شریعت کی تعبیر و تشریح اور علامہ محمد اقبالؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون و جولائی ۱۹۹۲ء

ان دنوں قومی اخبارات میں ’’عورت کی حکمرانی‘‘ کے بارے میں بحث کا سلسلہ چل رہا ہے اور عورت کی حکمرانی کے جواز اور عدم جواز پر دونوں طرف سے اپنے اپنے ذوق کے مطابق دلائل پیش کیے جا رہے ہیں۔ جو حضرات عورت کی حکمرانی کو شرعاً جائز نہیں سمجھتے وہ اپنے موقف کے حق میں قرآن کریم کی آیت کریمہ ’’الرجال قوامون علی النساء‘‘ کے علاوہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد ارشادات اور امت کا چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل پیش کر رہے ہیں، جبکہ جواز کے قائل حضرات قرآن و سنت کے ارشادات کی تاویلات کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ کے چند جزوی واقعات اور بعض اہل علم کے انفرادی اقوال کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس بحث کا نتیجہ کیا نکلتا ہے اور کیا امت مسلمہ کے اہل علم اس بحث کی روشنی میں اپنے چودہ سو سالہ اجتماعی موقف اور تعامل سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہو جائیں گے؟ اس کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی سردست ضرورت محسوس نہیں ہوتی، لیکن اس ضمن میں موقر قومی روزنامہ جنگ کے محترم کالم نگار جناب عبد اللطیف سیٹھی نے جنگ لاہور، ۱۲ جون ۱۹۹۲ء میں مطبوعہ کالم کے ذریعے اس بحث کو ختم کرنے کی جو تجویز پیش فرمائی ہے، اس کا جائزہ لینا بہرحال ضروری ہے۔

جناب سیٹھی صاحب کا کہنا ہے کہ یہ بات طے ہو چکی ہے کہ عورت ایک اسلامی ملک کی سربراہ ہو سکتی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے کسی جگہ تحریر کر دیا ہے کہ عورت خلیفہ ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ سیٹھی صاحب کا یہ ارشاد بھی ہے کہ چونکہ علماء کی اکثریت نے پاکستان کے قیام کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا تھا اور پاکستان ان کی مرضی کے خلاف علامہ اقبال کی سوچ کے مطابق بنا ہے، اس لیے پاکستان میں دین کی وہی تشریح قابل قبول ہوگی جو علامہ اقبال نے کی ہے۔ چنانچہ اس پس منظر میں عبد اللطیف سیٹھی صاحب نے فرمایا ہے کہ:

’’حضرت حکیم الامتؒ نے اپنی ایک انگلش تحریر میں فرمایا تھا کہ عورت بطور خلیفہ الیکشن میں منتخب ہو سکتی ہے۔ اس سے زیادہ صاف الفاظ میں یہ بات اب نہیں ہو سکتی اور اس مسئلہ پر اب بحث ختم ہونی چاہیے۔ آخر کسی ایک کو اتھارٹی تو ماننا ہی پڑے گا اور اقبالؒ سے بڑی اسلامی امور پر اندریں زمانہ کوئی اتھارٹی نہیں ہو سکتی۔‘‘

جہاں تک قیام پاکستان کی جدوجہد کا تعلق ہے، جناب عبد اللطیف سیٹھی اور ان کے ہمنوا ایک عرصہ سے رائے عامہ کو یہ مغالطہ دینے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں کہ علماء کی اکثریت نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی جبکہ یہ بات تاریخی حقائق اور واقعات کے یکسر منافی ہے اور اس کو بار بار دہرائے چلے جانے کا مقصد تاریخ کے ریکارڈ کو خراب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات درست ہے کہ علماء کی ایک بڑی جماعت جمعیت علمائے ہند اور اس کے ساتھ مجلس احرار اسلام نے بھی تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی اور انہیں اس مخالفت پر آج بھی کوئی ندامت نہیں ہے، کیونکہ جن خدشات و شبہات کی بنیاد پر وہ قیام پاکستان کی مخالفت کر رہے تھے، قیام پاکستان کے بعد کی پینتالیس سالہ تاریخ نے ان میں سے کسی ایک کی بھی نفی نہیں کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی بڑی بڑی جماعتیں اور اکابر علماء قیام پاکستان کی جدوجہد میں عملاً شریک رہے ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا اطہر علیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ، مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، پیر صاحب مانکی شریفؒ اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ میں سے کس بزرگ کی خدمات کی تحریک پاکستان سے نفی کی جا سکتی ہے؟ ان میں سے بعض بزرگ تو وہ ہیں کہ جن کی شبانہ روز محنت کے بغیر مسلم لیگ صوبہ سرحد اور سلہٹ کا ریفرنڈم جیتنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ان اکابر علماء کے ساتھ علماء اور کارکنوں کی ایک کھیپ تھی جس نے ہر جگہ قیام پاکستان کے لیے ان تھک محنت کی اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ تحریک پاکستان کا اسلامی اور نظریاتی تشخص ان علماء اور کارکنوں کی وجہ سے ہی عام مسلمانوں کے ذہنوں میں قائم ہوا، ورنہ تحریک پاکستان کی اصل قیادت کے ذہنی رجحانات اور نظریاتی اعتبار کے بارے میں تو مسلم لیگی راہنماؤں جناب میاں ممتاز محمد خان دولتانہ، جناب سردار شوکت حیات اور جناب راجہ صاحب محمود آباد کے ان اعترافات کے بعد کسی تبصرہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ قیام پاکستان کا مقصد صرف ہندوؤں کے معاشی تسلط سے نجات حاصل کرنا تھا، جبکہ اسلامی نظام اور لا الٰہ الا اللہ کا نعرہ صرف عام مسلمانوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے لگایا گیا تھا۔

اس لیے محترم جناب عبد اللطیف سیٹھی اور ان کے ہمنواؤں سے بصد احترام گزارش ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر اردگرد کے تاریخی حقائق کا ادراک کریں اور علماء کی اکثریت پر تحریک پاکستان کی مخالفت کا بے بنیاد الزام دہراتے چلے جانے کی بجائے معروضی حقائق کو تسلیم کرنے کی روش اختیار کریں۔ آخر جب بانیٔ پاکستان نے مبینہ طور پر قیام پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی پرچم کراچی میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کے ہاتھوں لہرا کر تحریک پاکستان میں علماء کے کردار کا عملاً اعتراف کر لیا تھا تو قائد اعظم مرحومؒ کے نام کی مالا جپنے والے ان قلمکاروں کو اس قدر واضح حقیقت کے تسلیم کرنے میں کون سا حجاب مانع ہے؟

رہی یہ بات کہ چونکہ علامہ اقبالؒ نے فرما دیا ہے کہ عورت خلیفہ ہو سکتی ہے اس لیے اس بات کو آخری سمجھا جائے اور عورت کی حکمرانی کی بحث کو ختم کر دیا جائے، تو میں یہ بات دوٹوک اور واضح الفاظ میں عرض کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس بات سے نہ صرف یہ کہ کلیتاً انکار ہے بلکہ ہم اسے دوبارہ سننے کے بھی روادار نہیں ہیں۔ اس لیے کہ دین میں آخری بات صرف اور صرف جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے اور اس ذات گرامی کے بعد پوری امت میں کوئی شخصیت بھی ایسی نہیں ہے جس کی بات کو صرف اس لیے آخری اور حتمی قرار دیا جائے کہ چونکہ انہوں نے یہ بات کہہ دی ہے اس لیے بات ختم، اب کسی اور بحث کی گنجائش نہیں رہی۔ جناب عبد اللطیف سیٹھی کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت حنفی فقہ کی پیروکار ہے۔ خود علامہ اقبال فقہی امور میں حنفی فقہ کے پیروکار تھے اور انہوں نے وصیت نامہ میں اپنے فرزند کو حنفی فقہ کی پیروی کی تلقین بھی فرمائی ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہم امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہونے اور کہلانے کے باوجود امام اعظمؒ کی ہر بات کو صرف اس لیے تسلیم نہیں کر لیتے کہ چونکہ یہ بات امام صاحبؒ نے فرما دی ہے، اس لیے حرف آخر ہے۔ اہل علم احنافؒ حضرت امام ابوحنیفہؒ کے اقوال پر بحث کرتے ہیں، شرعی دلائل کی روشنی میں ان کا جائزہ لیتے ہیں اور بہت سے مسائل ہیں جن میں احناف دلائل کی بنیاد پر امام صاحبؒ کے قول کی بجائے ان کے تلامذہ میں سے کسی کے قول کو قبول کرتے ہیں۔ اس لیے جب ’’حرف آخر‘‘ کی حیثیت امام صاحبؒ کو حاصل نہیں ہے جو خود علامہ اقبالؒ کے بھی امام ہیں، تو علامہ اقبال کی اس حیثیت کو آخر کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ حرف آخر کی حیثیت صرف پیغمبر کی ہوتی ہے جس کے علم کا سرچشمہ وحی الٰہی ہوتی ہے، اس لیے جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی کے بعد نہ کسی شخصیت کے لیے نبوت اور وحی کا امکان تسلیم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی کی بات کو حرف آخر کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

علامہ اقبالؒ کی قومی خدمات، امت کے مسائل پر ان کی گہری نظر اور ملت کی بہتری کے لیے ان کے جذبات و احساسات سے انکار کی گنجائش نہیں ہے، لیکن ان کی شخصیت اور خدمات کے تمام تر اعترافات کے باوجود شرعی معاملات میں ان کے اقوال و ارشادات کو اسی طرح شرعی دلائل کی روشنی میں پرکھا جائے گا جس طرح امام ابوحنیفہؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام شافعیؒ، امام مالکؒ، امام ابویوسفؒ، امام محمدؒ، امام حسنؒ، امام زفرؒ اور دوسرے ائمہ کے اقوال و ارشادات کو پرکھا جاتا ہے، اور جو بات بھی مسلّمہ شرعی معیار پر پوری نہیں اترے گی، اسے قطعی طور پر رد کر دیا جائے گا۔ اس میں نہ علامہ اقبالؒ کی توہین کا کوئی پہلو نکلتا ہے اور نہ ہی پاکستان کے قیام میں ان کے قائدانہ کردار پر کوئی حرف آتا ہے۔ یہ علمی مسائل ہیں جہاں علمی اصول و ضوابط کی فرماں روائی ہے۔ انہیں سیاسی طعن و تشنیع اور الزام کی زبان میں حل کر نے کی کوشش کی جائے گی تو وہ الجھنیں ضرور پیدا ہوں گی جن سے پریشان ہو کر عبد اللطیف سیٹھی صاحب عورت کی حکمرانی کی بحث کو ختم کرنے کے لیے بے چین ہیں۔

یہاں اجتہاد کی ماہیت، اس کے دائرہ کار اور اس کے لیے اہلیت کے معیار کے بارے میں چند امور کی وضاحت ازحد ضروری ہے کیونکہ اجتہاد کا جو مطلب و مفہوم آج عام طور پر سمجھا جا رہا ہے، شرعاً اس پر اجتہاد کا اطلاق نہیں ہوتا کیونکہ شریعت نے اجتہاد کے کچھ اصول و ضوابط متعین کیے ہیں جن کا لحاظ قیاس اور اجتہاد کے نام پر کیے جانے والے ہر عمل میں لازماً کیا جائے گا۔

آج کل عام طور پر یہ سمجھا اور کہا جا رہا ہے کہ قرآن و سنت کے جس حکم پر عملدرآمد میں کوئی وقتی یا عارضی معاشرتی مشکل پیش آجائے، علمائے کرام باہم مشورہ کے ساتھ اس حکم کو ضرورت کے مطابق تبدیل کر دیں، اس کا نام اجتہاد ہے۔ اجتہاد کا یہ مفہوم کوئی نیا نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کے ہاں یہی اجتہاد رائج تھا اور علمائے بنی اسرائیل لوگوں کے مطالبات پر زمانہ کے تقاضوں کے پیش نظر شرعی احکام میں اسی قسم کی تبدیلیاں کیا کرتے تھے، لیکن قرآن کریم نے اس عمل کو اجتہاد کی بجائے تحریف کا نام دیا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ بنی اسرائیل کے جدت پسند لوگوں کے مطالبات اور مصلحت پسند علماء کی انہی کارروائیوں کے نتیجے میں تورات، زبور اور انجیل اصلی شکل میں موجود نہیں رہیں اور انبیائے بنی اسرائیل کی پیش کردہ شریعتوں کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا تھا۔ اس کے برعکس جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اجتہاد کا تصور دیا ہے، وہ حضرت معاذ بن جبلؓ کی روایت کے مطابق یوں ہے کہ جس مسئلہ میں قرآن و سنت کا حکم واضح نہ ہو، اس میں اہل علم قرآن و سنت کے اصولوں کی روشنی میں کوئی فیصلہ کر لیں۔ یہ اجتہاد حق ہے اور کسی بھی دور میں اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن جب نئے پیش آمدہ مسئلے کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کرنا ہے تو منطقی طور پر ضروری ہے کہ فیصلہ کرنے والا شخص یا افراد قرآن و سنت کی روشنی سے بہرہ ور ہوں، اور قرآن و سنت اور ان سے متعلقہ علوم کی اس درجہ کی مہارت رکھتے ہوں کہ وہ ان کی روشنی میں مسائل و احکام کا استنباط کر سکیں۔

گزشتہ دنوں محترم جناب ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دیا جائے اور قوم کے منتخب نمائندے مل بیٹھ کر اجتہادی امور پر فیصلہ دیں۔ ہم نے اس تجویز سے اتفاق کیا تھا اور عرض کیا تھا کہ صرف ایک شرط کے ساتھ ہم اس تجویز کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے اجتہاد کی مطلوبہ اہلیت کو شرط قرار دے دیا جائے۔ کیونکہ جس پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے قرآن کریم کا ناظرہ پڑھنا بھی شرط نہیں ہے، اسے قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح اور اجتہاد کی ذمہ داری سونپ دینا قرآن و سنت کے ساتھ تو مذاق ہو گا ہی، خود اس پارلیمنٹ کے ارکان پر صریح ظلم ہوگا۔ ہاں اگر الیکشن رولز میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے اجتہاد کی اہلیت کو شرط قرار دے دیا جائے تو ہمیں پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینے اور اسے بخوشی تسلیم کرنے میں کوئی حجاب نہیں ہوگا۔ جبکہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے اجتہاد کی اہلیت کا معیار بھی ہم تجویز نہیں کرتے، سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت، اور اسلامی نظریاتی کونسل، تینوں باوقار آئینی ادارے ہیں، ان میں سے کسی ایک ادارے سے استصواب کر لیا جائے وہ اجتہاد کی اہلیت کے لیے جو معیار مقرر کرے اسے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے شرط بنا دیا جائے۔ اس اصولی اور ناگزیر منطقی تقاضے کو نظرانداز کر کے اجتہاد کے نام پر جو عمل کیا جائے گا وہ بنی اسرائیل کے عمل تحریف سے مختلف نہیں ہوگا۔

اجتہاد کے بارے میں ضروری گزارش کے بعد اب ہم اصل مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ اجتہاد اور قیاس کے حوالے سے عورت کی حکمرانی کے مسئلہ کی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلہ میں ہمیں سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ عورت کی حکمرانی کے جائز نہ ہونے پر قرآن کریم کی جو آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو ارشادات پیش کیے جا رہے ہیں، وہ واضح ہیں یا نہیں؟ اگر وہ واضح اور صریح ہیں تو پھر یہ مسئلہ اجتہاد کے دائرے میں نہیں آتا اور اجتہاد کے نام پر اس میں کسی ردوبدل کی حمایت علمی طور پر نہیں کی جا سکتی۔ یہ بات پرکھنے کا ہمارے پاس پیمانہ بھی موجود ہے کہ امت مسلمہ اور اس کے اہل علم نے مجموعی طور پر ان آیات و احادیث سے کیا مفہوم مراد لیا ہے؟ اس معیار پر جب ہم ان آیات و احادیث کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ حقیقت واشگاف صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے کہ امت مسلمہ کے تمام معروف مفسرین و محدثین اور تمام مکاتب فکر کے نامور مجتہدین و فقہاء ان آیات و احادیث سے عورت کی حکمرانی کے عدم جواز پر استدلال کرتے ہیں اور احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ، ظاہریہ اور اہل تشیع کے کسی معروف محدث، مفسر، فقیہ یا مجتہد نے ان آیات و احادیث کے اس اجتماعی مفہوم سے اختلاف نہیں کیا، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ یہ آیات و احادیث عورت کی حکمرانی کے عدم جواز پر صراحتاً دلالت کرتی ہیں اور قرآن و سنت کی صراحت کے بعد اس مسئلہ میں اجتہاد کا کوئی دخل باقی نہیں رہ جاتا۔

پھر اگر اس اصول سے کسی حد تک صرف نظر کرتے ہوئے آیات و احادیث کی تشریح و تعبیر اور ان سے احکام و مسائل کے استنباط و استخراج کی حد تک اجتہاد کی گنجائش تسلیم بھی کر لی جائے تو یہ اجتہاد ہو چکا ہے، کیونکہ تمام مکاتب فکر کے مجتہدین ان آیات و احادیث سے یہ مسئلہ مستنبط کر چکے ہیں کہ شریعت اسلامیہ کی رو سے عورت کسی مسلم ریاست میں حکمرانی کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتی۔ اور یہ کسی ایک دور کا اجتہاد نہیں، چودہ سو سال کے تمام ادوار کا اجتماعی اجتہاد ہے۔ اب اس مسئلہ پر اجتہاد کے نام پر کیا جانے والا کوئی بھی عمل اس چودہ سو سالہ اجتماعی تعبیر و تشریح اور متفقہ اجتہاد پر نظرثانی اور اسے ’’ری اوپن‘‘ کرنے کا عمل کہلائے گا۔ اجتہاد پر نظرثانی اور اسے ری اوپن کرنے کی بھی کچھ شرائط ہیں اور اس کے کچھ عملی تقاضے ہیں۔ اگر ہمارے دوستوں کے پاس امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ اجتماعی تعامل کو ری اوپن کرنے کی کوئی بنیاد موجود ہے تو اسے سامنے لائیں اور اس سے علمی بحث کا آغاز کریں تاکہ اس بحث کا کوئی علمی فائدہ مرتب ہو اور بحث منطقی طور پر آگے بڑھ سکے۔ ورنہ جزوی واقعات، دور از کار تاویلات اور مرجوح اقوال کے سہارے ایک بات پر ضد کیے چلے جانا عام آدمی کے ذہن میں تو شاید تشویش پیدا کر سکے، علمی دنیا میں اس کا قطعاً کوئی وزن نہیں ہوگا۔