اجتماعی و دینی معاملات میں راہنمائی کا فورم

   
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۲۰ء

آزمائش اور ابتلا کے دور میں جس طرح کسی انسان کی شخصی خوبیاں اور کمزوریاں ظاہر ہونے لگتی ہیں، اسی طرح سماج اور سوسائٹی کی اجتماعی خوبیاں اور کمزوریاں بھی مصیبت اور آزمائش کے زمانے میں زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہیں۔ مثلاً مسلمان امت اور پاکستانی قوم کی ایک بڑی خوبی انسانی ہمدردی اور کمزور طبقات و افراد کی مدد کرنا ہے، جس کا اظہار عام ماحول میں جاری رہتا ہے، مگر کرونا وائرس کی عالمی آزمائش کے اس دور میں بھی اس کی جھلک دکھائی دے رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کی صورت میں غریب اور نادار طبقات و افراد کی ضروریات اور مجبوریوں کا احساس حکومتی پالیسیوں میں بھی نظر آرہا ہے اور سوسائٹی کے مخیر افراد اور ادارے بھی متوجہ ہو رہے ہیں، جس کی حوصلہ افزائی اور تحسین کی ضرورت ہے۔ مگر آج ہم ان چند کمزوریوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہیں گے جن کا احساس عام دنوں میں تو ہوتا ہی ہے مگر وبا اور بلا کے اس دور نے اس احساس کی سنگینی میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہم ایک عرصہ سے توجہ دلا رہے ہیں کہ عام لوگوں کی اجتماعی معاملات میں دینی راہ نمائی کے لیے کوئی اجتماعی نظم ضروری ہے، جس کو اتھارٹی کا درجہ حاصل ہو تاکہ مختلف اطراف سے انفرادی آرا معاشرہ میں خلفشار کا باعث نہ بنتی رہیں۔ اس احساس میں اضافہ دو تین مسائل کے حوالہ سے دیکھنے میں آیا ہے جو ان دنوں خود مجھ سے کیے گئے ہیں:

  • ایک صاحب نے سوال کیا کہ کیا ان حالات میں قنوت نازلہ کا اہتمام کرنا چاہئے؟ میں نے جواب دیا کہ میں خود تو مقبوضہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کے بعد سے الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی مسجد میں نماز فجر کے دوران قنوت نازلہ مسلسل پڑھ رہا ہوں۔ اس مسجد میں نماز فجر پڑھانا اور اس کے بعد بخاری شریف کا مختصر سا درس میرے یومیہ معمولات کا حصہ ہے۔ اس قنوت نازلہ میں اب میں نے وبا اور بلا سے تعوذ کی دعا بھی شامل کر لی ہے۔ مگر عمومی اعلان اس لیے نہیں کر رہا کہ خود کو اس کا مجاز نہیں سمجھتا، یہ کسی اتھارٹی کا کام ہے جس کے بارے میں میرا موقف یہ ہے کہ اجتماعی مسائل میں عوام کی دینی راہنمائی کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی طرز کا کوئی اجتماعی قومی ادارہ ہونا چاہئے جو تمام مکاتب فکر کے نمائندہ اور اکابر علماء پر مشتمل ہو اور اپنے فیصلوں میں ریاستی اداروں کی دخل اندازی سے آزاد ہو۔ رویت ہلال کا مسئلہ بھی مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے قیام سے قبل اسی طرح خلفشار کا شکار تھا اور ایک ایک شہر میں دو دو عیدیں ہوا کرتی تھیں، مگر بحمد اللہ تعالیٰ حکومتی سطح پر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے قیام کے بعد سے یہ خلفشار کافی حد تک کنٹرول ہو گیا ہے۔ اگرچہ اب بھی اس اتھارٹی کو غیر مؤثر کرنے اور خلفشار کا سابقہ ماحول واپس لانے کی مختلف اطراف سے کوششیں ہوتی رہتی ہیں مگر ملک کا عمومی دینی و علمی ماحول انہیں قبول نہیں کر رہا، فالحمد للہ علٰی ذٰلک۔ اگر ایسا نہ ہو سکے تو بڑے بڑے علمی مراکز کو اس کا پرائیویٹ سطح پر اہتمام کرنا چاہئے جیسا کہ تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالتؐ اور دیگر معاملات میں ہم کر لیا کرتے ہیں اور اس میں ہمیں اپنے اہداف میں کامیابی بھی حاصل ہو جاتی ہے۔
  • دوسرا سوال اس سے زیادہ توجہ طلب ہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر بعض حضرات کی طرف سے رات دس بجے گھروں کی چھتوں پر اذانیں دینے کی اپیل کی گئی جس پر بہت سے لوگوں نے عمل کیا اور بہت سے حضرات اپنے اپنے مفتیان کرام سے رجوع کر رہے ہیں۔ ضلع سیالکوٹ کے ایک قصبہ سے ابھی تھوڑی دیر قبل فون آیا کہ رات دس بجے سے صبح فجر تک اذانوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا ہے، اسی طرح لاہور سے ایک دوست نے مصیبت کے وقت اذان دینے کے بارے میں بعض احادیث نبویہ علی صاحبہا التحیۃ والسلام کا حوالہ دے کر پوچھا ہے کہ کیا ان احادیث پر عمل نہیں کرنا چاہئے؟ میں نے عرض کیا کہ احادیث کا درجہ و مقام اپنی جگہ ہے مگر کیا عوامی سطح پر اس سلسلہ میں عمومی اعلان کوئی اتھارٹی کرے گی یا ہر شخص کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اس پر عمل کا وقت اور طریق کار خود طے کر لے اور لوگوں کو اس کی دعوت دینا شروع کر دے؟ انہوں نے پوچھا کہ اتھارٹی کون ہے؟ میں نے جواب دیا کہ کم از کم قومی سطح کا کوئی دارالافتاء اعلان کرے تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے ورنہ اس طرح کے انفرادی اعلانات لوگوں کے ذہنوں میں کنفیوژن اور عمل میں خلفشار کا باعث بنیں گے۔
  • اسی طرح لاک ڈاؤن کے دوران مساجد میں نماز با جماعت کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے جس کے جواب میں دارالعلوم دیوبند کی وہ اپیل دوستوں کو بھجوا رہا ہوں کہ مسجد اور اس کے ماحول میں موجود لوگ تو نماز با جماعت پڑھتے رہیں مگر باہر کے لوگوں اور نمازیوں سے کہا جائے کہ وہ سرکاری احکامات کی پابندی کریں یعنی نماز گھر میں ادا کریں اور مسجد میں جمع ہونے سے گریز کریں۔

یہ مسائل موجود ہیں جن میں کمی نہیں بلکہ دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، انہیں نظرانداز کر دینا ان کا حل نہیں ہے، اس لیے تمام مکاتبِ فکر کی علمی قیادتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام لوگوں کو دینی حوالہ سے مزید کنفیوژن اور خلفشار سے بچانے کیلئے باہمی مشاورت کے ساتھ کسی ایسی اجتماعی علمی اتھارٹی کے قیام کی طرف توجہ دیں جو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی طرز پر یا علمی مراکز کے باہمی مشاورت کے مربوط نظام کی صورت میں راہنمائی کا کوئی قابل اعتماد فورم فراہم کر سکے، یہ وقت کی ضرورت ہے، جس سے صرفِ نظر کر کے ہم اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکیں گے۔