دینی مدارس کی اسناد: ایک پہلو یہ بھی ہے

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ جولائی۲۰۰۳ء

میرے والد محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث کر کے ۱۹۴۳ء میں گکھڑ (ضلع گوجرانوالہ) آئے اور تب سے یہیں ہیں۔ وہ یہ واقعہ خود سناتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی بار انتخابات کا مرحلہ آیا اور ووٹروں کی فہرستیں مرتب ہوئیں تو ان کا نام ووٹر لسٹ میں نہیں تھا۔ پوچھا گیا تو پتہ چلا کہ چونکہ آپ سرکاری قانون کی رو سے اَن پڑھ (ناخواندہ) ہیں اور انتخابی قواعد کی رو سے ووٹ دینے کے لیے پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے، اس لیے آپ کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس زمانے میں ’’پڑھا لکھا‘‘ متصور ہونے کے لیے پرائمری سطح کی سکول کی تعلیم شرط تھی۔

حضرت والد صاحب نے کسی پرائمری سکول سے یہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور ان کے پاس کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں تھا، اس لیے ان کا شمار اس دور میں اَن پڑھوں میں ہوتا تھا، جبکہ وہ اس وقت تک نصف درجن کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف ہو چکے تھے، ان کا تدریسی تجربہ دس سال سے تجاوز کر چکا تھا اور سینکڑوں حضرات ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کر چکے تھے، جن میں صدر پاکستان جسٹس محمد رفیق تارڑ، آئی جی ریلوے پولیس احمد نسیم چودھری، اور بریگیڈیئر (ر) محمد علی چغتائی جیسے جدید تعلیم یافتہ حضرات بھی شامل ہیں۔ مگر ان سب کا استاذ ہونے کے باوجود حضرت شیخ الحدیث مدظلہ کا شمار سرکاری کاغذات میں تعلیم یافتہ حضرات کی فہرست میں نہیں ہوتا تھا اور ان کا نام صرف اس وجہ سے پاکستان کے اولین انتخابات کی ووٹر لسٹ میں نہیں تھا کہ وہ پرائمری پاس نہیں تھے۔

یہ انگریز کے قانون اور نظام کے اثرات تھے جو قیام پاکستان کے بعد بھی ہمارے سسٹم میں باقی رہے اور اب تک باقی چلے آرہے ہیں۔ دینی مدارس کی اسناد کو سرکاری سطح پر تسلیم کرانے کی مہم ۱۹۷۳ء میں شروع ہوئی جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے، جو قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے پارلیمانی گروپ کے لیڈر اور متحدہ حزب اختلاف کے قائد ہونے کے ساتھ ساتھ دیوبندی مکتب فکر کے دینی مدارس کے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل بھی تھے، جمعیت کے حلقوں میں اس بات پر صلاح مشورہ کیا کہ قومی اسمبلی میں اس نوعیت کی قرارداد آنی چاہیے کہ جس میں سفارش کی گئی ہو کہ دینی مدارس کی اعلیٰ سند کو ایم اے اسلامیات کے برابر تسلیم کیا جائے، کیونکہ سرکاری یونیورسٹیوں میں ایم اے اسلامیات کے لیے جو نصاب پڑھایا جاتا ہے، ہمارے ہاں کا نصاب اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے اور معیار بھی اس سے بلند تر ہے، اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ دینی مدارس کے فضلاء کو ایم اے اسلامیات کے مساوی تسلیم نہ کیا جائے۔

ایک مرحلہ میں اس مشورہ میں مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ میری رائے اس سے مختلف تھی۔ میں نے گزارش کی کہ فاضل درس نظامی کو براہ راست ایم اے کا درجہ دلوانے کے بجائے اگر آپ اسے اسلامیات یا عربی میں کسی یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان دینے کا حق دلا سکیں تو یہ زیادہ بہتر ہوگا، مگر حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اس رائے سے اتفاق نہ کیا اور اس بات کی کوشش شروع ہو گئی کہ قومی اسمبلی سے اس مقصد کے لیے سفارش کی قرارداد منظور کرائی جائے۔ مشورہ میں ایک موقع پر یہ بات بھی آئی کہ ہم تو قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بنچوں پر بیٹھے ہیں، یہ قرارداد غیر سرکاری طور پر کسی ممبر کی طرف سے پرائیویٹ تحریک کی صورت میں آ سکتی ہے، لیکن اس کے لیے سرکاری بنچوں میں بھی کوئی حمایت تلاش کرنی چاہیے تاکہ اس کی منظوری میں آسانی ہوجائے۔

مجھے یاد ہے کہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ نے، جو اس وقت جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی ناظم تھے، میرے ذمے لگایا کہ میں گوجرانوالہ سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے میاں منظور حسن مرحوم سے بات کروں۔ میاں منظور حسن مرحوم گوجرانوالہ کے سینئر وکلاء میں سے تھے۔ پرانے مسلم لیگی تھے، مقامی سیاست کی دھڑے بندی کی وجہ سے انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا اور بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ تحریک ختم نبوت میں سرگرم کردار ادا کر چکے تھے۔ دین کے ساتھ محبت رکھتے تھے، نمازی آدمی تھے، علماء کا احترام کرتے تھے اور گوجرانوالہ میں ختم نبوت یا کسی اور دینی حوالے سے علمائے کرام کے خلاف کوئی کیس بنتا تھا تو اس کی پیروی میاں صاحب مرحوم بلا معاوضہ کیا کرتے تھے۔ میرے بھی ایک دو کیس اس زمانے میں میاں صاحب مرحوم نے لڑے تھے۔ میں نے ان سے بات کی تو بہت خوش ہوئے کہ اس سلسلہ میں علماء کے حلقوں نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور وہ اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔ میں نے حضرت مولانا مفتی محمودؒ سے گزارش کی کہ وہ اجلاس کے موقع پر میاں منظور حسن سے اپنے طور پر بھی بات کر لیں، وہ قرارداد کی منظوری میں تعاون کریں گے۔ چنانچہ میری یادداشت کے مطابق یہ قرارداد قومی اسمبلی میں حضرت مولانا عبد الحکیم ایم این اے کی طرف سے آئی، میاں منظور حسن نے اس پر بڑی خوبصورت تائیدی تقریر کی اور قومی اسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے سے حکومت سے سفارش کر دی کہ فضلائے درس نظامی کی آخری سند کو ایم اے کے برابر تسلیم کیا جائے۔

یہ ۱۹۷۳ء کی بات ہے جب جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم قومی اسمبلی میں قائد ایوان تھے اور اس طرح قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کار خیر کی سعادت بھی ان کے حصے میں آئی کہ ان کی قیادت میں قومی اسمبلی کے ایوان نے دینی مدارس کی سند کو سرکاری سطح پر تسلیم کرنے کی باقاعدہ سفارش کی۔ اس کے بعد یہ مسئلہ ’’یونیورسٹی گرانٹس کمیشن‘‘ کے پاس آیا جو اس سلسلہ میں مجاز اتھارٹی ہے۔ کئی برس تک گفتگو، عرضداشتوں اور وضاحتوں کا معاملہ چلتا رہا اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور دیگر وفاقوں کے ساتھ طویل گفت و شنید اور بحث و تمحیص کے بعد یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے دینی مدارس کے نصاب کی درجہ بندی کرا کے ان کی مختلف سندات کو میٹرک، ایف اے، بی اے اور ایم اے کے برابر قرار دینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کی بنیاد پر مختلف یونیورسٹیوں میں بہت سے فضلاء نے ایم فل، پی ایچ ڈی اور دیگر امتحانات کی طرف پیشرفت کی اور ڈگریاں حاصل کر کے متعدد شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

اس پس منظر میں جب گزشتہ انتخابات کے موقع پر یہ مسئلہ پیش آیا کہ صدر پرویز مشرف نے ایل ایف او کے تحت الیکشن لڑنے کے لیے بی اے کی شرط کو لازمی قرار دے دیا ہے تو کیا دینی مدارس کے فضلاء اس الیکشن میں حصہ لے سکیں گے؟ چیف الیکشن کمیشن نے اس سلسلے میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے باضابطہ دریافت کیا کہ کیا یونیورسٹی گرانٹس کمیشن دینی مدارس کی اسناد کو تسلیم کرتا ہے، تو یو جی سی نے الیکشن کمیشن کے جواب میں واضح طور پر کہا کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی اعلیٰ اسناد کو ایم اے کے برابر تسلیم کیا گیا ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے درس نظامی کے فضلاء کو گریجویٹ تسلیم کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔

لیکن اب یہ نیا مسئلہ کھڑا کر دیا گیا ہے کہ درس نظامی کے فضلاء کی سند کو صرف تعلیمی مقاصد کے لیے تسلیم کیا گیا ہے اور ان اسناد کو کسی دوسرے شعبے میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اس سلسلے میں مجاز ادارہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن ہے جس نے چیف الیکشن کمشنر کے استفسار پر کہا کہ دینی مدارس کے فضلاء کی اعلیٰ اسناد کو ایم اے عربی اور ایم اے اسلامیات کے برابر تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر یہ اسناد صرف تعلیمی شعبہ کے لیے کارآمد ہیں اور الیکشن کے مقاصد کے لیے انہیں تسلیم نہیں کیا گیا تو یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر کے استفسار کے جواب میں یہ واضح کیوں نہیں کیا کہ جناب! یہ اسناد آپ کے کام کی نہیں ہیں؟ اور پھر جب الیکشن کمیشن نے الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی اور سینکڑوں علماء نے اس سند کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیا تو یہ سب کچھ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا، اس نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا؟ اور اب جبکہ ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ ملک کے بنیادی مسائل پر سرکار کے ایجنڈے کو قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی تو اس پر سیاسی دباؤ کے لیے یا اسے بالآخر میدان سے ’’آؤٹ‘‘ کرنے کے لیے یہ سوال کیوں کھڑا کر دیا گیا ہے؟

یہ یقیناً متحدہ مجلس عمل کو سیاسی دباؤ میں رکھنے یا علمائے کرام کو قومی سیاست سے آؤٹ کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے، لیکن میرے خیال میں اس کا ایک اور پہلو بھی ہے جس کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ دینی مدارس کے تمام وفاق اس سلسلے میں اب تک متفقہ اور مشترکہ موقف کے طور پر دینی مدارس کے معاملات میں سرکاری مداخلت کی تجاویز کو مسترد کر رہے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ اگر دینی مدارس کے یہ وفاق اپنے موقف پر قائم رہتے ہیں اور ان کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوتی تو دینی مدارس کے نظام و نصاب کی اصلاح کے لیے کروڑوں ڈالر کی جو امداد امریکہ بہادر نے دی ہے، اس کا مصرف کیا ہو گا؟ اور دینی مدارس کے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، اور شیعہ وفاقوں کے مضبوط موقف اور اتحاد کی موجودگی میں دینی مدارس کی کتنی تعداد کو ڈالروں کا لالچ دے کر سرکاری کیمپ میں شامل کرنے کے لیے توڑا جا سکے گا؟

میرا خیال ہے کہ اس خریدوفروخت کی راہ ہموار کرنے کے لیے وفاقوں کو غیر مؤثر کرنا ضروری سمجھا گیا ہے اور اس کی یہ صورت زیادہ بہتر تصور کی گئی ہے کہ چونکہ ان اسناد کو سرکاری طور پر تسلیم کیے جانے کی وجہ سے دینی مدارس کی ایک بڑی تعداد ان وفاقوں سے وابستہ ہے، اس لیے اس وجہ کو ختم کیا جائے۔ اور دینی مدارس کی اسناد کو تسلیم کیے جانے کے عمل کو ہی سبوتاژ کر دیا جائے تاکہ مدارس پر وفاقوں کی گرفت ڈھیلی ہو اور انہیں امریکی ڈالروں کے جال میں آسانی کے ساتھ پھانسا جا سکے۔ بہرحال جو صورت بھی ہو، یہ وہی حربہ ہے جو انگریزوں نے اپنے دور میں علمائے کرام کو معاشرتی طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے انہیں تعلیم یافتہ تسلیم نہ کر کے اختیار کیا تھا اور اب اسی فارمولے کے مطابق علمائے کرام سے تعلیم یافتہ ہونے کا ٹائٹل واپس لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہمارا خیال ہے کہ اگر دینی مدارس کے وفاق اپنے موقف پر قائم رہے اور ان میں رخنہ ڈالنے کی کوئی کوشش آگے نہ بڑھی تو پہلے کی طرح یہ بحران بھی بالآخر ان کی کامیابی پر ہی ان شاء اللہ العزیز منتج ہوگا، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وفاقوں کا باہمی رابطہ و مشاورت مسلسل جاری رہے، وہ اپنے موقف سے رائے عامہ اور خاص طور پر دینی مدارس کے منتظمین و معاونین کو آگاہ کرتے رہیں اور ملک کی دینی قیادت کو ہر مرحلہ پر اعتماد میں لے کر ان کے مشوروں سے اپنی حکمت عملی اور پروگرام وضع کریں۔