نفاذ شریعت کے لیے جامعہ حفصہ کا اقدام

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ فروری ۲۰۰۷ء

۲۰ فروری کو راولپنڈی پہنچ کر سواں کیمپ کے ہمراہی ٹریول کے اڈے سے جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر کے لیے ٹیکسی پر جا رہا تھا کہ گوجرانوالہ سے ہمارے ایک صحافی دوست طاہر قیوم چودھری نے موبائل فون پر بتایا کہ صوبائی وزیر ظل ہما عثمان کو گوجرانوالہ میں کھلی کچہری کے دوران میں گولی مار دی گئی ہے اور انہیں انتہائی نازک حالت میں لاہور لے جایا گیا ہے۔ اس وقت اس سے زیادہ خبر نہ ملی، بہت پریشانی ہوئی اور اسی پریشانی کے عالم میں جامعہ اسلامیہ پہنچا جہاں مولانا قاری سعید الرحمن اور دیگر احباب منتظر تھے، ان کے ساتھ جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات کی طرف سے سرکاری لائبریری پر قبضے کے تسلسل سے پیدا ہونے والی صورتحال پر گفتگو کے لیے میں نے یہ سفر اختیار کیا تھا۔

جامعہ حفصہ للبنات اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا عبد اللہ شہیدؒ کا قائم کردہ طالبات کا دینی مدرسہ ہے جہاں کم و بیش چھ ہزار کے لگ بھگ طالبات درس نظامی کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ طالبات کے مدارس میں ملک کا سب سے بڑا مدرسہ شمار ہوتا ہے جس کے مہتمم مولانا عبد اللہ شہیدؒ کے فرزند و جانشین مولانا عبد العزیز ہیں جو اپنے بھائی مولانا عبد الرشید غازی کے ساتھ مل کر جامعہ حفصہ کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے ایک اور بڑے دینی مدرسے جامعہ فریدیہ کا انتظام بھی چلا رہے ہیں۔ ان بھائیوں کو اللہ تعالیٰ نے تحریکی ذوق بھی خوب عطا کر رکھا ہے اور اس پس منظر میں وہ مختلف مواقع پر آزمائشوں کا سامنا بھی کر چکے ہیں، ان کی تمنا اور آرزو یہ ہے کہ پاکستان میں جس قدر جلد ممکن ہو، اسلامی نظام مکمل طور پر نافذ ہو جائے اور اس کے لیے وہ ہمہ وقت کسی بھی آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

کم و بیش ایک ماہ قبل اسلام آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے مسجد امیر حمزہ کو غیر قانونی قرار دے کر شہید کر دیا اور ایک دوسری مسجد کی شہادت کی کارروائی شروع کی، جبکہ بعض دیگر مساجد کو مسمار کرنے کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ اس پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے علماء کرام نے سخت ردعمل کا اظہار کیا اور مسجد گرائے جانے کے دوسرے روز سینکڑوں علماء کرام مسجد امیر حمزہ کے ملبے پر جمع ہو گئے، وہاں ملبے پر نماز باجماعت ادا کی اور مسجد کو دوبارہ تعمیر نو کرنے کے لیے آپس میں چندہ کر کے تعمیر نو کا اعلان کر دیا۔ ان علماء کرام کا موقف یہ تھا کہ یہ مسجد قدیم دور سے چلی آ رہی ہے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے بارے میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا موقف درست نہیں ہے، اس لیے شرعاً اس مسجد کی اسی جگہ دوبارہ تعمیر ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے سی ڈی اے کے اقدام کو مسترد کرتے ہوئے مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پر سی ڈی اے اور علماء کرام کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، مگر اسی دوران میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کے ساتھ واقع ایک سرکاری لائبریری پر، جو بچوں کے لیے ایک عرصہ سے قائم ہے، قبضہ کر لیا اور مولانا عبد العزیز کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ یہ قبضہ احتجاجی طور پر کیا گیا ہے اور جب تک گرائی جانے والی مسجد دوبارہ تعمیر نہیں کی جاتی اور جن دیگر مساجد کو گرانے کے نوٹس دیے گئے ہیں وہ واپس نہیں لیے جاتے، چلڈرن لائبریری کا قبضہ واگزار نہیں کیا جائے گا۔

نوجوان باپردہ طالبات کی ڈنڈا بردار فورس نے لائبریری کا کنٹرول سنبھال لیا اور اسے آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا، اس پر حکومتی حلقے اور اعلیٰ انتظامی افسران حرکت میں آئے اور بظاہر یہ صورت نظر آنے لگی کہ حکومت بہرحال اس قبضے کو ختم کرانے کے لیے اقدام کرے گی، جبکہ اس کی مزاحمت طالبات کی طرف سے ہو گی جو ہزاروں کی تعداد میں جامعہ حفصہ کے ہاسٹل میں موجود ہیں، اس طرح تصادم کی ایک افسوسناک صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ طالبات کی طرف سے اپنے مطالبات میں اسلامی نظام کے مکمل اور فوری نفاذ کو شامل کر نے سے اس تحریک کو ملک گیر شکل مل گئی۔ مولانا عبد العزیز کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں سے دینی مدارس کے طلبہ اور دینی کارکنوں نے مرکزی جامع مسجد اسلام آباد کا رخ کرنا شروع کیا اور ہزاروں افراد وہاں جمع ہوگئے۔

جہاں تک اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کے بارے میں جامعہ حفصہ کی طالبات کے موقف کا تعلق ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے کی بات ہے، اس سے ملک بھر کے دینی حلقوں نے اصولی طور پر اتفاق کا اظہار کیا، لیکن وفاقی دارالحکومت میں سرکاری فورسز کے ساتھ دینی کارکنوں، طلبہ، بالخصوص طالبات کے تصادم کے جو امکانات واضح نظر آنے لگے تھے، ان سے ملک بھر میں پریشانی اور اضطراب کا پیدا ہونا بھی ایک فطری امر تھا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء کرام نے حکومتی حلقوں سے مذاکرات کے ذریعے سے اس مسئلے کو حل کرانے کی مقدور بھر کوشش کی اور مساجد کی حد تک حکومت سے اپنا موقف منوانے میں کامیاب بھی ہوگئے۔ مسجد امیر حمزہ کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کر کے وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے علماء کرام اور پریس کی موجودگی میں اس کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا، جبکہ دیگر مساجد کے لیے سرکردہ علماء کرام کے ساتھ انتظامیہ اور سی ڈی اے کے اشتراک سے ایک کمیٹی کے جناب محمد اعجاز الحق کے علاوہ وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ سے طویل مذاکرات ہوئے اور سرکردہ علماء کرام کے ایک وفد نے وزیر اعظم جناب شوکت عزیز سے بھی ملاقات کی۔ اس طرح اسلام آباد کی مساجد کی حد تک وہاں کے علماء کرام کی منشا کے مطابق مسئلہ اصولی طور پر حل ہو گیا جو بلاشبہ جامعہ حفصہ کی طالبات کی جدوجہد کا ایک اچھا ثمر ہے۔

اس دوران میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت اسلام آباد آئی اور مولانا سلیم اللہ خان، مولانا حسن جان، مولانا تقی عثمانی، مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا قاری سعید الرحمن، مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ اور مولانا انوار الحق حقانی سمیت سرکردہ علماء کرام نے اس مسئلے کو حل کرانے میں سرگرم کردار ادا کیا، لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسئلے کے حل میں یہ رکاوٹ موجود رہی جو تادم تحریر اب بھی موجود ہے، کہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے دوسرے مطالبات کی منظوری تک، جن میں اسلامی نظام کا مکمل اور فوری نفاذ سر فہرست ہے، سرکاری لائبریری پر قبضہ واگزار کرنے سے انکار کر دیا۔ جبکہ مولانا عبد العزیز اس بات پر مصر چلے آ رہے ہیں کہ ملک میں مکمل شرعی نظام کے نفاذ تک وہ اس ماحول کو ختم نہیں کریں گے جسے سنجیدہ حلقے سرکاری فورسز کے ساتھ دینی کارکنوں اور طالبات کے تصادم کے شدید خطرے کا باعث سمجھ رہے ہیں۔ یہ بات ظاہر ہے کہ باشعور دینی حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔

اس پس منظر میں مولانا قاری سعید الرحمن کے پاس برادرم مولانا عبد الحق خان بشیر امیر پاکستان شریعت کونسل پنجاب، مولانا احسان اللہ فاروقی اور حاجی جمال دین کے ہمراہ حاضری ہوئی تاکہ صورتحال معلوم کر سکیں۔ مولانا قاری سعید الرحمن کے علاوہ ہم نے ان مذاکرات اورتگ ودو میں شریک ایک اور بزرگ مولانا عزیز الرحمن ہزاروی سے بھی ملاقات کی اور ان سے اس حوالے سے معلومات حاصل کیں۔ ان دونوں بزرگوں کے ساتھ ہم بھی اس بات سے پوری طرح متفق ہیں کہ جہاں تک اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبے کا تعلق ہے، وہ ہم سب کا متفقہ مطالبہ ہے، بلکہ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد ہے اور دستور پاکستان نے اس کی گارنٹی دے رکھی ہے۔ لیکن اس کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینا اور سرکاری فورسز کے ساتھ تصادم کی صورت اختیار کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ جامعہ حفصہ اسلام آباد کی طالبات اور انتظامیہ کو اس سلسلے میں حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا عبدالرزاق اسکندر اور حضرت مولانا شیر علی شاہ صاحب جیسے بزرگ اکابر کی اپیل قبول کرتے ہوئے سرکاری لائبریری کا قبضہ واگزار کر دینا چاہیے اور تصادم و محاذ آرائی کا ماحول ختم کر کے مذاکرات اور عوامی جدوجہد کے ذریعے سے اس سلسلے میں مزید پیشرفت کرنی چاہیے، کیونکہ بہرحال حکمت و دانش کا تقاضا یہی ہے۔

اسی دوران میں یہ خبر ملی کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون صوبائی وزیر ظل ہما عثمان، جنہیں قاتلانہ حملے کے بعد لاہور لے جایا گیا تھا، جان بحق ہو گئی ہیں اور ان کو قتل کرنے والا شخص پکڑا گیا ہے جس نے برملا طور پر یہ کہا ہے کہ اس نے خاتون صوبائی وزیر کو اس لیے قتل کیا ہے کہ وہ عورت کی حکمرانی کو جائز نہیں سمجھتا اور اس طرح بے پردہ پھرنے کو پسند نہیں کرتا، اس لیے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اس سے اسلام آباد کے حالات سے ذہن میں پیدا ہونے والی تشویش دوچند ہو گئی کہ اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے ملک کے اندر اس طرح تصادم کا ماحول پیدا کرنے اور قوت استعمال کرنے کا رجحان ہمارے ہاں کیا کیا گل کھلا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اس ملک اور قوم کی حفاظت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

یہ صاحب اس سے قبل بدکاری کے الزام میں کئی عورتوں کو قتل کر چکے ہیں اور اس کا اعلان ہے کہ وہ آئندہ بھی اس طرح بے ہودہ عورتوں کو قتل کرتا رہے گا۔ اس طرز عمل کو جنون اور نفسیاتی مرض کے سوا کسی اور عنوان سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کسی طرح بھی اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ کوئی شخص شریعت کے خلاف ہونے والے کسی عمل پر خود فیصلہ کرنے بیٹھ جائے اور ہتھیار اٹھا کر لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دے۔ احتجاج کی حد تک جذبات کے اظہار کے لیے معروف طریقے سے کوئی قدم اٹھانے کی بات الگ ہے کہ اس کی ہر مہذب ملک میں آج بھی گنجائش اور جواز موجود ہے، لیکن کسی کو جان کو خطرے میں ڈالنا، قتل کرنا، زخمی کرنا اور قانون کو ہاتھ میں لے لینا کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔ مرحومہ ظل ہما عثمان بے پردگی کی کس حد تک مرتکب تھیں، یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور اس پر بحث کی گنجائش موجود ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے کہیں آگے کے مرحلے کے لیے ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ جناب نبی کریمؐ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو عین بدکاری کی حالت میں دیکھے تو کیا وہ اسے قتل نہیں کرے گا؟ نبی کریمؐ نے اسے ایسی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور قانون کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔

بہرحال اسلام آباد میں اسلامی نظام کے لیے سرکاری فورسز کے ساتھ تصادم کا ماحول ہو یا گوجرانوالہ میں خاتون صوبائی وزیر کا بے پردگی کے عنوان سے قتل کا افسوسناک سانحہ ہو، اس انتہا پسندی پر افسوس کا اظہار ضروری ہے اور اسے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ جب نفاذ اسلام کے تمام دستوری راستے بند کر دیے گئے ہوں، پیشرفت کے بجائے ’’ریورس گیئر‘‘ کا ماحول قائم کر دیا گیا اور مغربی ثقافت کے فروغ کے لیے تمام ریاستی وسائل استعمال ہو رہے ہوں، وہاں اس قسم کی افسوسناک انتہا پسندی کو جنم لینے سے آخر روکا بھی کیسے جا سکتا ہے؟ یہی اہل دانش و بینش کے لیے غور طلب نکتہ ہے۔