لاک ڈاؤن اور مساجد کا مسئلہ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ مارچ ۲۰۲۰ء

دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا ابوالقاسم نعمانی کی طرف سے ایک اپیل سامنے آئی ہے جو انہوں نے کرونا وائرس کے سلسلہ میں بھارتی مسلمانوں سے کی ہے، ہمارے خیال میں وہ بہت متوازن اور قابل عمل ہے، اسے انہی کے الفاظ میں پیش کیا جا رہا ہے:

’’ملک میں کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا شدہ تشویشناک صورتحال کے پیش نظر تمام باشندگان ملک خصوصاً مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمۂ صحت کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی کریں اور وطن عزیز کو اس وبا سے محفوظ رکھنے میں تعاون کریں۔

کرونا وائرس کو لے کر انتظامیہ نے جن مقامات میں لاک ڈاؤن یا جنتا کرفیو نافذ کیا ہے اور بھیڑبھاڑ وغیرہ سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے، ایسے مقامات پر ذمہ داران مساجد کو چاہیے کہ مساجد کو غیر آباد (باجماعت نماز سے محروم) ہونے سے بچانے کے لیے کوئی ایسی حکمت عملی اختیار کریں جس سے قانون کی پاسداری بھی ہو سکے اور مساجد بھی آباد رہیں۔ اور اس کا حل یہ سمجھ میں آتا ہے کہ:

  • جن مقامات میں بھیڑ بھاڑ سے سختی کے ساتھ منع کیا جا رہا ہے وہاں امام، مؤذن اور چند اہل محلہ مسجد میں پانچوں وقت اذان کے ساتھ نماز باجماعت ادا کریں اور دیگر اہل محلہ اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کریں۔
  • اور جہاں ایسی صورتحال نہ ہو، وہاں لوگوں کو چاہیے کہ ضروریات اور وضو سے فارغ ہو کر اور سنتیں گھر میں ادا کر کے جماعت کے وقت مسجد میں آئیں، باہمی فاصلہ سے بیٹھیں اور نماز کے بعد سنتیں گھر جا کر ادا کریں۔
  • ذمہ دارانِ مساجد کو چاہیے کہ مسجد کی صفائی و ستھرائی کا خاص خیال رکھیں۔

ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ کوئی مرض یا وبا اللہ رب العزت کے حکم کے بغیر کسی کو نہیں لگ سکتی اور وبائی چیزیں انسانوں کے گناہوں کا اثر و نتیجہ ہوتی ہیں۔ اس لیے تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنی دینی حالت درست کریں، نمازوں کی پابندی کریں، گناہوں سے پرہیز کریں اور توبہ و استغفار کی کثرت کریں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو توفیق عطا فرمائیں۔‘‘

جبکہ گوجرانوالہ کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے اپنی روایت کو قائم رکھتے ہوئے کرونا وائرس کے مسلسل پھیلاؤ سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورتحال پر غوروخوض کے لیے ۲۵ مارچ کو مرکزی جامع مسجد میں مشترکہ مشاورت کا اہتمام کیا، اس کی رپورٹ حافظ محمد امجد معاویہ کے قلم سے ملاحظہ فرمائیں۔

’’گوجرانوالہ کے تمام مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کا ایک اہم اجلاس آج زیرسرپرستی علامہ زاہد الراشدی، زیر صدارت علامہ خالد حسن مجددی مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ منعقد ہوا جس میں علامہ محمد امین محمدی، پیر نصیر احمد اویسی، علامہ عارف تائبی، مولانا حافظ امجد محمود معاویہ، فرقان عزیز بٹ، حافظ عبد الجبار، سید ظہیر حسین نقوی، مولانا حافظ نصر الدین خان عمر، مولانا فضل ہادی سمیت دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں کورونا وائرس کی وجہ سے ضلع بھر میں پریشان کن صورتحال خصوصاََ مساجد کے متعلق حکومتی، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مختلف جاری کردہ احکامات پر غور کیا گیا۔ بعد ازاں قرآن و سنت کی روشنی میں متفقہ رائے سے طے پایا کہ کورونا وائرس کے متعلق اکابر علماء کرام نے ضلعی انتظامیہ سے ہر ممکن تعاون کیا ہے اور کرتے رہنے کا عزم بھی کیا ہے، تاہم چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔

  1. جمعۃ المبارک سمیت پنجگانہ نمازوں کے متعلق مساجد کی بندش اور نماز باجماعت کو معطل کرنے سے گریز کیا جائے، اس کے علاوہ تمام احتیاطی تدابیر اور احکام و ضوابط پر عمل کیا جائے گا۔ اللہ کو راضی کرنے کے یہ مراکز بھی بند کر دیے گئے تو لوگ امن و سلامتی والی جگہوں سے محروم ہو جائیں گے، جو خداوند کریم کی ناراضگی کی باعث ہے۔ کیونکہ آقائے نامدارؐ اور صحابہ کرامؓ کے ادوار میں بھی کئی قسم کی وبائیں پھوٹتی رہی ہیں مگر مساجد کو بند کرنے کا ذکر نہیں۔
  2. عوام الناس کے لیے کنٹرول ریٹ پر اشیائے خوردونوش کو یقینی بنایا جائے، جو کہ حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے۔
  3. گھریلو چولہا جلانے کے لیے جہاں پر سوئی گیس نایاب ہے ان علاقوں میں ایل پی جی گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
  4. ایسے احکامات سے گریز کیا جائے جس سے روزمرہ کے کام متاثر ہوں، تاہم اگر ضلعی انتظامیہ ضروری سمجھے تو کچھ معاملات کے وقت کا تقرر کر لیا جائے۔
  5. ڈبل سواری پر پابندی کو سختی سے یقینی بنایا جائے مگر اس میں بزرگوں، عمر رسیدہ، معزور افراد، بیماروں کو استثنٰی ہونا چاہیے۔
  6. حکومت کی جانب سے اعلان کردہ امدادی پیکج مبلغ ۳۰۰۰ روپے ضرورت کے مطابق اگرچہ ناکافی ہیں، تاہم اس کو ضرورت مند لوگوں تک پہنچا نے کا صاف و شفاف انتظام کیا جانا چاہیے۔
  7. ڈیلی ویجیز یا دیہاڑی دار طبقہ کی ضروریات کو پورا کرنا حکومت کا حق بنتا ہے، مناسب توجہ فرمانے کی درخواست ہے۔
  8. جبکہ اس موقع پر علماء کرام سے اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مساجد میں صفائی کا خصوصی خیال رکھا جائے، خطبات جمعہ کو مختصر کرنے میں کوئی شرعی عذر نہیں ہے، موجودہ کورونا وائرس جیسی آفات سے نجات کے لیے علماء کرام سے کثرت کے ساتھ دعا و استغفار کی تلقین اور فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھنے کی بھی خصوصی اپیل کی گئی ہے۔‘‘

اس کے علاوہ لاک ڈاؤن کے دوران مساجد کو لاک کرنے اور نماز باجماعت معطل کرنے کے حوالہ سے آج دن بھر سوشل میڈیا اور مختلف مجالس میں بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا اور میں نے چند پہلوؤں کی طرف دوستوں کو بطور خاص توجہ دلائی: جو لوگ مسجد کے ماحول میں رہتے ہیں اور مسجد ہی سے متعلق ہیں وہ نماز باجماعت ادا کریں گے، یا مسجد لاک کر کے انہیں باہر نکال دیا جائے گا؟ ’’صلوا فی بیوتکم‘‘ کہہ کر لوگوں کو نماز گھر میں ادا کرنے کی تلقین درست ہے مگر یہ بھی اذان میں ہی ہوگا۔ کسی گھر میں دو سے زیادہ فیملیاں یا دس بارہ سے زائد افراد رہتے ہیں تو انہیں بھی اکٹھے رہنے میں وہی خطرات و مسائل درپیش ہوں گے جو مسجد میں مختصر سی نماز کے بارے میں بھی بتائے جا رہے ہیں۔ کیا ان لوگوں کو گھر لاک کر کے کہیں اور جانے کا کہا جائے گا، یا پوری احتیاط کے ساتھ معمولات جاری رکھنے کی ہدایت کی جائے گی؟ اتنی سی رعایت مسجد میں رہنے والوں کو بھی دے دینی چاہیے۔

   
Flag Counter