برطانیہ میں مسلم فرقہ واریت کے اثرات

   
مجلہ: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ اکتوبر ۱۹۸۸ء

اس وقت میں برطانیہ کے شہر شیفیلڈ میں مولانا مفتی محمد یونس کشمیری کی رہائشگاہ میں بیٹھا ہوں۔ لندن سے شائع ہونے والا اردو روزنامہ ملت (۲۶ اگست) میرے سامنے ہے، اس کے صفحہ اول پر ایک خبر کی تین کالمی سرخی یہ ہے:

’’نیلسن میں برائرفیلڈ کی مسجد میں ہنگامہ کرنے پر ۶ افراد کو جرمانے کی سزا۔‘‘

خبر کے مطابق مذکورہ مسجد میں کچھ عرصہ قبل امامت کے مسئلہ پر دو فریقوں میں تنازعہ ہوا جو باہمی تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔ مسجد کچھ عرصہ کے لیے بند کر دی گئی۔ پنج وقتہ نمازیں بھی مسلمان اس عرصے میں ادا نہ کر سکے۔ تنازعہ عدالت میں گیا۔ مجسٹریٹ نے چھ افراد کو دو دو سو پونڈ جرمانہ اور ڈیڑھ ڈیڑھ سو پونڈ خرچہ کورٹ کی سزا سنانے کے علاوہ دو دو سال کے لیے پابند امن کر دیا ہے۔ خبر کے مطابق مجسٹریٹ نے سزا سناتے وقت ملزموں کو مخاطب کر کے کہا کہ:

’’تم لوگوں نے جو کچھ کیا وہ باعث شرم تھا۔ ہو سکتا ہے آپ اپنے مذہبی مسائل کو اس طرح حل کرتے ہوں مگر ہمارا طریقہ ایسا نہیں ہے۔ تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو اپاہج کر لو ہمیں کوئی پروا نہیں لیکن یہاں کھلے بندوں ایسا دنگا فساد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ تم لوگ ہمارے قانون کی پابندی بھی کرو گے۔ میں تم کو جیل بھیج سکتا تھا لیکن تم پر نرمی برتتا ہوں، بے شک مجھ پر ایسی نرمی برتنے کا الزام لگایا جائے گا۔‘‘

برطانیہ میں مساجد پر قبضہ کے لیے ہلڑ بازی کا سلسلہ کافی پرانا ہو چکا ہے اور یہاں کے باشعور مسلمان اس پر خاصے پریشان ہیں۔ متعدد مساجد مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے درمیان تصادم کے بعد برطانوی پولیس نے کتوں کے ذریعے خالی کرائی ہیں اور بہت سی مساجد سیل کر دی گئیں جن کے مقدمات کا فیصلہ یہاں کی عدالتوں نے کیا۔ مساجد پر مخالفانہ قبضے کی روایت اصل میں برصغیر پاک و ہند سے چلی آ رہی ہے۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سے جو مسلمان برطانیہ اور یورپ کے دیگر ممالک میں آ کر آباد ہوئے ہیں، ان کی تعداد خاصی ہے اور یہ بات انتہائی خوش کن ہے کہ ان میں مذہبی رجحانات نمایاں ہیں۔ سینکڑوں مساجد نئی بنی ہیں جن میں ایک بڑی تعداد ایسی مساجد کی ہے جو عیسائیوں کے گرجے خرید کر بنائی گئی ہیں، اور عیسائی اکثریت کے ممالک میں جہاں خود عیسائی آبادی کے گرجے ان کی مذہب بیزاری کی وجہ سے ویران پڑے ہیں اور مقامی آبادی کی عملی زندگیوں کے ساتھ ان کا کوئی تعلق باقی نہیں رہا، وہاں کی مساجد کی آبادی اور مسلمانوں کی مذہبی دلچسپی ایک اچھا اور مثبت تاثر اجاگر کرتی ہے۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں کی مذہب بیزار آبادی جب اپنی خود ساختہ آزادی کے عروج تک پہنچنے کے بعد فطری ردعمل سے بیدار ہوگی تو اسے واپسی کے لیے ایک زندہ اور متحرک مذہب کی صورت میں اسلام ہی کا سامنا درپیش ہوگا۔ اور کچھ بعید نہیں کہ اگر اس وقت مسلمان اپنے آپ کو صحیح اسلامی معاشرہ کی صورت میں پیش کر سکے تو یہ بات یہاں کی آبادی کے بڑے حصے کے قبول اسلام کا ذریعہ بن جائے۔ لیکن ان خوشگوار احساسات اور تاثرات کے ساتھ مسلمانوں کے باہمی فرقہ وارانہ تنازعات کی شدت اور مساجد پر مخالفانہ قبضے کے افسوسناک واقعات کا منظر سامنے آتا ہے تو مستقبل کی خوشگوار امیدوں کا منظر دھندلانے لگتا ہے۔

راقم الحروف کو برطانیہ میں آتے ہوئے چار سال ہو گئے ہیں، ہر سال عالمی ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر حاضری کا موقع ملتا ہے اور لندن کے علاوہ مختلف دیگر شہروں میں جانے کا بھی اتفاق ہوتا ہے۔ یہاں کی عمومی صورتحال میں میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ برطانوی معاشرہ اسلام کی تبلیغ و دعوت کا ایک وسیع اور ہموار میدان ہے۔ اس معاشرے میں خاندانی زندگی کی تباہی، نفسانفسی کا عالم، امن و سکون کے لیے مصنوعی سہاروں کی تلاش، ایک پرامن اجتماعی زندگی کے لیے ان لوگوں کی تڑپ اور بڑھتی ہوئی پیاس کی غمازی کرتی ہے۔ ایک ایسی پیاس جسے صرف اسلام کا فطری معاشرتی نظام ہی بجھا سکتا ہے، لیکن اسلام کی دعوت و تبلیغ کی راہ میں یہاں سب سے بڑی رکاوٹ مسلمانوں کے فرقہ وارانہ اختلافات، بالخصوص دیوبندی بریلوی کشیدگی ہے، جس کے دلخراش اور سنگدلانہ مظاہروں نے یہاں کی مقامی آبادی کے سامنے اسلام اور مسلم معاشرہ کا ایک ایسا نقشہ پیش کیا ہے جسے کشش، پسندیدگی یا قبولیت کا باعث کسی طرح بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کشیدگی کا اہتمام کرنے والے عناصر خواہ کوئی ہوں، انہوں نے اس کے ذریعے اپنے فرقہ وارانہ جذبات کی وقتی تسکین کا سامان شاید فراہم کر لیا ہو مگر اسلام کی قطعاً کوئی خدمت نہیں کی، بلکہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

وطن عزیز پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے بارے میں بھی میری دو ٹوک رائے یہی ہے کہ اس جدوجہد کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ فرقہ وارانہ تنازعات بالخصوص دیوبندی بریلوی کشمکش ہے۔ اگر پاکستان کی اکثریتی آبادی اہل السنۃ والجماعۃ سے تعلق رکھنے والے تمام مکاتب فکر یا کم از کم دیوبندی اور بریلوی مسلک کے علماء اپنی فرقہ وارانہ ترجیحات کی قربانی دیتے ہوئے نفاذ اسلام کی جدوجہد کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کر لیں تو باقی تمام رکاوٹوں کو عبور کر لینا ان کے لیے کوئی مشکل بات نہیں ہوگی،، لیکن اس مقصد کے لیے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کو اپنے اپنے مکتب فکر کے افراد کے ساتھ لیڈرشپ کی بجائے قیادت کا رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہمارے ہاں لیڈر شپ کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے حلقہ، طبقہ یا گروہ کے اجتماعی رجحان کو محسوس کر کے لیڈر خود کو ان کے ساتھ ہم آہنگ کر لیتا ہے اور اسی رو میں خود بھی بہہ جاتا ہے۔ جبکہ قیادت کا معنی یہ نہیں ہے، بلکہ قائد اپنے زیر قیادت افراد کے رجحانات کو سامنے رکھتے ہوئے ان میں سے سب سے بہتر رجحان کا تعین خود کرتا ہے اور پھر سب کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

عربی زبان میں قائد اور سائق کے دو لفظ استعمال ہوتے ہیں، ریگستان میں اونٹوں کی لمبی قطار کے ساتھ دو شخص ہوتے ہیں۔ ایک قطار کے آگے ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں اس ساری قطار کی مہار ہوتی ہے، اسے قائد کہتے ہیں اور وہ اپنی مرضی کے راستے پر قطار کو لیے چلتا رہتا ہے۔ دوسرا شخص قطار کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے جسے سائق کہا جاتا ہے اور اس کا کام قطار کے پیچھے چلنا اور گری پڑی چیزوں کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں سائق کے عمل کو لیڈر شپ سمجھ لیا گیا ہے جو سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ مذہبی مکاتب فکر میں بھی رواج پذیر ہو گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بڑے بڑے باشعور مذہبی راہنما بھی معاملات کی سنگینی اور اجتماعی تقاضوں کا احساس رکھنے کے باوجود محض اپنے پیروکاروں کے رجحانات کا سامنا نہ کر سکنے کی وجہ سے وہ راستہ اختیار نہیں کر پاتے جس کے لیے خود ان کا اپنا ضمیر انہیں مجبور کر رہا ہوتا ہے۔

بات بہت دور نکل گئی ہے، مگر برائرفیلڈ کی مسجد کے تنازعے میں برطانوی مجسٹریٹ کے ریمارکس نے قلب و ذہن کو جس تلخی سے دوچار کیا ہے، اس کی شدت دل کا یہ ابال نکالنے کے باوجود کم نہیں ہوئی۔ میں تلخی کے اس احساس کو کم کرنے اور دل کو وقتی بہلاوا دینے کے لیے برطانوی مجسٹریٹ کو مختلف عیسائی فرقوں کے درمیان کشیدگی، بالخصوص کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کے خونریز تصادم کی تاریخ یاد دلا سکتا ہوں اور طعنے کے انداز میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ مذہبی تنازعات کو خونریزی کے ذریعے حل کرنے کا سبق ہم نے آپ ہی لوگوں سے سیکھا ہے۔ لیکن یہ کوئی مثبت اور فطری ردعمل نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے صحتمندانہ ذہنیت کی علامت سمجھا جائے گا۔ اس لیے میں تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام سے دست بستہ گزارش کروں گا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کریں اور برائرفیلڈ کی مسجد کے تنازعے میں برطانوی مجسٹریٹ کے ریمارکس کو نوشتہ دیوار سمجھتے ہوئے حالات کی اصلاح کے لیے کوئی ایسا باوقار اور متوازن طرز عمل اختیار کریں جو مسلم ممالک میں نفاذ اسلام اور مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے لیے مفید اور معاون ثابت ہو سکے۔

درجہ بندی: