رؤیت ہلال اور اختلاف مطالع

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ اکتوبر ۲۰۰۴ء

سرحد اسمبلی کی اس متفقہ قرارداد نے رویت ہلال کے مسئلہ پر ایک بار پھر ہلچل پیدا کر دی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کو توڑ دیا جائے اور رمضان المبارک اور عیدین وغیرہ کے نظام کو سعودی عرب کے ساتھ منسلک کر کے جس روز سعودیہ میں چاند کا اعلان ہو، اس کے مطابق روزہ اور عید کا پاکستان میں بھی اعلان کر دیا جائے۔ گزشتہ سال رمضان المبارک اور عید الفطر کے چاند کے حوالے سے صوبہ سرحد اور باقی ملک میں جو بدمزگی پیدا ہو گئی تھی اس کے پس منظر میں سرحد اسمبلی کی یہ متفقہ قرارداد خصوصی اہمیت کی حامل ہے جس کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ سرحد اسمبلی میں یہ متفقہ قرارداد عوامی نیشنل پارٹی کی طرف سے پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے حکومتی پارٹی متحدہ مجلس عمل کی تائید بھی حاصل ہے اور متحدہ مجلس عمل میں چونکہ ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر کے لوگ موجود ہیں، اس لیے اسے صرف سیاسی قرارداد کا درجہ حاصل نہیں رہا، بلکہ مختلف مکاتب فکر کے کردہ علمائے کرام کی رضامندی کی جھلک اس میں نمایاں طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

ہمارے ہاں کچھ عرصہ قبل تک رمضان المبارک اور عیدین کے چاند کا مسئلہ خاصی پریشانی کا باعث رہا ہے۔ کوئی مرکزی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں چاند الگ الگ دیکھنے کا اہتمام ہوتا تھا جس کے ساتھ مسلکی اختلافات کا پس منظر بھی شامل ہو جاتا تھا۔ بسا اوقات ایک ہی شہر میں دو دو دن عید ہو جایا کرتی تھی۔ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل کے بعد اس صورتحال میں خاصا فرق آیا اور اگرچہ صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں پھر بھی الگ عید ہوجاتی تھی، مگر عام طور پر ملک بھر میں رمضان المبارک اور عیدین کا نظام مربوط ہو گیا تھا اور ملک کی اکثریت ایک روز عید منانے لگی تھی۔ اس میں رخنہ گزشتہ سال پیدا ہوا جب صوبہ سرحد کی رویت ہلال کمیٹی نے رمضان المبارک کے چاند کے سلسلے میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا اور اس سے صوبہ سرحد کے ایک بڑے حصے میں رمضان اور عید کا نظام باقی ملک سے الگ ہو گیا۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا موقف یہ تھا کہ چونکہ وہ حکومت کی طرف سے مجاز اتھارٹی ہے اور اس نے رویت ہلال کی کوئی تسلی بخش شہادت نہ ملنے کی وجہ سے ۲۹ شعبان کی شام کو چاند نظر نہ آنے اور شعبان کے ۳۰ دن مکمل کرنے کا اعلان کر دیا تھا، اس لیے پورے ملک کو اس فیصلے کی پابندی کرنی چاہیے تھی۔ جبکہ سرحد کی صوبائی حکومت اور رویت ہلال کمیٹی کا یہ کہنا تھا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے چاند نہ ہونے کے فیصلے میں جلد بازی کی تھی اور فیصلے کے اعلان کے بعد موصول ہونے والی شہادتوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے اسے شرعی اصولوں کے مطابق شہادتوں کی بنیاد پر رمضان المبارک کے شروع ہو جانے کا اعلان کرنا پڑا۔ یہی صورتحال عید الفطر پر پیش آئی اور دو متضاد اعلانات کی وجہ سے عام لوگوں کے لیے پریشانی کی صورتحال پیدا ہو گئی۔

سرحد اسمبلی نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ سرے سے پاکستان میں چاند دیکھنے کا اہتمام ترک کر کے سعودی عرب کے اعلان کے ساتھ روزے اور عیدین کو منسلک کر دیا جائے تاکہ نہ صرف ملک بھر میں ایک ہی دن روزہ اور عید ہو، بلکہ عید اور روزہ کے حوالے سے عرب ممالک کے ساتھ اتحاد اور یکجہتی کی فضا قائم ہو جائے۔ ہم اس سے قبل کسی موقع پر عرض کر چکے ہیں کہ سرحد کے بعض علاقوں میں باقی ملک سے ایک دن پہلے عید اور روزہ رکھنے کی وجہ رویت ہلال سے زیادہ افغانستان کے ساتھ ہم آہنگی کا جذبہ ہے اور افغانستان میں چاند دیکھنے کا سرے سے اہتمام نہیں ہوتا بلکہ وہ سعودی عرب کے اعلان پر روزہ اور عید کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا موقف یہ ہے کہ ہم چونکہ حنفی ہیں اور احناف کا قدیمی مذہب یہ ہے کہ چاند کے مطالع مختلف ہونے کا شرعاً اعتبار نہیں ہے، اس لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کا شرعی ثبوت ہو جائے تو ہم روزہ اور عید کرنے کے پابند ہیں، جبکہ حرمین شریفین ساری دنیائے اسلام کی عقیدت و احترام کا مرکز ہیں، اس لیے وہاں روزہ اور عید کا اعلان ہو جانے کے بعد دنیا میں کہیں اور چاند دیکھنے کی ضرورت نہیں اور حرمین شریفین کے ساتھ ساری دنیائے اسلام کو روزہ اور عید کا ایک ہی روز اہتمام کرنا چاہیے۔

جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے کہ چاند کے طلوع ہونے میں سائنسی طور پر دنیا کے مختلف حصوں میں وقت کا فرق موجود ہے، اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک علاقے میں ایک روز چاند نظر آتا ہے اور اس سے دور دوسرے علاقے میں دوسرے روز پہلی رات کا چاند دکھائی دیتا ہے، تو یہ بات بطور ایک واقعہ کے درست ہے۔ چاند کی گردش کے حوالے سے ایسا ہونا ممکن ہے بلکہ اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے، لیکن کیا شرعاً اس کا اعتبار ضروری ہے؟ اور کیا ایسا کرنا درست نہیں ہے کہ ایک جگہ چاند نظر آجائے تو باقی دنیا کے لوگ اسی کا اعتبار کرتے ہوئے ایک ہی دن روزہ اور عید کا اہتمام کر لیں؟ اسے فقہی اصطلاح میں اختلاف مطالع کا اعتبار کرنے یا نہ کرنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں فقہائے امت کے دو گروہ ہیں۔ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہیؒ نے فتاویٰ محمودیہ میں اور حضرت مولانا زوار حسین شاہ آف کراچی نے ’’عمدۃ الفقہ‘‘ میں اس کی جو تفصیل بیان کی ہے، اس کے مطابق:

  1. حنفی، حنبلی اور مالکی مذاہب کے ائمہ اختلاف مطالع کا اعتبار نہیں کرتے اور ان کا یہ ارشاد ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کا ثبوت ہو جائے تو باقی دنیا کے لیے اس کی پابندی ضروری ہو جاتی ہے۔
  2. البتہ شافعی فقہ کے ائمہ اور احناف میں سے امام زیلعی اور سید انور شاہ کشمیری اختلاف مطالع کا اعتبار کرتے ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ جہاں چاند دیکھنے میں ایک دن کا فرق پڑ جائے، وہاں مطالع کا اختلاف معتبر ہے اور ایک جگہ چاند نظر آنے سے دوسری جگہ کے لوگوں پر روزہ اور عید لازم نہیں ہوتے۔

ہمارے ہاں پاکستان میں اگرچہ عمل اب تک دوسرے قول پر ہو رہا ہے لیکن اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر یعنی بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کے اکابر علمائے کرام نے صراحت کی ہے کہ ان کے نزدیک مطالع کا اختلاف شرعاً معتبر نہیں ہے اور دنیا میں کسی ایک جگہ بھی چاند کا شرعی ثبوت مل جانے کی صورت میں باقی ساری دنیا کے مسلمان اس کے پابند ہو جاتے ہیں، چنانچہ:

  1. بریلوی فکر کے ممتاز مفتی حضرت مولانا امجد علی اعظمی ’’بہار شریعت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’ایک جگہ چاند ہو تو وہ صرف وہیں کے لیے نہیں بلکہ تمام جہان کے لیے ہے، مگر دوسری جگہ اس کا حکم اس وقت ہے کہ ان کے نزدیک اس کی تاریخ میں چاند ہونا شرعاً ثابت ہو جائے۔‘‘
  2. دیوبندی مکتب فکر کے ایک بڑے مفتی حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمنؒ نے ’’فتاویٰ دارالعلوم دیوبند‘‘ میں صراحت کی ہے کہ مطالع کا اختلاف عملاً موجود ہے لیکن احناف کے نزدیک شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہے، اور اگر مغرب میں چاند نظر آجانے کا ثبوت شرعی ہو جائے تو اہل مشرق اس کے مطابق روزہ رکھنے اور عید کرنے کے پابند ہیں۔
  3. اہل حدیث مکتب فکر کے ہاں قاضی شوکانیؒ کو جو مقام حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں ہے اور ’’فتاویٰ محمودیہ‘‘ میں مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ نے قاضی شوکانی کی ایک طویل عبارت نقل کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مطالع کے اختلاف کا شرعاً اعتبار نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہور فقہائے احناف کے ساتھ ساتھ حنبلی اور مالکی فقہ کے ائمہ کرام کے درمیان اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں۔ اہل حدیث مکتب فکر کے قاضی شوکانی بھی اس بات پر متفق ہیں کہ دنیا کے مختلف حصوں میں پہلی رات کا چاند نظر آنے کے اوقات میں فرق موجود ہونے کے باوجود مطالع کے اس اختلاف کا شرعاً اعتبار کرنا ضروری نہیں ہے، اور دنیا کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کی صورت میں باقی دنیا کے مسلمان بھی اسی روز عید اور روزہ کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان بزرگوں کی بات مان کر نہ صرف ملک بھر میں ایک ہی روزے اور عید کا اہتمام ممکن ہے، بلکہ عرب ممالک کے ساتھ عید اور روزہ میں ہم آہنگی بھی ہو سکتی ہے۔

اس لیے ہمارے نزدیک سرحد اسمبلی کی یہ متفقہ قرارداد ملک بھر کے دینی حلقوں اور ارباب حل و عقد کی سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کے عوام کی ایک مدت سے خواہش ہے کہ وہ سب ایک ہی دن عید منائیں اور اکٹھے روزہ رکھیں۔ ان کی یہ خواہش ناجائز نہیں ہے۔ اسے پورا کرنے میں شرعاً بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور فقہائے امت کی بڑی تعداد ان کے اس حق کی حمایت کر رہی ہے تو پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے۔ ان کے مل بیٹھ کر نیا اجتہادی فیصلہ کرنے سے عوام کو یہ خوشی مل سکتی ہے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔

درجہ بندی: