ملکی دفاع کے تقاضے اور قادیانی گروہ کی ہٹ دھرمی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
یکم ستمبر ۲۰۱۳ء

ستمبر کا پہلا عشرہ دفاعِ وطن کے حوالہ سے اہلِ پاکستان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ چھ ستمبر کو ’’یوم دفاعِ پاکستان‘‘ منایا جاتا ہے اور سات ستمبر ’’یوم فضائیہ‘‘ کے عنوان سے موسوم ہے جبکہ اسی روز کو ’’یوم ختمِ نبوت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ 1965ء میں چھ ستمبر کو پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا راستہ روکا تھا اور پاک فوج کے غیور جوانوں نے جان پر کھیل کر بھارتی جرنیلوں کے لاہور میں داخل ہونے کے زعم کو ناکام بنا دیا تھا، جبکہ سات ستمبر کو پاک فضائیہ نے فضائی جنگ میں بھارتی فضائیہ کا جرأتمندانہ سامنا کر کے اس کی فضائی برتری کا غرور توڑ دیا تھا۔ پھر اس کے نو سال بعد پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کا سامان فراہم کیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک خود مختار اور نظریاتی اسلامی ریاست کے طور پر 1947ء میں دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا تھا لیکن اسے ابتداء سے ہی اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں پر مسلسل خطرات کا سامنا ہے اور قوم کے مختلف طبقات دونوں محاذوں پر ملک کے دفاع کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ برطانوی استعمار نے متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر ڈنڈی ماری اور کشمیر کا مسئلہ کھڑا کر کے پاکستان کے لیے سرحدات کے دفاع کے محاذ پر مستقل پریشانی پیدا کر دی۔ اس وقت بھارت کی کشمیر میں ناجائز مداخلت سے پاکستان کے دفاع کو خطرات سامنے آئے تو قومی وحدت کے اظہار کی ضرورت پیش آئی۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا شمار جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام کے راہ نماؤں میں ہوتا تھا جو قیام پاکستان کی مخالف جماعتیں شمار ہوتی تھیں، لیکن ان دونوں بزرگوں کی قیادت میں جمعیۃ علماء ہند اور مجلس احرار اسلام سے وابستہ علماء کرام اور کارکنوں نے پاکستان کے استحکام اور دفاع کی دو ٹوک حمایت کا اعلان کیا اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے لاہور میں مسلم لیگی راہ نما میاں ممتاز دولتانہ مرحوم کی صدارت میں دفاع پاکستان کانفرنس سے تاریخی خطاب کر کے اعلان کیا کہ پاکستان ہمارا وطن ہے اور اس کے تحفظ و دفاع کے لیے ہم سب ایک جان اور متحد ہیں۔ چنانچہ اس وقت اور بعد میں جب بھی ضرورت پڑی پوری قوم نے متحد ہو کر پاکستان کے استحکام اور دفاع کے لیے اتحاد و اتفاق کا بھرپور مظاہرہ کیا حتیٰ کہ 1965ء کی جنگ کے موقع پر قوم کی یک جہتی اور اتحاد کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے حوالہ سے آج بھی ملک کو بیرونی مداخلت اور ڈرون حملوں کی صورت میں شدید خطرات درپیش ہیں جس کے خلاف پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور آل پارٹیز کانفرنس کے اجتماعی موقف کی حد تک تو پوری قوم متفق ہے لیکن ان پر عملدرآمد کے حوالہ سے مقتدر طبقات نے جو دو رُخی پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس نے قومی خود مختاری کو درپیش مشکلات کو اور زیادہ سنگین بنا دیا ہے۔

اسی طرح ملک کے نظریاتی تشخص اور سرحدوں کے دفاع میں بھی قوم نے ہمیشہ اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی تشخص اور نظریاتی سرحدوں کو جن گروہوں کی طرف سے خطرات اور سازشوں کا سامنا ہے ان میں قادیانی گروہ سب سے پیش پیش ہے جو پاکستان کی سالمیت و وحدت اور اس کی اسلامی بنیادوں کے خلاف نہ صرف یہ کہ خود مسلسل سرگرم عمل ہے بلکہ دنیا بھر میں اس کے لیے لابنگ کرتا ہے اور پاکستان دشمن عناصر کے درمیان رابطہ کا ذریعہ اور اُن کے لیے کمین گاہ بنا ہوا ہے۔ پاکستان بننے کے فورًا بعد قادیانی گروہ کے اس وقت کے سربراہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنی جماعت کو اکھنڈ بھارت کا خواب سنایا اور بلوچستان پر قبضہ کر کے اسے قادیانی صوبہ بنانے کی بڑ ہانکی تو مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اس فتنہ اور سازش کے خلاف متحد ہوگئے جس کے نتیجے میں 1953ء کی تحریک ختم نبوت چلی اور تمام مسلمانوں نے یک جان ہو کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے، وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان قادیانی کو برطرف کرنے اور قادیانیوں کو تمام کلیدی عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ مسلمانوں نے بے پناہ قربانیاں دیں، ہزاروں علماء کرام نے گرفتاریاں دیں، ہزاروں کارکنوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کے عوام قادیانیوں اور ان کے بیرونی آقاؤں کے پاکستان کے خلاف عزائم سے پوری طرح آگاہ ہیں اور انہیں ناکام بنانے کے لیے متحد ہیں۔

یہ تحریک مسلسل جاری رہی، حتیٰ کہ 1974ء میں پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے ملک گیر عوامی تحریک کے نتیجے میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی تجویز کے مطابق قادیانیوں کو دستوری طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ پارلیمنٹ کے اس متفقہ دستوری فیصلے میں اس وقت کے وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمودؒ ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ ، مولانا عبد الحقؒ ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ ، چودھری ظہور الٰہی مرحوم، مولانا ظفر احمد انصاریؒ ، اور پروفیسر غفور احمدؒ کا کردار نمایاں تھا، جبکہ عوامی تحریک کے محاذ پر مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا عبد الستار خان نیازیؒ ، علامہ سید محمود احمد رضویؒ ، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ ، آغا شورش کاشمیریؒ اور مولانا حافظ عبد القادر روپڑیؒ کی راہ نمائی میں ہزاروں علماء کرام اور کارکنوں نے سرگرم کردار ادا کیا۔ مگر قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور وہ دنیا میں ہر سطح پر پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے اس متفقہ دستوری فیصلے کے خلاف محاذ آرائی میں مصروف ہیں۔ حتیٰ کہ حالیہ انتخابات سے قبل بھی قادیانیوں کے موجودہ سربراہ مرزا مسرور احمد نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے، اسی وجہ سے وہ انتخابات میں شریک ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے ووٹروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرانے سے انکار جاری رکھا ہوا ہے اور وہ پاکستان میں صرف اس سیاسی جماعت کے ساتھ تعاون کریں گے جو قادیانیوں کو مسلمان تسلیم کرے اور انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے فیصلے کو ختم کرائے۔ اس کے بغیر وہ پاکستان کے کسی انتخابی عمل میں شریک نہیں ہوں گے۔

مرزا مسرور احمد کے اس اعلان سے واضح ہوگیا ہے کہ عالم اسلام کے متفقہ موقف، پارلیمنٹ کے دستوری فیصلے، عدالت عظمیٰ کے مسلسل فیصلوں اور ملک کے تمام مکاتب فکر کے تمام اداروں، علمی مراکز اور علماء کرام کے اجماعی فیصلے کے باوجود قادیانی گروہ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو قبول کرنے سے انکاری ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت کا درجہ دے کر ملک کی دیگر غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ان کے شہری اور بنیادی حقوق کو تحفظ دیا جائے۔

قادیانی دنیا کے سامنے یہ واویلا کر رہے ہیں کہ پاکستان میں انہیں مذہبی اور شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے، حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ خود قادیانیوں نے اپنے لیے وہ حقوق تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے جو ملک کے دستور میں ان کے لیے طے شدہ ہیں۔ اس لیے اگر پاکستان میں قادیانیوں کے شہری حقوق کے حوالہ سے کوئی مسئلہ ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان کی حکومت یا عوام پر نہیں بلکہ خود قادیانیوں پر عائد ہوتی ہے اور جب تک وہ اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے پورے عالم اسلام اور پاکستانی قوم کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتے صورت حال میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

اس پس منظر میں مختلف مکاتب فکر کی دینی جماعتیں خاص طور پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ اور مجلس احرار اسلام سات ستمبر کو ’’یوم ختم نبوت‘‘ کے نام پر منا رہی ہیں۔ اس روز چناب نگر، لاہور، ملتان اور دیگر مقامات پر اجتماعات ہوں گے اور قادیانی مسئلہ کے بارے میں مختلف راہ نما خطاب کریں گے۔ گوجرانوالہ میں بھی 8ستمبر اتوار کو ظہر کے بعد مرکزی جامع مسجد میں جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ کے زیر اہتمام ’’تحفظ ختم نبوت سیمینار‘‘ کے انعقاد کا پروگرام طے کیا گیا ہے جس میں مختلف دینی مکاتب فکر اور جماعتوں کے راہ نما خطاب کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔