اسامہ بن لادن اور یاسر عرفات

   
مجلہ: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۷ دسمبر ۲۰۰۲ء

اے ایف پی کے مطابق فلسطینی لیڈر یاسر عرفات نے ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عرب مجاہد اسامہ بن لادن سے کہا ہے کہ وہ فلسطین کا نام استعمال نہ کریں۔ یاسر عرفات فلسطینی لیڈر ہیں اور اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب سے ہے، دونوں اپنے اپنے دعویٰ کے مطابق عرب کاز کے لیے جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یاسر عرفات کی جدوجہد کا ہدف آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے اور اسامہ بن لادن کا ٹارگٹ یہ ہے کہ امریکی فوجیں خلیج عرب سے نکل جائیں تاکہ عرب ممالک کی خودمختاری بحال ہو۔

یاسرعرفات ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عرب ممالک کی شکست کے ردعمل میں ایک قوم پرست فلسطینی لیڈر کے طور پر منظر عام پر آئے، اس جنگ میں اسرائیل نے مصر کے صحرائے سینا، شام کی گولان پہاڑیوں، اور اردن کے شہر بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور فلسطین کا بہت سا علاقہ اس کے تسلط میں آگیا تھا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے ان علاقوں پر اسرائیل کے قبضہ کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس سے مقبوضہ علاقے خالی کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے جسے آج تک اسرائیل نے درخوراعتنا نہیں سمجھا۔ مصر نے چند سال قبل ایک اور جنگ میں سویز اور سینا کے علاقے اسرائیل سے واپس لے لیے تھے جبکہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو اپنا حق سمجھتے ہوئے انہیں خالی کرنے سے اسرائیل صاف انکاری ہے۔ اس ظلم و جبر اور بربریت و درندگی کے جواب میں فلسطینی علاقوں کی آزادی کے لیے مختلف مزاحمتی گروپ سامنے آئے جنہوں نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کیا۔ ان میں یاسر عرفات کا گروپ بھی تھا۔ بعد ازاں یہ گروپ یکجا ہوئے اور یاسر عرفات کو تمام فلسطینی گروپوں کا مشترکہ لیڈر چن لیا گیا۔

یاسر عرفات کا ذاتی تشخص ایک قوم پرست فلسطینی لیڈر کا تھا اور عالمی سیاست میں وہ امریکی کیمپ کے بجائے روسی کیمپ کے زیادہ قریب سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے عالمی کشمکش اور سرد جنگ کے حوالے سے اہم مسائل میں اپنا وزن ہمیشہ روسی پلڑے میں ڈالا، حتٰی کہ مسئلہ کشمیر اور افغانستان پر روسی جارحیت کے معاملے میں بھی انہوں نے کشمیری عوام اور افغان مسلمانوں کے حق میں کلمہ خیر کہنے کی بجائے روس بھارت گٹھ جوڑ کی حوصلہ افزائی اور حمایت کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔

یاسر عرفات ایک دور میں ہتھیار بکف عسکری لیڈر تھے، مسلح جدوجہد کے ذریعے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ان کی پالیسی تھی، اور چھاپہ مار کارروائیوں، طیاروں کا اغوا اور بندوق کی نالی کے ذریعے بات کرنا ان کا طریق کار تھا۔ وہ امریکہ مخالف لیڈر تھے، امریکہ میں ان کا داخلہ بند تھا جہاں انہیں ایک دہشت گرد لیڈر کے طور پر جانا اور پہچانا جاتا تھا۔ پھر انہوں نے کیمپ تبدیل کیا اور امریکہ کے دوستوں میں شمار ہونے لگے۔ تب سے امریکہ ان کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کھیل میں یاسر عرفات کا کردار حسب منشا نہ پاتے ہوئے اب امریکہ انہیں فلسطین کی قیادت سے الگ کر کے ان کی جگہ اپنی مرضی کی قیادت مسلط کرنے کا پروگرام بنائے ہوئے ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست بنوانے کے لیے تیار ہے لیکن اس کا نقشہ وہ ہوگا جو امریکہ طے کرے گا، جس میں بیت المقدس فلسطین کا حصہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ اسرائیل کے ساتھ وعدہ کر چکا ہے۔ اس لیے یاسر عرفات اور دیگر عرب لیڈروں کا یہ مطالبہ ماننے کے لیے امریکہ کسی صورت آمادہ نہیں ہے کہ اسرائیل نے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ انہیں خالی کر کے اس جنگ سے پہلے پوزیشن پر واپس چلا جائے۔

گزشتہ سال سعودی عرب نے یہ فارمولا پیش کیا تھا کہ اگر اسرائیل ۱۹۶۷ء کی جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلا جائے تو عرب ممالک فلسطین کی تقسیم کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس منصوبے کو عرب لیگ نے بھی تمام عرب ممالک کے متفقہ موقف کے طور پر قبول کر لیا تھا، جبکہ اس سے قبل سعودی عرب سمیت اکثر عرب ممالک فلسطین کی تقسیم کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنے سے مسلسل انکار کرتے چلے آرہے تھے، لیکن اپنے سابقہ موقف سے عرب ملکوں کی یہ پسپائی بھی کسی کام نہیں آئی اور نہ صرف یہ کہ اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے بلکہ امریکہ نے بھی سرکاری دستاویزات میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر اسرائیل کے موقف کی عملی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

فلسطینی لیڈر یاسر عرفات کی رہی سہی امید یورپی یونین سے تھی کہ وہ شاید اپنے مفادات کے لیے امریکہ سے قدرے مختلف موقف اختیار کر لے۔ لیکن برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے شام کے صدر بشار الاسد کے دورہ لندن کے موقع پر یہ کہہ کر بات صاف کر دی ہے کہ فلسطینی ریاست کا وہ نقشہ جو امریکہ دے رہا ہے اس کو قبول کرنے سے ہی بات بنے گی، اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ہی ٹونی بلیئر نے اگلے ماہ لندن میں مشرق وسطی کے حوالہ سے بین الاقوامی امن کانفرنس طلب کر لی ہے جس میں شرکت کی دعوت یاسر عرفات نے قبول کر لی ہے۔ چنانچہ بشار الاسد کا دورہ لندن اور یاسر عرفات کی طرف سے لندن کی مجوزہ کانفرنس میں شرکت کا اعلان اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ امریکہ فلسطین کی اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کے ایجنڈے کو ان دونوں لیڈروں سے قبول کرانے میں بھی بالآخر کامیاب ہو جائے گا۔

دوسری طرف اسامہ بن لادن کا تعلق سعودی عرب کی متمول بن لادن فیملی سے ہے۔ وہ افغانستان پر روس کی فوج کشی کے خلاف افغان عوام کی مسلح مزاحمتی جدوجہد کے دوران سامنے آئے۔ انہوں نے افغان جہاد میں عملی حصہ لیا، افغان مجاہدین کو مالی طور پر سپورٹ کیا اور الشیخ عبد اللہ عزامؒ کے ساتھ مل کر ہزاروں عرب نوجوانوں کو اس کام کے لیے تیار کیا کہ وہ افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف جہاد میں شریک ہوں، اور اس کے ساتھ بھرپور عسکری ٹریننگ بھی حاصل کریں تاکہ وہ مشرق وسطی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جہاد کو منظم کر سکیں۔ انہیں اس دوران روس کے خلاف مسلح جنگ کے لیے امریکہ کی حمایت حاصل تھی اور ان کی تربیت و ٹریننگ میں سب سے زیادہ امریکی اداروں کا حصہ ہے۔ لیکن افغان جہاد کے بعد جب انہوں نے مشرق وسطی میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور امریکی فوجوں کی موجودگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی آزادی اور عرب ممالک کی خودمختاری کے لیے آواز بلند کی تو روس کے خلاف جہاد کرنے والا یہ مجاہد یکلخت امریکی دوستوں کے کیمپ سے نکل کر دہشت گردی کے الزام کا مستحق قرار پا گیا اور آج امریکہ اسے دنیا میں اپنا دشمن نمبر ایک قرار دے رہا ہے۔

اسامہ بن لادن کا قصور اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ وہ صرف عرب عوام اور ملکوں کی بات نہیں کرتا بلکہ کشمیر کی بات بھی کرتا ہے، چیچنیا کا ذکر بھی اس کی زبان پر ہوتا ہے، وہ مسجد اقصیٰ کی آزادی کا نعرہ بھی لگاتا ہے، اور دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی مظلوم مسلمان ظالموں کے خلاف نبردآزما ہے وہ اس کی حمایت کرتا ہے۔

اس طرح یاسر عرفات اور اسامہ بن لادن ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ یاسر عرفات نے امریکہ دشمنی کا کیمپ چھوڑ کر امریکی کیمپ میں شمولیت اختیار کر رکھی ہے اور ہتھیار پھینک کر مذاکرات کا کشکول گلے میں لٹکا لیا ہے۔ جبکہ اسامہ بن لادن امریکی کیمپ سے نکل کر اس کے مخالف کیمپ کا لیڈر بن گیا ہے مگر یاسر عرفات کی طرح ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اس پس منظر میں یاسر عرفات کی طرف سے اسامہ بن لادن کو فلسطین کا نام استعمال نہ کرنے کی تلقین کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ یاسر عرفات اور ان کے ہمنوا عرب لیڈر امریکہ کے ساتھ جو معاملات طے کرنے جا رہے ہیں، اسامہ بن لادن اس میں کباب میں ہڈی بن سکتا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے فلسطین، فلسطینی عوام اور بیت المقدس کا حسب منشا سودا طے کرنے کی بات بنتی نظر نہیں آرہی۔ یہ بات درست ہے کہ اسامہ بن لادن یاسر عرفات اور دیگر عرب لیڈروں کے عزائم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، لیکن جناب یاسر عرفات کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جن جانباز اور سرفروش فلسطینی حریت پسندوں کی عسکری جدوجہد اور بے پناہ قربانیوں کی قیمت پر ان کی لیڈری ابھی تک قائم ہے اور جن مجاہدین کے خون کی برکت سے انہیں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کا موقع مل رہا ہے، وہ مجاہدین اور ان کا جہاد حریت پسند اسامہ بن لادن کی جدوجہد اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ فلسطینی حریت پسندوں کی موجودہ جدوجہد کے پس منظر سے شہید عبد اللہ عزامؒ اور اسامہ بن لادن کا نام ہٹا دیا جائے تو اس کے دامن میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔

درجہ بندی: