مغربی ممالک میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۱۹۹۳ء

مغربی ممالک میں مسلمان بچوں کی دینی تعلیم و تربیت اور دینی مکاتب کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ورلڈ اسلامک فورم کے زیر اہتمام دینی مکاتب کے چند سینئر اساتذہ اور دیگر متعلقہ حضرات کے درمیان ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ مذاکرہ ۳ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو مرکز الدعوۃ والارشاد (پلیشٹ گروو ایسٹہم، لندن) میں منعقد ہوا جس کی صدارت مولانا محمد اسماعیل بوٹا نے کی اور اس میں مولانا مسعود عالم قاضی، مولانا عبد الرشید رحمانی، مولانا فیاض عادل فاروقی، حاجی افتخار احمد، حاجی ولی آدم پٹیل، حافظ حفظ الرحمن تاراپوری اور حاجی غلام قادر کے علاوہ راقم الحروف اور ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسٰی منصوری نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر یہ طے کیا گیا کہ مذاکرہ میں زیر بحث آنے والی اہم اور مفید تجاویز پر مشتمل رپورٹ مرتب کر کے اخبارات و جرائد اور دینی مکاتب کے منتظمین و اساتذہ تک پہنچائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ حضرات اس سے استفادہ کر سکیں۔

ضروریات دین کا دائرہ

مذاکرہ میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ مغربی معاشرہ میں ان ضروریات کا دائرہ کیا ہے جن کی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض عین ہے اور جن کے بغیر کوئی شخص اس معاشرہ میں ایک صحیح مسلمان کے طور پر زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ بحث و تمحیص کے بعد والدین، اساتذہ اور خطباء و ائمہ سے یہ گزارش کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ اپنے اپنے دائرہ کار میں مندرجہ ذیل امور کے حوالہ سے بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کی طرف خاص توجہ دیں:

  • یورپی معاشرت کی بنیاد مادہ پرستی اور دہریت پر ہے، اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی قدرت، توحید باری تعالیٰ، کائنات کے نظام کے بارے میں قرآنی عقائد: رسالت، ختم نبوت، قیامت اور قرآن و سنت کی اہمیت کے سلسلہ میں ضروری باتیں ذہن نشین کرائی جائیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلی ذمہ داری ماں باپ کی ہے اور پھر دینی مکاتب کے اساتذہ کی کہ وہ بچوں کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی اعتقادی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی شعوری اور مربوط کوشش کریں۔
  • اعتقادات و ایمانیات کے بعد عبادات یعنی نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ کے ضروری مسائل کی تعلیم ضروری ہے، لیکن ان مسائل کی تعلیم کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ان عبادات کی اہمیت و افادیت کو ذہین نشین کرانا اور ان بچوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں ان عبادات کا شعوری طور پر قائل کرنا ضروری ہے تاکہ وہ بوجھ سمجھ کر نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے عبادت کی طرف مائل ہوں۔ اخلاقیات و معاملات میں بچوں کو اسلامی احکام کی تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ یورپی معاشرت کی مادہ پرستانہ اخلاقیات کے نقصانات سے آگاہ کرنا اور ان کے ذہنوں میں اسلامی اخلاق اور یورپی اخلاق کے فرق کو واضح کر کے اسلامی اخلاق کی افادیت اور برتری کو شعوری طور پر ذہن نشین کرنا ضروری ہے۔ روزمرہ کے معمولات اور استعمال میں آنے والی اشیا کے حوالہ سے حلال و حرام کا فرق ذہن نشین کرانا ضروری ہے۔
  • حجاب و حیا کے شرعی مسائل سے واقفیت کرانے کے ساتھ مرد و عورت کے اختلاط کے نقصانات اور اس سے پیدا ہونے والی معاشرتی خرابیوں سے بھی بچوں کو آگاہ کیا جائے۔
  • اس معاشرہ میں رہنے والے نوجوانوں کو عیسائیت، یہودیت، ہندو ازم اور سکھ مذہب کے بنیادی عقائد اور مسلمانوں کے ساتھ اعتقادی اور معاشرتی فرق و اختلاف سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔
  • اسلام کے حوالہ سے ابھرنے والے اعتقادی فتنوں مثلاً تجدد پسندی، قادیانیت اور انکار حدیث کے دینی نقصانات سے بچوں کا واقف ہونا ضروری ہے۔

شرکاء مذاکرہ کی رائے یہ ہے کہ اگر والدین اور اساتذہ میں ان امور کی اہمیت کا احساس بیدار ہو جائے اور وہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالہ سے اپنے معمولات میں اس کے مطابق ترتیب پیدا کر لیں تو یہ مقاصد با آسانی موجودہ وسائل اور نظام سے بھی کسی حد تک پورے ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے مناسب ہوگا کہ وقتاً فوقتاً اساتذہ اور والدین کے اجتماعات کر کے ان سے ان امور پر تبادلہ خیال کیا جائے۔

دینی مکاتب کی کارکردگی

مذاکرہ میں مغربی ممالک میں مساجد میں قائم دینی مکاتب کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا جو ہفتہ کے دوران شام کو دو گھنٹے یا ویک اینڈ پر ہفتہ اور اتوار کی کلاسوں کی صورت میں جاری ہیں۔ یہ محسوس کیا گیا کہ ان مکاتب کا وجود بسا غنیمت ہے جو مسلمان بچوں کو قرآن کریم اور دین سے وابستہ رکھنے کا عالم اسباب میں اس وقت واحد ذریعہ ہیں اور اس سلسلہ میں منتظمین اور اساتذہ کی محنت بلا شبہ لائق ستائش ہے، لیکن اس ضمن میں مندرجہ ذیل امور کو پیش نظر رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے:

  • مسلم کمیونٹی کی مجموعی آبادی میں مساجد و مکاتب میں آنے والے بچوں کا تناسب دیکھا جائے اور مسجد و مکتب میں نہ آنے والے بچوں کو مکتب میں لانے یا ان تک متبادل ذرائع سے تعلیم پہنچانے کا مناسب اور قابل عمل ذریعہ اختیار کیا جائے۔
  • مکاتب میں صرف قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ بعض میں حفظ قرآن کا اہتمام بھی ہے اور اس کے ساتھ عبادات کے حوالہ سے مسائل و احکام کی تعلیم ہوتی ہے۔ یہ انتہائی ضروری ہونے کے باوجود ناکافی ہے اور اس کے ساتھ ضروریات دین کے مذکورہ پیکج کو ایڈجسٹ کرنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ایک مسلمان نوجوان کی دینی تعلیم مکمل نہیں ہو سکتی۔
  • ان مکاتب میں قرآن کریم ناظرہ مکمل کر لینے کے بعد عام طور پر ایک مسلمان بچہ دینی تعلیم سے فارغ سمجھا جاتا ہے اور ایسا عام طور پر بارہ تیرہ سال کی عمر میں ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اس بچے کا مسجد و مکتب یا دینی تعلیم کے کسی سسٹم کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رہ جاتا جو شرکاء مذاکرہ کی رائے میں سب سے زیادہ خطرناک بات ہے۔ کیونکہ ایک نوجوان کی شخصیت و کردار کی تشکیل اور عادات و اخلاق کے رسوخ کی یہی عمر ہوتی ہے، اس لیے مناسب ہوگا کہ تعلیمی نصاب کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے: (۱) پہلے حصہ میں پانچ سال سے بارہ سال تک کی عمر کے بچوں کو قرآن کریم اور ضروریات دین کا مذکورہ بالا نصاب پڑھایا جائے۔ (۲) اور دوسرے حصہ میں بارہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کو اردو پڑھنا سکھایا جائے اور عربی گریمر کی ضروری تعلیم کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ، احادیث کا منتخب کورس اور فقہ کی کوئی ایک کتاب پڑھا دی جائے۔
  • شرکاء مذاکرہ کی رائے یہ ہے کہ بچوں کو تعلیم اسی زبان میں دی جائے جسے وہ زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ اس معاشرہ میں وہ زبان انگلش ہے اور انگلش نہ جاننے والے اساتذہ اس سلسلہ میں تھوڑی سی مشقت گوارا کر کے انگلش زبان کے نائٹ کورسز کے ذریعے اپنی اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کریں تاکہ وہ تعلیمی ذمہ داری کو زیادہ بہتر طور پر ادا کر سکیں۔
  • چونکہ دینی لٹریچر زیادہ تر عربی اور اردو میں ہے، اس لیے غیر عرب بچوں کو اردو بطور زبان سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ دینی لٹریچر کے ساتھ وابستہ رہیں اور اس سے استفادہ کر سکیں۔

- - - -

تجرباتی مکتب

مذاکرہ کے دوران بتایا گیا کہ ورلڈ اسلامک فورم نے اس مذاکرہ کی روشنی میں مرتب ہونے والی رپورٹ کی زیادہ سے زیادہ اشاعت کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مسلم کمیونٹی کو وسیع طور پر ان ضروریات کی طرف توجہ دلائی جا سکے۔ نیز یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر ایک تجرباتی مکتب فورم کے زیر اہتمام لندن میں قائم کیا جائے گا جو امید ہے کہ اگست ۱۹۹۴ء کے دوران کام شروع کر دے گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ اور اس کے تفصیلی پروگرام کا اعلان ۷ اگست ۱۹۹۴ء کو اسلامک سنٹر (ریجنٹ پارک، لندن) میں منعقد ہونے والے ورلڈ اسلامک فورم کے دوسرے سالانہ بین الاقوامی سیمینار میں کر دیا جائے گا۔

دینی مکاتب کی انتظامی کمیٹیاں

مذاکرہ میں دینی مکاتب کا نظام چلانے والی کمیٹیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ مسلم کمیونٹی کے اصحاب خیر اپنا وقت اور مال صرف کر کے دینی تعلیم کے نظام کو چلانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں جو لائق تحسین ہے، تاہم تین امور کی طرف ان کمیٹیوں کو بھی بطور خاص توجہ دلانے کا فیصلہ کیا گیا:

  • انتظامی کمیٹیوں کے ارکان کی غالب اکثریت تمام تر خلوص، ایثار اور محنت کے باوجود چونکہ تعلیم کی فنی مہارت اور تجربہ سے بہرہ ور نہیں ہوتی، اس لیے ضروری ہے کہ دینی مکاتب کی انتظامی کمیٹیاں تعلیمی نصاب و نظام کو بہتر طور پر چلانے کے لیے جید علماء اور ماہرین تعلیم (قدیم و جدید) پر مشتمل نگران کمیٹیاں تشکیل دیں اور تمام تر تعلیمی امور ان نگران کمیٹیوں کے ذریعہ کنٹرول کیے جائیں۔
  • بہت سے مکاتب میں تعلیم دینے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی مروجہ سطح تسلی بخش نہیں ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ اساتذہ معاشی تفکرات سے آزاد ہو کر دلجمعی کے ساتھ کام کر سکیں۔
  • بہت سے مکاتب میں طلبہ کی تعداد اساتذہ کی استعداد کار سے بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کام صحیح طور پر نہیں چل سکتا، اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ کی تعداد استاد کی استعداد کار اور کلاس کے وقت، تینوں امور کے درمیان توازن قائم کیا جائے۔

نصاب اور طرز تعلیم

مذاکرہ میں دینی مکاتب میں مروج نصاب ہائے تعلیم اور طرز تعلیم کا جائزہ بھی لیا گیا اور ان دونوں پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس کی گئی۔ بحث و مباحثہ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ نصاب کے طور پر پڑھائے جانے والے بیشتر رسالے بچوں کی مانوس زبان میں نہیں ہیں۔ جو رسالے انگلش میں ہیں، ان کی زبان کا معیار بچوں کی عمر اور ذہنی سطح سے مطابقت نہیں رکھتا اور اردو میں پڑھائے جانے والے کتابچے بھی اپنے مضامین و مواد کی قدر و اہمیت کے باوجود زبان کے لحاظ سے بچوں کی ذہنی سطح سے بلند ہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیم کے نصاب اور طرز تعلیم دونوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور ایسی زبان اور طریق کار اختیار کیا جائے جس سے بچے زیادہ مانوس ہوں اور ان کے لیے اس میں شوق اور کشش کے اسباب بھی موجود ہوں۔ شرکاء مذاکرہ کی رائے میں اگرچہ اس سلسلے میں کوئی مؤثر پیشرفت فوری طور پر ممکن نہیں ہے اور یہ مقاصد ایک تدریجی عمل کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں، تاہم اس سلسلہ میں وقتاً فوقتاً اساتذہ کے لیے ریفریشر کورسز اور بریفنگ کا اہتمام کر کے موجودہ صورتحال کو کافی حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
- - - -

درجہ بندی: