جامعہ حفصہ کی طالبات کا احتجاج اور اعتدال کی راہ

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ فروری ۲۰۰۷ء

اسلام آباد میں حکومت کی طرف سے گرائی جانے والی مساجد کا مسئلہ حکومت اور علماء کے درمیان مذاکرات اور بظاہر ایک سمجھوتے تک پہنچ جانے کے باوجود زیادہ گھمبیر اور پریشان کن ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں تک مسجدوں کو گرانے کا تعلق ہے، اس کے بارے میں اصولی موقف گزشتہ کالم میں ہم بیان کر چکے ہیں اور اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں کہ اگر کسی مناسب اور موزوں سرکاری زمین پر علاقہ کے لوگوں نے اپنی ضرورت کے تحت مسجد بنا لی ہے اور مسجد بن جانے کے بعد سرکاری محکموں نے اپنی ڈیلنگ میں اسے مسجد کے طور پر قبول کر لیا ہے تو وہ شرعی مسجد بن گئی ہے اور بعد میں اسے گرانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق حکومت نے بھی کسی حد تک اس موقف کو قبول کر لیا ہے اور گرائی جانے والی مساجد کی تعمیر نو کے وعدہ کے ساتھ علماء کی ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو اس قسم کی مساجد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ مگر جامعہ حفصہ للبنات، مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کی طالبات اس فیصلے پر مطمئن نظر نہیں آتیں اور ان کے احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سرکاری فورسز کی نقل و حرکت اس علاقہ میں بڑھ رہی ہے اور جس سرکاری لائبریری پر طالبات نے قبضہ کر رکھا ہے، اسے واگزار کرانے کے لیے ایکشن کی تیاریاں جاری ہیں جس پر سارے ملک میں تشویش و اضطراب کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے احباب فون پر صورتحال کے بارے میں معلومات اور اس کے بارے میں رائے دریافت کر رہے ہیں۔ ابھی تھوڑی دیر قبل پنجاب کے ایک جنوبی ضلع سے احباب نے فون پر دریافت کیا ہے کہ اس سلسلے میں آپ کا موقف کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے اسلام آباد کے اجلاس کے بعد جو اعلامیہ جاری کیا ہے، میں اس سے پوری طرح متفق ہوں اور موجودہ معروضی صورتحال میں اسے ہی صحیح اور متوازن موقف سمجھتا ہوں جس کی ملک بھر کے علماء کو تائید کرنی چاہیے اور کارکنوں کو اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ انہوں نے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے بارے میں پوچھا کہ انہوں نے ملک بھر کے طلبہ کو اسلام آباد پہنچنے کے لیے کہا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ وہ اپنی علالت اور شدید ضعف و نقاہت کے باعث اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس قسم کی کوئی بات کر سکیں اور اگر ایسی کوئی بات ان سے منسوب کی گئی ہے تو وہ درست نہیں ہے۔

جہاں تک مساجد کے تحفظ کے بارے میں موقف کی بات ہے، اس کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہے اور پورا ملک اس سلسلے میں اس موقف کی حمایت میں ہے، لیکن طریق کار کے بارے میں اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت نے، جو ممتاز ترین علمی شخصیات اور بزرگوں پر مشتمل ہے، اس طریق کار کے کسی پہلو سے اختلاف کیا ہے تو وہ بلاوجہ اور بلاوزن نہیں ہے، اور ہماری عزیز طالبات اور ان کے سرپرستوں کو اس کی اہمیت محسوس کرنی چاہیے۔ جامعہ حفصہ کی طالبات نے چلڈرن لائبریری کی سرکاری عمارت پر قبضہ کیا تو بہت سے دوسرے احباب کی طرح ہم بھی یہ سمجھتے تھے کہ یہ علامتی احتجاج کی ایک صورت ہے جو اختیار کی گئی ہے، اور جہاں بات نوجوانوں کی ہو تو اس قسم کے علامتی احتجاج دنیا بھر میں ہوتے رہتے ہیں، اس لیے اس میں کوئی زیادہ حرج کی بات نہیں ہے۔ لیکن معاملہ اپنے اثرات اور نتائج کے حوالے سے علامتی احتجاج سے بڑھ کر سنجیدہ محاذ آرائی کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے جو اس صورت میں کسی طرح بھی پسندیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ایک طرف ہزاروں طالبات ہیں اور دوسری طرف سرکاری فورسز ہیں۔ مسئلہ طالبات کا نہ ہوتا اور صرف مرد طلبہ اس محاذ آرائی کا فریق ہوتے تو بھی یہ بات ہزار مرتبہ سوچنے کی تھی کہ اسلام آباد میں سرکاری فورسز کے ساتھ دینی حلقوں کی اس طرح کی محاذ آرائی، جس میں براہ راست تصادم کا خطرہ سامنے دکھائی دے رہا ہو، شرعاً اور عقلاً درست بھی ہے یا نہیں؟ لیکن یہاں تو سرکاری فورسز کے سامنے طالبات کھڑی ہیں اور دنیا بھر کے سامنے یہ منظر ہے کہ خدانخواستہ طالبات اور سرکاری فورسز کے درمیان کسی معرکے کا آغاز ہونے والا ہے۔

مسئلہ مساجد کے تحفظ کا ہو یا اسلامی نظام کے نفاذ کا، اور معاملہ غیر اسلامی قوانین کے ختم کرنے کا ہو یا مساجد کے انہدام کے نوٹس واپس لینے کا، ان میں کسی بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان مطالبات کی حمایت ہم سب کی دینی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے لیے وفاقی حکومت اور سرکاری فورسز کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کی فضا قائم کرنے کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور اس کے نتائج و مضمرات سے آنکھیں بند کر کے صرف مطالبات درست ہونے کی بنیاد پر اس کا ساتھ دینا حکمت و دانش کا تقاضا نہیں ہے۔ ہمارے بزرگوں نے آزادی کی جنگ بھی مسلح ہو کر حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ تک لڑی تھی اور حضرت شیخ الہندؒ کی زندگی میں انہی کے زیر سایہ عدم تشدد کو اپنی جنگ کا سب سے بڑا ہتھیار قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر فورموں میں سے جس نے بھی آزادی کی جنگ لڑی، عدم تشدد کے ہتھیار سے لڑی ہے جبکہ پاکستان بننے کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور دیگر اکابرین نے اسلامی نظام کے نفاذ اور کفر کے نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے لیے جتنی جدوجہد کی ہے، اس کی بنیاد عدم تشدد پر رہی ہے اور حکمرانوں سے ہزار اختلافات کے باوجود نہ قانون کو ہاتھ میں لیا ہے اور نہ ہی ملک کے مروجہ سسٹم کو اس انداز سے چیلنج کیا ہے کہ اس میں ’’خروج‘‘ کے جراثیم دکھائی دینے لگیں۔

پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد ہمارے دینی فرائض میں سے ہے لیکن اس کے لیے ہمارے اکابر نے جو طریقہ کار طے کیا ہے، تمام تر سست روی اور پے درپے رکاوٹوں کے باوجود ابھی تک وہی طریقہ کار صحیح ہے، کیونکہ اس کا فیصلہ فرد واحد نے نہیں کیا بلکہ تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علمائے کرام نے ۲۲ متفقہ دستوری نکات کی صورت میں کیا تھا، اور اسے تبدیل کرنے کے لیے اسی درجہ کے اکابر علمائے کرام کا اسی طرح کا متفقہ فیصلہ ضروری ہے۔ اس لیے ہم پورے شرح صدر اور خلوص نیت کے ساتھ جامعہ حفصہ للبنات کی طالبات سے، جو ہماری ہی بیٹیاں ہیں، گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی قیادت کی اپیل کو نظر انداز نہ کریں اور اپنے بزرگوں کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے پورے وقار اور تحمل کے ساتھ اپنی سابقہ پوزیشن پر واپس چلی جائیں۔ گرائی جانے والی مساجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکومتی اعلان اور اس مسئلہ میں علماء کمیٹی کی تشکیل کی صورت میں اس حوالہ سے انہوں نے یہ جنگ جیت لی ہے اور وہ اپنے مشن میں کامیاب ہیں۔ باقی رہی بات ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبہ کی تو انہوں نے اس کے لیے عزم و استقلال کا مظاہرہ کر کے دنیا کو کامیابی کے ساتھ یہ پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کا مطالبہ صرف مردوں کا نہیں، عورتوں کا بھی ہے اور پاکستان کی عورتیں اپنے حقوق اور ناموس و عزت کا تحفظ اسلامی نظام میں ہی سمجھتی ہیں۔ ان کی اس جدوجہد سے نفاذ اسلام کی تحریک کو بلاشبہ تقویت حاصل ہوئی ہے اور نیا خون ملا ہے، اس لیے اس سے آگے کے معاملات وہ اگر اپنے بزرگوں کے حوالہ کر دیں تو ان کے لیے یہی صورت زیادہ باوقار ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری عزیز بچیاں اپنے بزرگوں کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے ان کی سرپرستی اور دعاؤں میں اپنا حصہ ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیں گی۔

اس کے ساتھ ہی مسئلہ کے اس پہلو کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے جو ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کی قیادت کرنے والے دوستوں کے لیے بہرحال لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے کہ صورتحال نے آخر یہ رخ کیسے اور کیوں اختیار کر لیا ہے کہ طلبہ اور طالبات میں اس قدر بے چینی اور اضطراب دیکھنے میں آ رہا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ بعض دوست یہ کہہ کر اس بات کو ٹالنے کی کوشش کریں کہ اس کے پیچھے خفیہ ہاتھ کام کر رہا ہوگا اور پس پردہ کچھ عناصر ایسی صورتحال پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں گے کہ دینی حلقے سرکاری فورسز کے ساتھ محاذ آرائی اور ٹکراؤ کی پوزیشن میں آئیں تاکہ ان کے تصادم سے مستقبل کے نقشے کو ایک مخصوص رنگ دینے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ مگر ہمارے نزدیک اس کا یہ پہلو زیادہ قابل غور ہے کہ دینی اقدار اور روایات کے تحفظ اور نفاذ اسلام کی جدوجہد کے حوالے سے نئی نسل موجودہ دینی قیادت سے مایوس ہوتی جا رہی ہے اور حالات جس انداز سے آگے بڑھ رہے ہیں، اس سے اس مایوسی میں اضافہ ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ افغانستان اور عراق پر حملہ کے حوالے سے ہماری دینی قیادت کا رد عمل رسمی اور روایتی سے زیادہ نہیں تھا جبکہ حدود آرڈیننس میں ترامیم کو روکنے کے لیے بھی وہ کردار ادا نہیں کیا جا سکا جس کی نئی نسل کو توقع تھی۔ اور مستقبل قریب میں تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے قوانین کے خاتمہ کے لیے جن عزائم کا اظہار سرکاری حلقوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے، ان کے بارے میں کوئی مؤثر پیشرفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔

اس وجہ سے عام لوگ خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ دینی حلقوں کی سیاسی قیادت کا طرز عمل یہی رہا تو حکومت کے لیے حدود آرڈیننس کی طرح دیگر اسلامی قوانین کے خاتمہ یا ان میں من مانی ترامیم کوئی مشکل کام نہیں رہے گا۔ یہ سنجیدہ سوال ہے جو طلبہ اور طالبات کی جدوجہد نے پوری شدت کے ساتھ اجاگر کر دیا ہے اور اگر ہماری دینی قیادت اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے پر تیار ہو گئی تو یہ ہماری ان بچیوں کی محنت اور قربانیوں کا مثبت اور مفید نتیجہ ثابت ہوگا۔