سانحۂ پشاور اور قومی احتجاج

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ ستمبر ۲۰۱۳ء
اصل عنوان: 
مذاکرات ضروری ہیں

سانحہ پشاور پر احتجاج و اضطراب کا سلسلہ جاری ہے اور مسیحی کمیونٹی کے خلاف کی جانے والی اس المناک کاروائی کے خلاف ردِ عمل قومی احتجاج کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے جو ایک خوش آئند امر ہے۔ گزشتہ شب جیو ٹی وی کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں حامد میر صاحب کے ساتھ شرکت کا موقع ملا تو میں نے بشپ آف پشاور سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ صرف مسیحی کمیونٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک قومی سانحہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس ظلم و تشدد پر پوری قوم آپ کے ساتھ شریکِ غم ہے۔

یہ سانحہ جس میں دو خود کش حملوں کے نتیجے میں ۸۰ کے لگ بھگ مسیحی جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں، اس کے بارے میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ طالبان کے ساتھ مجوزہ مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش کا حصہ ہے اس لیے اس میں بیرونی ہاتھ کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں ہے۔ جبکہ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ مذاکرات نہ چاہنے والے کسی گروپ نے یہ کاروائی کی ہو لیکن جس نے بھی یہ کاروائی کی ہے اس نے مسیحی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور پاکستانی قوم کے ساتھ بھی ظلم کیا ہے اور یہ عمل اسلامی تعلیمات سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔

ایسی کاروائیوں کے حق میں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ڈرون حملوں کا رد عمل ہے اور انتقام کے طور پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ڈرون حملے پاکستان کی سرحدوں کو پامال کرنے اور قومی خود مختاری کو یرغمال بنائے رکھنے کے لیے عالمی استعمار کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ ان وحشیانہ حملوں میں سینکڑوں بے گناہ پاکستانی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ان حملوں کا سلسلہ حکومت پاکستان کے احتجاج کے باوجود مسلسل جاری ہے۔ لیکن کیا اس کے جواب میں غیر متعلقہ لوگوں بالخصوص پر امن شہریوں اور غیر مسلم اقلیتوں کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنانا درست ہے؟ اس سوال پر پاکستان کے دینی و علمی حلقے ایک سے زائد بار اپنے اجتماعی موقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ شرعاً اس کا کوئی جواز نہیں ہے، اور ہمارے اکابر اور ائمہ کی تعلیمات میں اس سلسلہ میں واضح تعلیمات و ہدایات موجود ہیں۔

امام سرخسیؒ نے ’’المبسوط‘‘ میں عباسی خلافت کے دور کا واقعہ لکھا ہے کہ خلیفہ ابو جعفر منصورؒ کا دمشق کی مسیحی کمیونٹی کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا اور اس معاہدہ پر عمل درآمد کی ضمانت کے لیے دونوں طرف سے کچھ افراد ایک دوسرے کی تحویل میں دیے گئے جن کے بارے میں طے ہوا کہ معاہدہ کی تکمیل تک ان کی تحویل میں رہیں گے۔ جبکہ معاہدہ میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اگر ایک طرف کے ضمانتیوں کو قتل کیا گیا تو دوسری طرف کے ضمانتیوں کو بھی قتل کیا جا سکے گا۔ اس دوران دمشق کے مسیحیوں نے خلیفہ کی طرف سے ان کی تحویل میں دیے گئے ضمانتیوں کو قتل کر دیا تو خلیفہ منصور عباسی نے اکابر علماء سے اس بات پر مشورہ کیا کہ کیا وہ بھی مسیحی ضمانتیوں کو قتل کر سکتے ہیں؟ اس پر امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ نے ارشاد فرمایا کہ ایسا کرنا شرعاً درست نہیں ہوگا اس لیے کہ:

  • ضمانتیوں کو قتل کرنے والی شرط اُن کی طرف سے بھی درست نہیں تھی اور آپ کی طرف سے بھی درست نہیں تھی اور ناجائز شرط کو پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔
  • اسلام کا قانون ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰی کوئی آدمی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ضمانتیوں کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے قصاص میں ان کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔
  • یہ ضمانتی خلیفہ کی تحویل میں ہیں اور انہیں امان حاصل ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

چنانچہ خلیفہ منصور عباسی نے حضرت امام ابو حنیفہؒ کے اس ارشاد پر مسیحی ضمانتیوں کو قتل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس لیے رد عمل اور انتقام کے طور پر پُر امن شہریوں بالخصوص غیر مسلم اقلیتوں کو بلا وجہ قتل کر دینا درست نہیں ہے اور ایسا کرنے والے کوئی بھی ہوں انہیں اپنے طرزِ عمل کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔

سانحۂ پشاور کے حوالہ سے دوسرا سوال عام طور پر یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس کے بعد مذاکرات کا کوئی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ اور کیا مذاکرات کی بساط لپیٹ کر ایسا کرنے والوں کو طاقت کے ذریعے کچل دینا ضروری نہیں ہے؟

یہ سوال کیپیٹل ٹاک میں بھی اٹھایا گیا جس پر میں نے عرض کیا کہ اگر یہ کاروائی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کسی بیرونی سازش کا حصہ ہے تو اس کا صحیح جواب ہی یہ ہے کہ اس حرکت کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کے عمل کو جلد از جلد آگے بڑھایا جائے اور اس سازش کو ناکام بنا دیا جائے۔ اور اگر خدانخواستہ طالبان کے کسی گروپ نے مذاکرات کے عمل کو ناپسند کرتے ہوئے یہ حرکت کی ہے تب بھی یہ ضروری ہے کہ طالبان کے جو گروپ مذاکرات کے حامی ہیں اور گفت و شنید کے ذریعہ مسئلہ حل کرنے پر رضامند ہیں انہیں اس کھاتے میں نہ ڈالا جائے اور دونوں میں فرق کیا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ عسکریت پسندوں کے مبینہ طور پر بیسیوں گروپ ہیں جو نہ سارے مذاکرات کے حامی ہیں اور نہ ہی سارے مخالف ہیں۔ ان میں ایسے عناصر یقیناً موجود ہوں گے جو عسکریت پسندی کی بجائے مذاکرات اور مفاہمت کے عمل کو ترجیح دیتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی قومی کانفرنس کی طرف سے مذاکرات کے لیے پیش رفت کے اعلان پر کالعدم تحریک طالبان کے مثبت رد عمل اور پشاور کے سانحہ سے لاتعلقی کے اعلان میں اس بات کے اشارے موجود ہیں انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور سب گروہوں کو ایک ہی زمرے میں شمار کرنے کی بجائے مذاکرات کے حامی گروپوں کو تلاش کرنا چاہیے اور ان کو مذاکرات کی میز پر لا کر انہیں سبوتاژ کرنے والی سازشوں کو ناکام بنا دینا چاہیے۔

البتہ اس حوالہ سے یہ بات سب سے زیادہ قابل تشویش ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کے بعض بیانات میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا جبکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی طرف سے بھی کہا گیا ہے کہ قومی کانفرنس کے بعد مذاکرات کے کسی عملی پروگرام کے سلسلہ میں وفاقی حکومت کی طرف سے اس سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی روڈ میپ سے اسے آگاہ کیا گیا ہے۔ بظاہر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مذاکرات میں پیش رفت کی ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں اور شاید اسی وجہ سے ابھی تک مذاکرات کا کوئی عملی پروگرام سامنے نہیں آرہا جو اس سلسلہ میں بے پرواہی اور غیر سنجیدگی کی غمازی کرتا ہے۔ ہماری رائے ہے کہ دونوں حکومتوں کو اس مسئلہ میں سیاست کاری سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ قومی مفاد کے لیے مشترکہ طور پر آگے بڑھنے کا راستہ نکالنا چاہیے۔ قوم انتہائی سنگین بحران سے دوچار ہے اور ایسے موقع پر سیاست کاری محب وطن سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتی۔