طالبنائزیشن اور امریکنائزیشن!

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جولائی ۲۰۰۵ء

سرحد اسمبلی نے دو دن کی بحث کے بعد ’’حسبہ بل‘‘ ۳۴ کے مقابلے میں ۶۸ کی اکثریت سے منظور کر لیا ہے، جبکہ وفاقی حکومت نے اسے دستور میں بنیادی حقوق کے بارے میں دی گئی ضمانت کے منافی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر قانون جناب وصی ظفر نے کہا ہے کہ حسبہ بل ملک میں انارکی پھیلانے اور جمہوریت کو ناکام بنانے کا ذریعہ بنا ہے، جسے موجودہ جمہوری حکومت ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ اس کے ساتھ ہی اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ دستور کی دفعہ ۱۸۶ کے مطابق سپریم کورٹ میں اس استفسار کے لیے ریفرنس دائر کرنے کی تیاری کریں کہ کیا سرحد اسمبلی کا منظور کردہ یہ حسبہ بل دستور میں بنیادی حقوق میں دی گئی ضمانت کے منافی تو نہیں ہے؟

حسبہ بل کے حوالے سے بحث ایک عرصہ سے جاری تھی اور اس کے بارے میں حمایت اور مخالفت پر مشتمل تند و تیز بیانات کا سلسلہ چل رہا تھا، اس کشمکش نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور بحث کا میدان اب سپریم کورٹ میں لگے گا، جہاں دونوں طرف کے وکلاء اور دانشور بنیادی حقوق کی دستوری دفعات اور حسبہ بل کی جزئیات کی چھان بین کریں گے، یوں بحث و مباحثے کا نیا بازار گرم ہو گا۔

قیام پاکستان کے بعد سے اب تک سپریم کورٹ نے اسلامائزیشن کے مختلف اقدامات کے حوالے سے جو حتمی فیصلے دے رکھے ہیں ان کا ریکارڈ سامنے رکھتے ہوئے سرحد اسمبلی کے منظور کردہ حسبہ بل کے بارے میں یہ توقع کرنا مشکل ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ماضی کی روایات سے ہٹ کر ہو گا۔ اس لیے نظر یہی آتا ہے کہ قرارداد مقاصد کے دستوری بالادستی اور سودی قوانین کے خاتمے کی طرح یہ حسبہ بل بھی عدالتی آنکھ مچولی کے بعد پاکستان کے ’’دستوری عجائب گھر‘‘ کی نذر ہو جائے گا، اور کاروبار زندگی حسب سابق اسی طرح معمول کے مطابق چلتا رہے گا، جیسے گزشتہ پچپن برس یا اس سے قبل ڈیڑھ دو سو برس تک چلتا آ رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کی صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت اس بل کے ذریعے اپنا ووٹ بینک محفوظ کرنا چاہتی ہے اور وفاقی حکومت پرجوش مخالفت کر کے اپنی ’’بیک‘‘ مضبوط کرنے کی فکر میں ہے۔ اس لیے بعض دانشور دوستوں کے نزدیک یہ محض ایک انتخابی شعبدہ بازی ہے اور ان کے خیال میں کسی کو اس کے بارے میں زیادہ فکر مند ہونے نہیں چاہیے۔ البتہ ہمارے نزدیک یہ بات قابل اطمینان ہے کہ دونوں ٹیموں نے دستوری دائرے میں رہتے ہوئے کھیل کے قواعد و ضوابط کو ملحوظ رکھا ہے۔ سرحد حکومت نے اپنی اننگز صوبائی اسمبلی کی پچ پر کھیلی ہے جو اس کا جائز حق تھا، اور وفاقی حکومت اپنی اننگز سپریم کورٹ میں کھیلنے جا رہی ہے جو اس کا جائز حق ہے باقی ’’اللہ اللہ خیر سلّا‘‘۔

جہاں تک ’’اسلامائزیشن‘‘ کا تعلق ہے اس کے بارے میں اصل صورتحال وہی ہے جو مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ نے بتائی تھی۔ دارالعلوم کراچی کے ترجمان ماہنامہ البلاغ کے ’’مفتی اعظم نمبر‘‘ کے مطابق جس دور میں حضرت مفتی صاحبؒ حکومت کے قائم کردہ ’’تعلیمات اسلامیہ بورڈ‘‘ کے ممبر تھے ۔اس بورڈ کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ ملک میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے کام کرے اور سفارشات مرتب کر کے حکومت کو پیش کرے، اس دوران مفتی صاحب مرحوم نے بورڈ کے سربراہ کو جو غالباً سپریم کورٹ کے جج تھے، کسی مسئلے پر بحث کے موقع یہ کہا کہ ’’قانون سازی کے کام کو اسلام کے رخ پر آپ نہیں چلنے دیتے اور غلط سمت پر میں نہیں چلنے دوں گا۔ نتیجہ یہ ہوگا یہ گاڑی یہیں کھڑی رہے گی۔ ‘‘ چنانچہ گاڑی کھڑی رہی، یہ گاڑی اب تک کھڑی ہے، اس کے دونوں طرف طاقتور انجن لگے ہوئے ہیں، دونوں میں سے کوئی انجن کسی وقت اسٹارٹ ہو کر گاڑی کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش کرتاہے تو دوسری طرف انجن بھی اسٹارٹ ہو جاتا ہے اور اپنی طرف زور لگا کر گاڑی کو جام کر دیتا ہے۔ یہ تنازع دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے علمائے کرام اور عصری درسگاہوں کے تربیت یافتہ قانونی ماہرین اور ارباب سیاست کے درمیان ہے، اور اس کشمکش کے دو بنیادی نکتے ہیں جن میں کسی ایک نکتے پر بھی کوئی فریق لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہے۔

  • ایک نکتہ اختلاف یہ ہے کہ (ایک طرف) علمائے کرام کا موقف یہ ہے کہ چونکہ جدید قانون کے ماہرین قرآن و سنت کی تعلیمات سے کماحقہ بہرہ ور نہیں ہیں، اس لیے انہیں قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں علمائے کرام کی بات کو حتمی سمجھنا ہوگا۔ دوسری طرف عصری قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ علمائے کرام آج کے مروجہ قانونی سسٹم اور قوانین سے واقفیت نہیں رکھتے، اس لیے ان کی رائے کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اس کا آسان حل یہ تھا کہ ملک کے تعلیمی نظام میں تبدیلی کر کے ماہرین قانون کی ایسی کھیپ تیار کی جائے جو جدید قانونی نظام اور تقاضوں سے بھی پوری طرح واقف ہو اور قرآن و سنت کے ضروری علوم میں بھی مہارت رکھتی ہو اور جب تک وہ کھیپ تیار ہو کر معاملات سنبھالنے کی پوزیشن میں نہ آ جائے عارضی طور پر ’’جوائنٹ سسٹم‘‘ کے طور پر دونوں مل کر اس فریضے کو سرانجام دیں۔ اگر پاکستان بننے کے بعد فورًا ایسا ہو جاتا تو اب تک ہم عارضی دور سے گزر کر ایک نئی تیار شدہ کھیپ کی صلاحیتوں سے بہر ور ہو رہے ہوتے۔ مگر فریقین میں کوئی سے بھی اس مقصد کے لیے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہے، نہ عصری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دینی تعلیم کو اس درجہ میں شامل کیا جا رہا ہے کہ قانون کی تعلیم پانے والوں کو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی میں مہارت کا درجہ حاصل ہو جائے، اور نہ ہی دینی مدارس جدید قانون اور تعلیم کی ضروریات سے اپنے فضلاء کو اس سطح پر واقف کرانے کے لیے تیار ہیں کہ وہ جدید قانون اور عصری قانونی سسٹم میں شریک ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ اس لیے گاڑی زیرو پوائنٹ پر کھڑی ہے اور کشمکش جاری ہے۔

  • اس تنازع کا دوسرا اختلافی نکتہ یہ ہے کہ علمائے کرام اس بات پر پوری دلجمعی کے ساتھ قائم ہیں کہ نفاذ اسلام کے لیے قانون سازی کا طریق کار فقہی اصولوں کے اسی دائرے میں رہے گا جو چار یا پانچ فقہی مذاہب کی صورت میں گزشتہ تیرہ سو سال سے چلا آرہا ہے، اور قانون سازی کے جدید اصولوں اور تجربات سے استفادے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جبکہ عصری قانونی ماہرین کا اصرار ہے کہ اسلامی قوانین کی تشکیل نو کے لیے قانون سازی کے جدید اصولوں کو، جن پر بہرحال مغرب کی چھاپ ہے، بنیاد بنایا جائے اور اسلامی احکام و قوانین کو پورے روایتی ڈھانچے کو قانون سازی اور دستور سازی کے جدید مغربی اصولوں کی روشنی میں از سر نو تشکیل دیا جائے۔

    علمائے کرام کے طریق کار اور موقف کو مخالف فریق کی طرف سے ’’طالبانائزیشن‘‘ کا طعنہ دیا جا رہا ہے، جبکہ ایک عالم دین نے جواب آں غزل کے طور پر دوسرے فریق کے موقف اور طریق کار کو ’اسلامی تعلیمات کی ’’امریکنائزیشن‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ بہرحال طالبانائزیشن اور امریکنائزیشن کی یہ کشمکش اب ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے، جب دونوں فریق سپریم کورٹ میں آمنے سامنے کھڑے ہوں گے تو بڑی دلچسپ بحثیں سننے میں آئیں گی، نوک جھونک ہو گی، نکتہ رسی ہو گی، سوال و جواب کے مرحلے ہوں گے، اور اخبارات کو نئی نئی سرخیاں ملیں گی، البتہ یہ تسلی رہے کہ عملاً ہونا ہوانا کچھ بھی نہیں۔

محترم جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب اس سلسلے میں اندر کی بات بتا چکے ہیں۔ وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ ۱۹۵۸ء کے وسط میں مجھے سکندر مرزا (صدر پاکستان) نے کراچی طلب کیا، ان ایام میں معاہدہ بغداد سے وابستہ ممالک کی ہوائی فوج کے چند سربراہ پاکستان آئے ہوئے تھے، شہزادہ علی خان مرحوم اور کیبنٹ لاج بھی کراچی میں موجود تھے، سکندر مرزا نے ایک کھانے پر ان سب سے میری ملاقات کرائی، دوسرے روز مجھے پھر بلوایا گیا، دراصل وہ یہ چاہتے تھے کہ میں کسی نہ کسی صورت میں معاہدہ بغداد کے سیکرٹریٹ سے منسلک ہو کر بغداد چلا جاؤں۔ میں نے کہا میں سات سال وطن سے باہر رہنے کے بعد واپس آیا ہوں، اس لیے فی الحال میری خواہش پاکستان کو خیرباد کہنے کی نہیں ہے، انہوں نے نہایت خلوص سے فرمایا کہ میں تمہیں استعمال کرنا چاہتا ہوں، اگر تمہیں بغداد جانا منظور نہیں تو پھر تمہارا کیا ارادہ ہے؟ میں نے جواب دیا کہ ۱۹۵۶ء کے دستور کے تحت حال ہی میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے کمیشن کا تقرر کا اعلان کیا گیا ہے اگر آپ پسند فرمائیں تو مجھے اس کے ساتھ منسلک کر دیں، ممکن ہے میں اس سلسلے میں کوئی کارآمد خدمت سرانجام دے سکوں۔ یہ سن کر سکندر مرزا ہنس پڑے اور کہنے لگے ’’مگر وہ کمیشن تو محض دکھاوے کے لیے وجود میں لایا گیا ہے، اس کا مقصد دراصل کچھ بھی نہیں کیونکہ نہ تو اسے کوئی کام کرنا ہے اور نہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ کوئی کام کرے۔‘‘

پاکستان میں نفاذ اسلام کی کہانی اتنی ہی ہے، اس سے زیادہ اگر کسی کوئی توقع ہو تو اس کی اس خوش فہمی کا موجودہ اسٹبلیشمنٹ اور سسٹم کے پاس کوئی علاج نہیں ہے۔ اس پر مجھے وہ مشہور کہاوت یاد آرہی ہے کہ دو دوست کھانے کے لیے نچلے درجے کے کسی ہوٹل میں گئے، میز پر بیٹھے کسی بات پر ان کا جھگڑا ہوگیا، اس کشمکش میں ان سے ہوٹل کا گلاس ٹوٹ گیا، دونوں غصے کی حالت میں کھانا کھائے بغیر ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور ہوٹل سے باہر جانے لگے، جب وہ بل وصول کرنے والے کاؤنٹر کے قریب پہنچے تو بیرے نے دور سے آواز لگائی، ’’کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا، چار آنے‘‘۔