وفاق کا اجلاس اور روزنامہ پاکستان کا اداریہ

   
مجلہ: 
نامعلوم
تاریخ اشاعت: 
۱۱ اگست ۲۰۰۷ء
اصل عنوان: 
وفاق کے اجلاس کے حوالے سے چند توضیحات

بات اگر روزنامہ پاکستان کے ادارتی نوٹ کی نہ ہوتی تو لال مسجد اور وفاق المدارس کے مسئلہ پر مزید کچھ لکھنے کا ارادہ نہ تھا، کیونکہ اس کے بارے میں جو کچھ لکھ چکا ہوں، بعض تند و تلخ جوابات کے باوجود اس میں کسی اضافے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میں مناظرانہ اسلوب اور طعن و تشنیع کی زبان کا عادی نہیں ہوں اور اپنی بات وضاحت کے ساتھ بیان کر کے فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا کرتا ہوں کہ وہ دونوں طرف کی بات پڑھ لیں اور پھر اس کے مطابق جو رائے وہ قائم کر سکیں، کر لیں۔ مگر ‘‘پاکستان‘‘ کے ادارتی نوٹ کے باعث مجھے اس مسئلہ پر مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اس لیے کہ ’’پاکستان‘‘ کے مدیر محترم نے اس نوٹ میں علمائے کرام کو کوسنے اور ان سے معافی مانگنے کے مطالبہ کا جو انداز اختیار کیا ہے، اس کی بنیاد مفروضات پر ہے اور کسی بھی ذمہ دار صحافی سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ خدا جان کون سے ’’ثقہ راوی‘‘ کی رپورٹ سے مدیر محترم نے اس طعن و تشنیع اور تلقین و توبیخ کا تانابانا بنا ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ:

”وفاق المدارس العربیہ کے اجلاس میں، جو منگل کے روز ملتان میں منعقد ہوا، لال مسجد کے معاملے پر علماء کے درمیان تلخ کلامی اور پھر ہاتھاپائی ہوئی۔ تلخی کا آغاز مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق کے درمیان توتکار اور تلخ کلامی سے ہوا۔ علماء نے ایک دوسرے پر دوہرے معیار اور ’’دوغلے پن‘‘ کا مظاہرہ کرنے کے الزامات عائد کیے۔ اس دوران بعض شرکاء کے درمیان ہاتھاپائی بھی ہوئی۔’’

اس پر ’’پاکستان‘‘ کے اداریہ نویس بزرگ نے جو تبصرہ کیا ہے، میں اس کے بارے میں کچھ عرض نہیں کروں گا اور نہ ہی اس کے لب و لہجہ اور ادارتی معیار کی طرف توجہ دلاؤں گا، اس لیے کہ کوئی رائے قائم کر کے اس کا اظہار کرنا اور اس کے لیے اپنے حسب حال لب و لہجہ اور اسلوب اختیار کرنا ان کا حق ہے۔ البتہ مذکورہ بالا جس رپورٹ پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے، اس کے بارے میں ضرور گزارش کرنا چاہوں گا کہ یہ خلاف واقعہ اور انتہائی مبالغہ آمیز ہے اور اگر مدیر محترم صرف اپنے ’’ثقہ راوی‘‘ پر انحصار کرنے کے بجائے اجلاس کے شرکاء سے بھی دریافت کر لیتے تو انہیں اس قدر تلخ نوائی کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے مذکورہ اجلاس میں اول سے آخر تک شریک رہا ہوں، اور دس بجے کے لگ بھگ شروع ہو کر تقریباً ساڑھے تین بجے تک جاری رہنے والے اس اجلاس کی ساری کارروائی خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اس میں مولانا سمیع الحق کو تشریف لاتے بھی دیکھا ہے، تشریف لے جاتے بھی دیکھا ہے، اور ان کو مولانا فضل الرحمن صاحب کے ساتھ کافی دیر تک بیٹھے بھی دیکھا ہے۔ میں ان دونوں کے ایک جانب صرف چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھا تھا۔ بخدا میں نے ان کے مابین توتکار یا تلخ کلامی کا کوئی منظر نہیں دیکھا اور نہ ہی ان کے درمیان ہونے والی کسی گفتگو کی آواز سنی ہے۔ خدا جانے یہ کون سی توتکار یا تلخ کلامی تھی کہ چار پانچ فٹ کے فاصلے پر میں اسے نہیں سن سکا مگر اجلاس سے باہر کے لوگوں نے اس کی تفصیلات بھی سن لیں اور بعض اخباری رپورٹوں میں اس پر ’’بائیکاٹ‘‘ کا عنوان بھی قائم کر لیا گیا۔

بات صرف اتنی ہوئی کہ اجلاس جب شروع ہوا تو تلاوت کلام پاک کے بعد وفاق کے ناظم اعلیٰ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے حوالے سے اب تک کی صورتحال اور وفاق المدارس کی کارکردگی کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ اس دوران مولانا فضل الرحمن اور مولانا سمیع الحق بھی تشریف لے آئے۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی تقریر کچھ طویل ہونے لگی تو شرکاء میں سے بعض حضرات نے تقریر کی طوالت پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہمیں بھی کچھ کہنے کا موقع دیا جائے۔ اس پر قاری صاحب نے اپنی تقریر ختم کر دی اور ارکان شوریٰ سے کہا کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کریں جس کے بعد مختلف دوستوں نے باری باری گفتگو کی جن کی تعداد ایک درجن سے کم نہیں ہوگی۔ ان دوستوں کی گفتگو میں جذبات کا اظہار بھی تھا، اعتراضات و شکوک بھی تھے، گلے شکوے بھی تھے، اور تندی اور تلخی بھی تھی جو ظاہر ہے کہ لال مسجد کے سانحہ کی سنگینی اور شدت کے باعث فطری بات تھی۔ اس دوران میں قاری محمد حنیف جالندھری نے مولانا سمیع الحق سے عرض کیا کہ آپ بھی کچھ کہہ دیں تو انہوں نے فوری طور پر آمادی کا اظہار نہیں کیا جس کے بعد مولانا فضل الرحمن نے اپنی گفتگو شروع کی جو خاصی فکر انگیز اور طویل تھی۔ ان کی تقریر ابھی جاری تھی کہ مولانا سمیع الحق صاحب خاموشی کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے جسے اخبارات نے ’’بائیکاٹ‘‘ سے تعبیر کر دیا۔ لیکن اسے بائیکاٹ کا عنوان دینے والوں نے یہ نہ سوچا کہ اگر مولانا سمیع الحق نے بائیکاٹ ہی کرنا تھا تو وہ اس میں تنہا نہ ہوتے، اس لیے کہ ان کے تشریف لے جانے کے بعد ان کے بھائی مولانا انوار الحق حقانی آخر وقت تک اجلاس میں شریک رہے اور مولانا سمیع الحق کی جمعیۃ علمائے اسلام کے صوبائی امیر مولانا بشیر احمد شاد نہ صرف یہ کہ اجلاس میں مسلسل شریک رہے بلکہ انہوں نے اجلاس سے خطاب بھی کیا۔ اسے اگر ’’پاکستان‘‘ کے مدیر محترم توتکار اور تلخ کلامی سے تعبیر کرتے ہیں اور بعض اخبار نویس اس پر ’’بائیکاٹ‘‘ کا عنوان قائم کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو یہ ان کی مرضی کی بات ہے، ورنہ اصل واقعہ میں نے عرض کر دیا ہے۔

’’ہاتھاپائی‘‘ کی بات بھی سن لیں۔ اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمن کے ساتھ آئے ہوئے فاٹا کے ایک سینیٹر صاحب نے بھی گفتگو کی اور لال مسجد کے سانحہ کے والے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ظاہر بات ہے کہ جب وہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں بات کر رہے تھے تو ان کا حق تھا کہ وہ جو محسوس کرتے ہیں اس کا دیانت داری کے ساتھ اظہار کریں۔ لیکن ان کی گفتگو کے ایک جملے پر شور مچ گیا اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ اس دوران ایک صاحب انتہائی غصے کے عالم میں ان کا گریبان پکڑنے کے لیے آگے بڑھے تو دوسرے حضرات نے درمیان میں آ کر انہیں روک دیا اور سینیٹر صاحب نے اپنے الفاظ واپس لے لیے۔ انہوں نے جو کہا تھا، اس پر مجھے بھی اعتراض تھا لیکن میں اسے شورائی مزاج کے خلاف سمجھتا ہوں کہ مجلس شوریٰ میں کسی مسئلے پر بحث کے دوران میں کسی شخص کو اپنی رائے اور احساسات کے اظہار سے روکا جائے۔ بہرحال جو کچھ ہوا، اتنا ہی ہوا جسے ’’پاکستان‘‘ کے مدیر محترم نے علمائے کرام کے درمیان ہاتھاپائی قرار دیا ہے اور اس پر ملک بھر کے علمائے کرام کو جھاڑ بھی پلا دی ہے۔

اس کے ساتھ یہ عرض کرنا بھی مناسب سمجھتا ہوں کہ مجلس شوریٰ کے اجلاس میں ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ لال مسجد کے سانحہ کے حوالے سے وفاق المدارس کی قیادت کے کردار پر دوستوں کے تحفظات تھے اور اشکالات تھے جن کا اظہار ان کا حق تھا اور سانحہ کی سنگینی کے باعث ان میں شدت کا پیدا ہو جانا فطری بات تھی، مگر امر واقعہ یہ ہے کہ وہ کچھ نہیں ہوا جس کا اخبارات میں دو تین روز تک ڈھنڈورا پیٹا جاتا رہا اور جسے بنیاد بنا کر مدیر محترم نے ’’پاکستان‘‘ کا مذکورہ ادارتی نوٹ تحریر فرمایا ہے۔

وفاق کی کارکردگی کے بارے میں خود وفاق میں شامل دوستوں کی شکایات اور تحفظات دو طرفہ ہیں:

  • بعض دوستوں کا کہنا ہے کہ وفاق المدارس ایک تعلیمی اور امتحانی بورڈ ہے جسے اپنی سرگرمیاں صرف اس دائرے میں محدود رکھنی چاہئیں اور اس سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ایک دوست نے مجلس شوریٰ کے اجلاس میں وفاق المدارس کے دستور کی ایک شق کا حوالہ دیا کہ ’’وفاق المدارس کسی قسم کی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا۔ ‘‘ ان کا کہنا ہے کہ وفاق کو تحریکی یا سیاسی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے اور انہیں اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ وفاق المدارس نے سپریم کورٹ میں لال مسجد کے خلاف آپریشن کے قانونی جواز کو چیلنج کیوں کیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ اقدام وفاق کی حدودکار سے تجاوز ہے۔
  • جبکہ دوسری طرف بعض دوستوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ وفاق کو باقاعدہ حکومت کے خلاف تحریک کی کال دے کر ملک بھر کے طلبہ اور عوام کو سڑکوں پر لانا چاہیے بلکہ حکومت کے خلاف اعلان جہاد کرنا چاہیے۔

وفاق المدارس کی قیادت ان دو انتہاؤں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ وفاق کو تحریکی اور سیاسی کردار سے الگ رکھنے کے خواہش مند دوست بھی وفاق کا حصہ ہیں اور وفاق المدارس سے تحریک اور جہاد کے اعلان کا مطالبہ کرنے والے حضرات بھی وفاق کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ وفاق المدارس ان دونوں میں سے کسی بازو سے محروم نہیں ہونا چاہتا اور دونوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے، اسی لیے اس نے اعتدال اور توازن کا دامن تھاما ہوا ہے۔

گزشتہ روز علمائے کرام کی ایک مجلس میں مجھ سے سوال ہوا کہ آپ کا ذاتی نقطہ نظر کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں درمیان والوں میں سے ہوں۔ میرے نزدیک یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ وفاق المدارس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا رہے اور دوسری دینی جماعتوں کی طرح خود کچھ نہ کرتے ہوئے محض دوسروں پر طعن و اعتراض کو اپنا وطیرہ بنائے رکھے، اور یہ بات بھی قطعی طور پر درست نہیں ہوگی کہ وفاق بغیر سوچے سمجھے تحریک کی کال دے اور ملک بھر کے اساتذہ اور طلبہ کو سڑکوں پر لا کر کسی عوامی تحریک کا پرچم اٹھا لے۔

  • وفاق المدارس کا اصل کردار تعلیمی اور امتحانی امور تک محدود ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے جداگانہ تعلیمی تشخص اور آزادانہ کردار کا تحفظ بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے اور وفاق نے اس کے لیے خاصی جدوجہد کی ہے۔ اس لیے جہاں مدارس کے خلاف عالمی استعمار کی یلغار اور مدارس کے تعلیمی اور دینی کردار کو محدود کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کا مسئلہ ہوگا یا کسی دینی مدرسہ کے خلاف کسی نوعیت کے ایکشن کی بات ہوگی، وہاں وفاق المدارس کو اپنے دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔
  • البتہ کسی مسئلہ پر عوامی تحریک کو منظم کرنا، لوگوں کو سڑکوں پر لانا اور کسی حکومت کے خلاف سیاسی انداز کی جدوجہد کرنا بہرحال وفاق المدارس کا کام نہیں ہے۔ اس کے لیے دینی و سیاسی جماعتیں موجود ہیں، یہ انہی کا کام ہے۔ آخر جمعیۃ علمائے اسلام، کالعدم سپاہ صحابہ، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دوسری بہت سی دینی جماعتیں کس مرض کا علاج ہیں کہ ان کی موجودگی میں وفاق المدارس کو تحریکی کردار ادا نہ کرنے پر مسلسل کوسا جا رہا ہے؟