس فضا میں کس کے ساتھ ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ میں تو وکلاء کے ساتھ ہوں۔ انہوں نے پوچھا کیوں؟ میں نے جواب دیا کہ وہ آئین اور دستور کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان میں کوئی تحریک امریکہ کی مرضی کے بغیر چلی ہے اور کیا آپ مطمئن ہیں کہ وکلاء کی اس تحریک کے پیچھے امریکہ کی پلاننگ نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پیش نظر صرف یہ بات ہے کہ وکلاء کا موقف درست ہے، وہ دستور کی بحالی کی بات کر رہے ہیں اور میں بھی چاہتا ہوں کہ ملک میں جو کچھ بھی ہو، دستور اور قانون کے مطابق ہو۔ یہ ایک عام دکاندار شہری کے تاثرات ہیں جو میں نے انہی کے الفاظ میں پیش کر دیے ہیں جب کہ تین چار روز قبل مجھے لاہور میں علمائے کرام کی ایک محفل میں اس موضوع پر گفتگو سننے اور کرنے کا موقع ملا، اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

اس محفل میں کہا گیا کہ وکلاء کی تحریک میں کسی سطح پر بھی اسلام کی بات سننے میں نہیں آرہی جب کہ پاکستان اور اس کے دستور دونوں کی بنیاد اسلام اور جمہوریت پر ہے، مگر وکلاء کی قیادت صرف جمہوریت کی بات کر رہی ہے اور اسلام کا لفظ قیادت کی زبان پر نہیں آرہا۔

اس محفل میں بھی اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ ’’سول سوسائٹی‘‘ کے نام پر جو این جی اوز وکلاء کی اس تحریک میں دخیل ہوگئی ہے اور پیش پیش نظر آرہی ہیں، یہ وہی این جی اوز ہیں جو ملک میں سیکولرازم کے فروغ کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ ان میں سے بیشتر این جی اوز کو صرف اس لیے بیرونی ممالک سے فنڈز ملتے ہیں تاکہ وہ پاکستان کے معاشرے میں دین سے بیزاری اور اسلامی اقدار سے بغاوت کا ماحول پیدا کریں اور ان این جی اوز کی اس قسم کی سرگرمیاں ہم برسوں سے اسی رخ پر دیکھ رہے ہیں۔

اس محفل میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ یہ ’’سول سوسائٹی‘‘ کیا چیز ہے؟ میں نے عرض کیا کہ مغرب میں جمہوری انقلاب کے لیے عوام کے جس ہجوم نے تحریک چلائی تھی، اسے سول سوسائٹی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی عوامی اجتماع کو سول سوسائٹی کہہ دیا جاتا ہے۔ ایک صاحب نے فرمایا کہ اس طرح کہیے کہ عوام کے جس ہجوم کا کوئی متعین نظریہ یا عقیدہ نہ ہو، وہ سول سوسائٹی کہلاتا ہے۔

اس قسم کے تحفظات کے باوجود میری اور میرے جیسے بہت سے نظریاتی دینی کارکنوں کی ہمدردیاں بہرحال وکلاء کی تحریک کے ساتھ ہیں۔ عدلیہ کی خود مختاری و بحالی اور دستور و قانون کی بالادستی کے لیے ان کی جدوجہد اور قربانیوں کے ہم دل سے معترف ہیں، اور اسلام اور جمہوریت کی سربلندی کے لیے بارگاہ ایزدی میں اس تحریک کی جلد از جلد کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔