خطوط و مضامین میں اٹھائے گئے اہم نکات پر ایک نظر

   
مجلہ: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۳ء

محترم عطاء الحق قاسمی، محترم انصر رضا، محترم ڈاکٹر عبد الخالق اور محترم آفتاب عروج کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس بحث میں حصہ لیا اور ایک اہم ملی اور قومی مسئلہ پر اپنے خیالات و ارشادات کے ساتھ ہماری راہنمائی فرمائی۔ ان میں سے بہت سے اہم امور پر گزشتہ گزارشات میں ضروری بات ہو چکی ہے البتہ کچھ نکات پر اظہار خیال کی گنجائش موجود ہے جن کے بارے میں چند معروضات پیش کی جا رہی ہیں۔

محترم عطاء الحق قاسمی سے صرف یہ شکایت ہے کہ انہوں نے غریبی دعویٰ میں دونوں طبقات کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا ہے حالانکہ ایک طرف عصری نظام تعلیم کی پشت پر پوری ریاستی مشینری اور وسائل چلے آرہے ہیں اور دوسری طرف دینی مدارس کا سارا نظام زکوٰۃ و صدقات، چرم ہائے قربانی اور عوامی چندہ پر چلتا ہے۔ اس کے باوجود یہ دونوں غریبی دعوے میں محترم قاسمی کی نظر میں برابر ہیں تو.........۔

ڈاکٹر عبد الخالق صاحب نے فرمایا ہے کہ دینی مدارس نے عام دینی تعلیم تو دی ہے مگر ماہرین پیدا نہیں کیے۔ میرا خیال ہے کہ علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا مناظر احسن گیلانیؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا حمید الدین فراہیؒ، مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ، مولانا غلام محمد گھوٹویؒ، پیر سید مہر علی شاہ گولڑویؒ بلکہ غیر روایتی حلقوں کے حوالہ سے مولانا شبلی نعمانیؒ، مولانا ابو الکلام آزادؒ، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒ، مولانا امین احسن اصلاحیؒ اور ان جیسے بیسیوں شہرۂ آفاق علماء انہی دینی مدارس کی پیداوار ہیں جن کی علمی مہارت اور خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر صاحب محترم کی معلومات اس سے مختلف ہوں تو ہم ان کے اظہار کا خیرمقدم کریں گے۔

آفتاب عروج صاحب نے میری اس گزارش کو رد کیا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے بعد قوم تعلیمی اور فکری حوالہ سے دو طبقات میں تقسیم ہو گئی تھی۔ وہ فرماتے ہیں: ’’زاہد الراشدی صاحب کا ۱۸۵۷ء سے دو طبقات کا مفروضہ تاریخ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔‘‘ مگر اسی مضمون میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ : ’’روایتی سیاسی و مذہبی قیادت اور سر سید احمد خان کی فکر و حکمت عملی میں تضاد کی خلیج پیدا ہو گئی۔‘‘ اور پھر وہ اپنے مکتوب گرامی میں یہ مشورہ بھی دے رہے ہیں کہ ’’ہمیں مسڑ اور ملا کی تخصیص ختم کر دینی چاہیے۔‘‘ میرا خیال ہے کہ اس کے بعد مجھے اپنا موقف دہرانے اور اس کی مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

آفتاب عروج صاحب نے فرمایا ہے کہ عباسی خلیفہ معتصم باللہ تک مسلمانوں میں سائنسی ترقی اور تحقیق و ریسرچ میں پیشرفت کا دور تھا، اس کے بعد زوال کا آغاز ہو گیا۔ انہیں شکایت ہے کہ مولوی اس سے قبل بھی سائنسدانوں کی صف میں نظر نہیں آتا اور اس کے بعد بھی سائنسی ترقی اور تحقیق و ریسرچ میں اس کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ درست ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ سائنسی ترقی اور اس کے لیے تحقیق و ریسرچ مولوی کے فرائض میں کب شامل تھی اور اس نے کب اس ذمہ داری کو قبول کیا تھا؟ یہ قطعی طور پر غیر منطقی بات ہے۔ ہر قوم میں تقسیم کار ہوتی ہے۔ ہر طبقہ اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور پوری ملی جدوجہد میں مجموعی طور پر شریک سمجھا جاتا ہے۔ ہم تو زوال کا شکار ہیں اس لیے ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جن اقوام نے سائنس میں ترقی کی ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں بالادستی کے باعث وہ ہماری قسمت کی مالک بھی بن بیٹھی ہیں، ان میں بھی سائنس کے شعبے میں صرف سائنس دانوں نے ہی کام کیا ہے۔ اب کوئی شخص یہ کہے کہ برطانیہ میں جتنے سائنس دان گزرے ہیں یا موجود ہیں، ان میں ایک بھی جسٹس نہیں ہے اس لیے برطانیہ کے ججوں کا سائنسی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے تو آفتاب عروج صاحب ہی فرمائیں کہ وہ اس کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے؟

اصل قصہ صرف یہ ہے کہ ہمارے مہربانوں نے تاریخ میں یہ پڑھ رکھا ہے کہ یورپ میں جب سائنسی ترقی اور تحقیق و ریسرچ کا دور شروع ہوا تو عیسائیوں کی مذہبی قیادت نے اس کی مخالفت کی۔ سائنس دانوں کو گمراہ قرار دیا گیا، ان پر فتوے لگائے گئے اور ان میں سے بہت سوں کو گردن زدنی قرار دے دیا گیا۔ ہمارے مہربان دوستوں نے معروضی حقائق کا جائزہ لیے بغیر مسلمانوں کے مولوی کو بھی عیسائیوں کے پادری پر قیاس کر لیا ہے اور لٹھ لے کر اس کے پیچھے دوڑ پڑے ہیں، حالانکہ مولوی غریب نے کبھی سائنس اور اس میں تحقیق و ریسرچ کی مخالفت نہیں کی اور اس کے ثبوت میں دور جانے کے بجائے صرف ایک بات پر غور کر لیا جائے تو بات واضح ہو جائے گی کہ ماضی قریب میں پاکستان کے لیے ایٹمی ٹیکنالوجی کو ضروری قرار دینے اور عالم اسلام کو ایٹمی قوت کے حصول پر ابھارنے میں مختلف حلقوں کی طرف سے اٹھنے والی آوازوں میں سے سب سے بلند آواز مولوی کی تھی اور اس قوت کے تحفظ و بقا کے لیے بھی سب سے زیادہ بلند آہنگی کے ساتھ مولوی ہی آواز اٹھا رہا ہے۔

آفتاب عروج صاحب نے مولوی کے ذمہ اس الزام کو دہرانا بھی ضروری سمجھا ہے کہ اس کی مخالفت کے باوجود پاکستان قائم ہوگیا، اس لیے مولوی نے شکست کھائی ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے عملی میدان سے آؤٹ ہو جانا چاہیے۔ مگر یہ الزام بار بار دہرانے والے دیگر حضرات کی طرح انہوں نے بھی یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی کہ پاکستان کے قیام و حصول میں علامہ اقبالؒ اور قائد اعظمؒ کی جدوجہد کو جو کامیابی حاصل ہوئی تھی، اس میں مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مولانا عبد الحامدؒ پیر آف مانکی شریف اور مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ جیسے بڑے بڑے مولوی ان کے ساتھ شریک تھے اور اس تاریخی حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اگر یہ مولوی تحریک پاکستان کا ہراول دستہ نہ بنتے تو تحریک پاکستان کے عملی نتائج قطعی مختلف ہوتے۔

آفتاب عروج صاحب نے مجھ غریب پر بھی کرم فرمائی کی ہے کہ مولانا زاہد الراشدی کی شدید مخالفت کے باوجود پاکستان بن گیا۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میری تاریخ ولادت ۲۸ اکتوبر ۱۹۴۸ء ہے اور جب قیام پاکستان کی حمایت و مخالفت کے حوالہ سے برصغیر کے طول و عرض میں معرکہ آرائی ہو رہی تھی تو دنیائے وجود میں اس وقت میرا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔

ان گزارشات کے بعد ایک اصولی بات کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں جس کا حوالہ محترم ڈاکٹر عبد الخالق اور محترم آفتاب عروج دونوں نے دیا ہے کہ غلطیاں ہر طرف سے ہوئی ہیں اور کوئی بھی ان سے مبرا نہیں ہے۔ یہ بات سو فیصد درست ہے۔ ہمیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کے اعتراف میں کبھی حجاب نہیں رہا۔ الشریعہ اور اس کے علاوہ روزنامہ پاکستان، روزنامہ اوصاف اور روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والے میرے مضامین کے قارئین گواہ ہیں کہ اپنے حلقہ اور طبقہ کی غلطیوں کی نشاندہی، اعتراف اور اصلاح احوال کی تجاویز سامنے لانے میں ہم نے حتی الوسع گریز نہیں کیا، البتہ یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ ناکردہ گناہ ہمارے سر نہ تھوپے جائیں اور کسی بھی حوالہ سے ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے قبل ہم سے ہمارا موقف ضرور معلوم کر لیا جائے۔ یہ بات قرین انصاف نہیں ہے کہ ہمارے معترضین ہمارا موقف و کردار بھی خود طے کریں، اس پر گواہی بھی اپنی ڈال دیں اور پھر منصف کا منصب سنبھال کر فیصلہ بھی خود ہی صادر فرما دیں۔ ہم اس طرح گردن زدنی قرار پانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ باقی رہی بات مکالمہ اور گفت و شنید کی تو اس کے لیے ہم ہر وقت حاضر ہیں۔ اس کے لیے کوئی الگ فورم قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ مسائل پر اس طرح کھلے دل کے ساتھ مختلف دانشوروں کا اظہار خیال ہی اس کام کے لیے سب سے موزوں فورم ہے۔ ’الشریعہ‘ اس کے لیے اس سے قبل بھی ہمیشہ حاضر رہا ہے اور اب بھی یہ خدمت سرانجام دیتے ہوئے اسے خوشی محسوس ہوگی۔