پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے وفاقی وزارت مذہبی امور کی سفارشات

   
مجلہ: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ مئی ۱۹۹۴ء

ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکومت کی ہدایت پر وزارت مذہبی امور نے سفارشات پر مبنی تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے جس میں نفاذ شریعت کے لیے دستوری تقاضوں، عدل و انصاف، تعلیم، معیشت، ذرائع ابلاغ، اصلاح جیل خانہ جات، معاشرتی اور دفتری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ وزارت نے یہ رپورٹ ملک کی مذہبی تنظیموں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کو کابینہ اپنے آئندہ اجلاس میں غور کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی اور ملکی آئین کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے دستور میں ترمیم کرنے کی تجویز پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔ جو سفارشات کی گئی ہیں ان کی تفصیلات یہ ہیں۔

دستوری سفارشات میں آئین کے آرٹیکل ۲ میں ترمیم کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس میں ترمیم کر کے آرٹیکل ۲ کو ۲ (۱) لکھا جائے گا۔ آرٹیکل ۲ (۲) اسلام کے احکام جو قرآن کریم اور سنت رسول میں منضبط ہیں، پاکستان کا سپریم لاء قرار پائیں گے۔ آرٹیکل ۲ (۳) آئین پاکستان ۱۹۷۳ء کی دفعہ ۲ (۳۰) اور ۲۲۷ (۲) میں شامل کسی امر کے باوجود کوئی قانون بشمول دستور کے یا کوئی رسم و رواج جو قانون کا حکم رکھتا ہو، تناقص کی اس حد تک کالعدم ہو گا جس حد تک وہ قرآن و سنت میں منضبط احکام اسلام کا مناقض ہو۔ آرٹیکل (۴) مملکت کوئی ایسا قانون وضع نہیں کرے گی جو کہ قرآن کریم اور سنت رسول میں منضبط احکام اسلام سے متصادم، متناقض یا ان کے منافی ہو۔ یا کوئی قانون جو اس شق کی خلاف ورزی میں وضع کیا گیا ہو، وہ خلاف ورزی کی حد تک کالعدم ہو گا۔ دستوری سفارشات کے مطابق آئین کی دفعہ ۲۰۳ (بی ) کی شق (سی) کو حذف کر کے اس شق کا اضافہ کیا جائے کہ قانون میں دستور یا ہر وہ رسم و رواج شامل ہے جو قانون کا اثر رکھتا ہو۔ اس کے علاوہ دفعہ ۲۰۳ (سی) کی شق (۹) کو حذف کر کے اس میں اس شق کا اضافہ کیا جائے کہ چیف جسٹس یا کوئی جج اس وقت تک اپنے عہدے پر فائز رہے گا جب تک اس کی عمر ۷۰ سال کو نہ پہنچ جائے، سوائے اس کے کہ وہ یا تو خود اپنے عہدے سے استعفٰی دے یا دستور کے مطابق اس کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا جائے۔

عدل و انصاف کے متعلق رپورٹ نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ عدالتی نظام میں تبدیلی وقت کی اہم اور فوری ضرورت ہے۔ معاشرے میں تبدیلی کے لیے مؤثر عدالتی نظام کو رائج کرنا ہو گا۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کا عمل عدل و انصاف کے نظام میں تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں ۵ تجاویز دی گئی ہیں:

  1. صوبائی، ضلعی اور تھانے کی سطح پر قاضی اور مفتی مقرر کیے جائیں۔
  2. سستا اور فوری انصاف مہیا کیا جائے، کورٹ فیس ختم کی جائے، اپیل کے زیادہ چینل ہوں۔
  3. قاضی جلد فیصلہ کرے اور تمام عدالتی مراحل میں سے گزر کر مقدمات کے حتمی و قطعی فیصلے کے لیے زیادہ سے زیادہ مدت ایک سال مقرر کی جائے۔
  4. اسلام کا نظام احتساب بغیر کسی استثنا کے نافذ کیا جائے جو مرکز اور صوبائی سطح سے لے کر تھانے اور دیہات کی سطح پر نافذ العمل ہو۔
  5. جرائم کی روک تھام کے لیے موقع پر انصاف مہیا کیا جائے۔ ضابطہ فوجداری میں طریقہ تفتیش کے بارے میں اور عدالتی نظام میں اہم ترمیمات کی اشد ضرورت ہے، اس ضمن میں قاضی کورٹس کے مسودہ بل سے استفادہ کیا جائے۔

تعلیم کے سلسلہ میں سفارشات پیش کی گئی ہیں کہ:

  1. تعلیمی اداروں میں بالخصوص اسکولوں میں کم از کم ایک نماز میں بچے باجماعت شریک ہوں۔
  2. طالبات کے لیے این سی سی ٹریننگ میں خاتون اساتذہ کا تقرر کیا جائے، بصورت مجبوری ریٹائرڈ معمر فوجیوں کو بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔
  3. علوم جدید اور علوم قدیم دونوں عمومی تعلیم اور دینی تعلیم کے حامل اداروں میں پڑھائے جائیں۔
  4. اسلامیات کی تعلیم کا معیار بلند کیا جائے اور اس میں تفسیر، حدیث، فقہ اور عقائد کی ٹھوس تعلیمات اتنی مقدار میں پڑھائی جائیں کہ دسویں جماعت تک پہنچتے پہنچتے ہر طالب علم کے سامنے اسلام کی صحیح تصویر آ جائے۔
  5. پانچویں جماعت تک ناظرہ تعلیم قرآن کریم کے لیے اسلامیات کے مضمون سے الگ مستقل وقت رکھا جائے اور اس مرحلے تک پورے قرآن کریم کی ناظرہ تدریس مکمل کرائی جائے۔
  6. عربی زبان کو اسلامیات کی تعلیم کا مستقل جزو بنایا جائے۔
  7. مخلوط تعلیم کو ختم کرنے کے لیے بلاتاخیر کم از کم مدت کا تعین کیا جائے جس میں ضروری انتظامی امور کی تکمیل کی جا سکے۔ اور طالبات کے نصاب میں ایسی تبدیلیاں کی جائیں جو ان کی فطری ضروریات کے مطابق ہوں۔ دو خواتین یونیورسٹیوں کے قیام کے متعلق مرحوم جنرل محمد ضیاء الحق کے اعلان کو جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔
  8. طلباء کو ایسی غیر نصابی سرگرمیوں کی اجازت نہ دی جائے جو اسلام کے خلاف ہوں مثلاً رقص و سرود اور مخلوط ڈرامے وغیرہ۔

معیشت کے بارے میں تجویز ہے کہ ملک کے نظام معیشت کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا جائے۔ نیز وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں معیشت کے تمام شعبوں کو سود سے پاک کیا جائے اور متبادل اسلامی نظام معیشت قائم کیا جائے اور اس کے لیے ضروری قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جائے۔ اس ضمن میں سفارشات میں کہا گیا ہے کہ:

  1. پاکستان میں بینکنگ اور مالیاتی ادارے مضاربہ اور مشارکہ کی بنیاد پر چلنے چاہئیں اور اس مقصد کے لیے ضروری قانونی ڈھانچہ فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ لہٰذا مالی کاروبار کے ان طریقوں میں بنیادی اہمیت بلا سود شراکتی تعامل کو دی جائے۔
  2. موجودہ مارک اپ سسٹم دراصل سود کا دوسرا نام ہے، لہٰذا اسے ختم کیا جائے۔
  3. جدید معاشی نظام میں وینچر کیپیٹل (زر مخطرہ) معیشت کی ترقی و فروغ کے لیے بنیادی محرک تسلیم کیا جاتا ہے۔ سرمایہ پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کا اسلامی فلسفہ صرف وینچر کیپیٹل کی اجازت دیتا ہے نہ کہ قرض پر دیے ہوئے پہلے سے طے کردہ سود کی سرمایہ کی۔ اسلام صرف قرض حسنہ دینے کی اجازت دیتا ہے۔
  4. مالی اداروں اور بینکوں میں مضاربت اور مشارکت کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اپنے لین دین میں سود ختم کرنے کو یقینی بنائے۔
  5. بینکوں کا با اثر افراد کا قرضہ معاف کرنا شرعی لحاظ سے نہایت قابل اعتراض ہے کیونکہ یہ ان لوگوں کی دولت ہے جو بینک میں پیسہ جمع کراتے ہیں۔ یہ اختیار بینکوں اور مالیاتی اداروں کی انتظامیہ سے لے کر صرف عدالتوں کو ہوتا ہے کہ وہ ہر معاملہ کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔
  6. فکسڈ ٹیکسیشن کا نظام رائج کیا جائے۔
  7. بیرونی سودی قرضوں کی ادائیگی کی خاطر پاکستانی پروجیکٹس کے حصص زرمبادلہ کے عوض بیچے جائیں اور اس طرح حاصل ہونے والے زر بیع سے غیر ملکی قرضے ادا کیے جائیں۔
  8. زکوٰۃ اور عشر کے موجودہ نظام میں اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔
  9. قرض حسنہ کو مجموعی طور پر اسلامی طریقہ کار کے مطابق رائج کیا جائے۔
  10. اسلام میں قرض معاف کرنے کی گنجائش سوائے قرضہ دینے والے کے کسی اور کو نہیں، اس لیے قیام پاکستان سے لے کر اب تک حکمرانوں کے کہنے پر جو قرضے معاف ہوئے ہیں وہ واجب الادا ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے اغراض و مقاصد قوم کو تفریحی، تعلیمی، اخلاقی، قانونی، معاشرتی اور سیاسی شعور سے آگہی اور معلومات فراہم کرنا ہیں۔قومی مقاصد اور اسلامی تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے موعظہ حسنہ اور حکمت بالغہ سے رہنمائی حاصل کرنا ہو گی۔

  1. ذرائع ابلاغ کا منتہائے مقصود یہ ہونا چاہیے کہ قوم کو نیکی، صداقت اور اچھائی کی طرف رہنمائی کریں۔
  2. ٹیلیویژن اور ریڈیو پر مخرب اخلاق ڈراموں، فلموں، گانوں اور خلاف اسلام پروگراموں کی نشر و اشاعت فی الفور بند کی جائے۔
  3. حکومت ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات و رسائل کے متعلق ایسا اہتمام کرے جس کی رو سے جھوٹی خبر یا اطلاع دینا یا شائع کرنا قابل تعزیر ہو۔
  4. اخبارات و رسائل اور دیگر ذرائع ابلاغ عامہ کو ناشائستہ اور غیر اخلاقی اشتہارات اور مواد کی اشاعت سے روکا جائے۔
  5. مخرب اخلاق ویڈیو سنٹر بند کیے جائیں، ڈش انٹینا کے بنانے، لگانے، درآمد کرنے اور استعمال کرنے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے۔

اصلاح جیل خانہ جات کے ضمن میں سفارشات کی گئی ہیں کہ:

  1. قیدیوں کے اخلاق اور دینی اصلاح کے لیے جیل میں مستند علمائے دین کا تقرر کیا جائے جو تبلیغ کا کام انجام دے سکیں۔
  2. جو مسلم قیدی صوم و صلوٰۃ اور اسلامی شعائر کے پابند ہوں اور قرآن مجید حفظ کریں تو ان کی قید کی مدت میں کمی کی جائے۔
  3. اسلام کے نظام حدود و تعزیرات کے مطابق سزائیں دی جائیں تاکہ جرائم کا خاتمہ ہو۔

معاشرتی اصلاحات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ:

  1. ملک میں اسلام کے نظام حسبہ یعنی احتساب کو رائج کیا جائے۔
  2. لسانی اور علاقائی تنظیموں پر پابندی عائد کی جائے۔
  3. مساجد کو مسلمانوں کی اجتماعی تقریبات کا مرکز و محور بنایا جائے۔
  4. عورتوں کو شرعی ستر و حجاب کا پابند بنایا جائے۔
  5. حکومت یہ اہتمام کرے کہ میراث میں عورتوں کو شرعی حصہ ملے۔
  6. فرمان امتناع شراب میں جو منشیات رکھی گئی ہیں ان کو فی الفور ختم کیا جائے۔

دفتری اصلاحات کے لیے تجویز پیش کی گئی ہے کہ:

  1. دفاتر میں نظام صلوٰۃ کو مؤثر بنایا جائے۔
  2. تمام سرکاری و غیر سرکاری تقریبات میں رقص و سرود اور خلاف شرع امور کو ممنوع قرار دیا جائے۔
  3. بیوروکریسی اور بالخصوص پولیس کی اصلاح کی جائے۔
  4. دفاتر میں خواتین کی سروسز کی مخلوط شکل میں حوصلہ شکنی کی جائے۔